نئے صوبے؛ نقشے بدلیں گے، کیا مسائل بھی بدلیں گے؟ : اعجاز راہی

کسی بھی ملک کی سیاست میں کبھی کبھی ایسے سوال اچانک سر اٹھاتے ہیں جو بظاہر انتظامی ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر سیاست، معیشت، شناخت، اقتدار اور مستقبل کے کئی سوال چھپے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث بھی آج کل کچھ ایسی ہی کیفیت اختیار کرچکی ہے۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور دیگر ممکنہ انتظامی اکائیوں کا ذکر پھر سے سیاسی گفتگو کا حصہ ہے۔ ٹی وی اسکرینیں آباد ہیں، سیاسی جلسوں میں نعرے لگ رہے ہیں، بیانات جاری ہورہے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کے بہت سے مسائل کا حل شاید ایک نئے نقشے میں چھپا ہوا ہے۔

میں نئے صوبوں کے مطالبے کو یکسر رد کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ بعض علاقوں میں احساسِ محرومی حقیقی ہے، انتظامی فاصلے موجود ہیں اور یہ شکایت بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بڑے صوبوں کے دور دراز علاقوں کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ جنوبی پنجاب کے عوام کا یہ احساس بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ فیصلہ سازی کا بڑا حصہ لاہور میں مرتکز ہے۔ لیکن میرا سوال صرف اتنا ہے کہ کیا اس کا واحد حل نیا صوبہ ہے؟

ہمیں اس بحث کو جذبات سے نکال کر حقیقت کی زمین پر لانا ہوگا، کیونکہ صوبہ بنانا صرف نقشے پر ایک لکیر کھینچنے کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ ایک پوری نئی حکومتی مشینری پیدا ہوتی ہے۔ نئی اسمبلی، نئی کابینہ، نئے محکمے، نیا سیکریٹریٹ، نئی بیوروکریسی، نئی سرکاری عمارتیں، نئی مراعات اور نئے مستقل اخراجات۔ اس لیے اس معاملے کو صرف سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ قومی پالیسی کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ نیا صوبہ بنانا کوئی سادہ انتظامی فیصلہ نہیں۔ پاکستان کا آئین صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے ایک واضح اور مشکل آئینی راستہ مقرر کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت اس نوعیت کی تبدیلی کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی بھی کم از کم دو تہائی منظوری ضروری ہے۔اس کا مطلب بالکل واضح ہے۔ نئے صوبے ٹی وی ٹاک شو میں نہیں بنیں گے۔ کسی جلسے میں نعرہ لگانے سے نہیں بنیں گے۔ اخباری بیان سے نہیں بنیں گے۔ اگر واقعی یہ قومی ضرورت ہے تو اسے پارلیمنٹ کے ایوان میں آنا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ سیاسی قیادت کا امتحان بھی ہونا چاہیے۔ رانا ثناء اللہ ماضی میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں منظور ہونے والی قراردادوں کا حصہ رہے ہیں اور حالیہ ٹی وی گفتگو میں انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ ان قراردادوں کو دس سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اس لیے اب اگر اس عمل کو آگے بڑھانا ہے تو اسے نئے سرے سے آئینی اور پارلیمانی طریقے سے آگے بڑھانا ہوگا۔ یہ بات قابلِ غور ہے۔

اگر جنوبی پنجاب اور بہاولپور کا مطالبہ آج بھی سیاسی اور انتظامی طور پر درست سمجھا جاتا ہے تو پھر اسے دوبارہ پنجاب اسمبلی سے منظور کرایا جائے، قومی اسمبلی میں لایا جائے، سینیٹ میں بحث ہو اور قوم کے سامنے پورا مقدمہ رکھا جائے۔ یہ معاملہ ٹی وی اسٹوڈیوز سے نکل کر پارلیمنٹ کے فلور پر آنا چاہیے۔ کیونکہ قوموں کے مستقبل کے فیصلے ٹاک شوز میں نہیں، پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں۔

کیا محرومی کا علاج صوبہ ہے یا اختیار؟ نئے صوبوں کے حامیوں کی سب سے بڑی دلیل گورننس اور انتظامی سہولت ہے، اور یہ دلیل قابلِ فہم ہے۔ اگر حکومت عوام سے بہت دور ہو، اگر ایک عام شہری کو اپنے چھوٹے سے مسئلے کے لیے سینکڑوں میل کا سفر کرنا پڑے، اگر ترقیاتی فیصلے اس علاقے کے لوگوں کی ضرورت کے بجائے دارالحکومت کی ترجیحات کے مطابق ہوں تو احساسِ محرومی پیدا ہونا فطری ہے۔لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا کہ انتظامی محرومی اور صوبائی محرومی ایک چیز نہیں۔اگر مسئلہ یہ ہے کہ اختیار عوام سے دور ہے تو پھر ہمیں اختیار عوام کے قریب لانا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہر مرتبہ ایک نیا صوبہ بنایا جائے۔

بڑے صوبوں کے اندر مضبوط انتظامی یونٹس بنائے جاسکتے ہیں۔ ڈویژن اور اضلاع کو زیادہ اختیارات دیے جاسکتے ہیں۔ تحصیل کی سطح پر فیصلہ سازی منتقل کی جاسکتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر مقامی حکومتوں کو حقیقی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار دیا جاسکتا ہے۔دنیا میں اچھی حکمرانی کا راز صرف صوبوں کی تعداد میں نہیں، اختیار کی تقسیم میں ہوتا ہے۔

میرے نزدیک اس پوری بحث کا سب سے اہم اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے نئے صوبوں پر تو بہت گفتگو کی، مگر مقامی حکومت کو تقریباً بھلا دیا۔ آئین کا آرٹیکل 140-آ پہلے ہی کہتا ہے کہ صوبوں کو مقامی حکومت کا نظام قائم کرکے سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنا ہے۔ پھر ہم اس راستے پر کیوں نہیں چلتے؟ ایک عام شہری کو اپنی گلی کی صفائی، پانی، سیوریج، سڑک، پارک، بنیادی صحت یا مقامی ترقی کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف کیوں دیکھنا پڑتا ہے؟ اسے اپنے منتخب میئر، چیئرمین یا مقامی نمائندے سے جواب کیوں نہیں ملنا چاہیے؟ ہم نے مقامی حکومت کو جمہوریت کی نچلی سطح تو کہا، مگر اسے اختیار اور وسائل دینے سے ہمیشہ گریز کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صوبائی حکومتیں طاقتور ہوتی گئیں اور مقامی حکومتیں کمزور۔ اگر واقعی عوام کو مالی اور انتظامی ریلیف دینا ہے تو پہلے یہ تجربہ کیوں نہیں کیا جاتا کہ اختیار اور وسائل ضلعی اور مقامی سطح تک منتقل کرکے دیکھا جائے؟

اس بحث کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں مختلف اوقات میں نئے صوبوں کی حمایت بھی کرتی رہی ہیں اور بعض اوقات اس کے خلاف بھی کھڑی نظر آئی ہیں۔ اس کی وجہ صرف اصولی سیاست نہیں بلکہ سیاسی طاقت کا توازن بھی ہے۔ صوبہ صرف ایک انتظامی اکائی نہیں ہوتا۔ وہ ایک سیاسی طاقت کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ نیا صوبہ بنے گا تو نئی اسمبلی ہوگی، نئی نشستیں ہوں گی، نئی قیادت پیدا ہوگی، نئے سیاسی مراکز وجود میں آئیں گے اور وسائل کی تقسیم کا پورا نظام متاثر ہوگا۔ اسی لیے اس معاملے میں سیاسی جماعتوں کا رویہ ہمیشہ سادہ اور یکساں نہیں رہا۔ سندھ اسمبلی کی حالیہ قرارداد نے بھی اس بحث کی حساسیت واضح کردی ہے۔ سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی نقشے کا مسئلہ نہیں بلکہ صوبائی شناخت اور سیاسی جذبات سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔

یہاں میں ان تمام سیاسی قوتوں اور ان کے پسِ پردہ موجود ان تخلیق کاروں سے بھی ایک سنجیدہ سوال کرنا چاہتا ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ نئی صوبائی یا انتظامی اکائیاں بننے سے عوام کو مالی اور انتظامی ریلیف ملے گا۔ ممکن ہے ایسا ہو۔ لیکن اس کے برعکس ہونے کا اندیشہ بھی موجود ہے۔ اگر نئے صوبوں کی اسمبلیوں میں بھی وہی سیاسی جماعتیں، وہی سیاسی خاندان، وہی سیاسی کلچر اور بڑی حد تک وہی لوگ آکر بیٹھ گئے جو آج موجودہ صوبائی نظام کا حصہ ہیں، تو پھر صرف نقشہ تبدیل ہونے سے حکمرانی کیسے تبدیل ہوگی؟ بیوروکریسی بڑی حد تک وہی ہوگی، سیاسی مداخلت کے طریقے وہی ہوسکتے ہیں، ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات بھی سیاسی اثرات سے محفوظ رہنے کی ضمانت نہیں، اور کرپشن، اقرباپروری اور کمزور اداروں کا مسئلہ بھی اپنی جگہ موجود رہ سکتا ہے۔

اگر آج ہم موجودہ نظام کی خرابیوں کا ذمہ دار انہی سیاسی قوتوں کو سمجھتے ہیں تو ہمیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ نئی صوبائی اسمبلی میں بیٹھ کر یہی سیاسی قوتیں اچانک مختلف کیسے ہوجائیں گی؟یہی اصل سوال ہے۔ نیا صوبہ پرانے سیاسی کلچر کا نیا پتہ تو نہیں بن جائے گا؟ اگر نئے صوبے کے حامی اس سوال کا جواب دے سکیں تو ان کا مقدمہ مضبوط ہوگا۔

یہ سوال اس وقت شاید پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ پاکستان کی معیشت ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی جہاں ہم حکومتی اخراجات میں بڑی وسعت کو آسانی سے برداشت کرسکیں۔ چند سال پہلے ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے بال بال بچا، آئی ایم ایف کے پروگرام اور مالیاتی نظم و ضبط کی شرائط آج بھی ہماری معاشی پالیسی پر اثرانداز ہیں اور وفاقی حکومت خود اخراجات، قرضوں اور محصولات کے درمیان سخت توازن قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں بھی مجموعی مالیاتی خسارہ محدود رکھنے کے لیے صوبائی سرپلس کو باقاعدہ مالیاتی ہدف کا حصہ بنایا گیا ہے؛ تقریباً 1۔79 ٹریلین روپے کے صوبائی سرپلس کو مجموعی مالیاتی خسارے کے حساب میں شامل کیا گیا ہے۔

یہاں ایک نہایت بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ جب وفاقی بجٹ کے مالیاتی اہداف پورے کرنے کے لیے صوبوں سے سرپلس کی توقع رکھی جارہی ہے، اور آنے والے برسوں میں بھی مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت برقرار رہنے والی ہے، تو نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے مطلوبہ اضافی مالی وسائل کہاں سے آئیں گے؟ اگر صوبوں سے یہ توقع ہے کہ وہ اپنے اخراجات قابو میں رکھیں، سرپلس پیدا کریں اور قومی مالیاتی اہداف میں اپنا حصہ ڈالیں، تو پھر ایک ہی وقت میں متعدد نئے صوبے بنانے کے مالیاتی تقاضے کیا ہوں گے؟ہر نیا صوبہ صرف وزیراعلیٰ کا نیا دفتر نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ اسمبلی، سیکریٹریٹ، کابینہ، محکمے، سرکاری رہائش گاہیں، گاڑیاں، پولیس کا انتظام، نئی عمارتیں اور مستقل اخراجات بھی ہوں گے۔یہ سب کون برداشت کرے گا؟ وفاق؟ صوبے؟ قرض؟ یا پھر وہی محدود ترقیاتی بجٹ جس سے آج اسپتال، اسکول، سڑکیں اور روزگار کے منصوبے بننے ہیں؟ یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ موجودہ صوبوں کو اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے بھی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں اگر نئے صوبوں کے قیام سے ایک نئی مستقل انتظامی مشینری وجود میں آئے گی تو اس کی مالی پائیداری کا مکمل حساب پہلے سامنے آنا چاہیے۔

نئے صوبے کا مطالبہ صرف سیاسی نقشہ نہیں، ایک مکمل مالیاتی منصوبہ بھی مانگتا ہے۔یہ منصوبہ قوم کے سامنے آئے کہ نیا صوبہ اپنے انتظامی اخراجات کیسے پورے کرے گا، اس کے محصولات کے ذرائع کیا ہوں گے، این ایف سی پر اس کا کیا اثر ہوگا، وفاق اور موجودہ صوبوں پر اضافی بوجھ کتنا پڑے گا اور عوام کو ملنے والا مالی و انتظامی ریلیف اس اضافی خرچ سے کس طرح زیادہ ہوگا۔اس حساب کے بغیر نئے صوبوں کی بحث جذباتی ضرور ہوسکتی ہے، قومی پالیسی نہیں۔

ایک انگریزی اخبار نے اگست میں یہ خبر شائع کی کہ شاید 12 یا 32 صوبے بننے جا رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ زیادہ صوبے کبھی بہتر حکمرانی نہیں دے سکتے۔ ممکن ہے بعض علاقوں کے لیے نئی انتظامی اکائی واقعی زیادہ موزوں ہو۔ لیکن یہ فرض کرلینا کہ صوبہ چھوٹا ہوگا تو حکمرانی لازماً اچھی ہوجائے گی، درست نہیں۔ خراب نظام کو بارہ یا بتیس حصوں میں تقسیم کرنے سے بارہ یا بتیس اچھے نظام پیدا نہیں ہوتے۔ اگر ادارے کمزور ہیں تو چھوٹا صوبہ بھی کمزور ہوگا۔ اگر سیاسی مداخلت موجود ہے تو نئی اسمبلی بھی اس سے محفوظ نہیں ہوگی۔ اگر وسائل کی تقسیم شفاف نہیں تو نیا صوبہ بھی محرومی کا شکار ہوسکتا ہے۔ اگر مقامی حکومت بے اختیار ہے تو نیا صوبہ بھی عام آدمی کو اپنے دروازے پر اختیار نہیں دے گا۔ اس لیے اصل سوال صوبوں کی تعداد نہیں، حکمرانی کا معیار ہے۔

میری نظر میں اس وقت سب سے ضروری قدم یہ ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ ٹی وی پروگراموں اور عوامی اجتماعات سے نکال کر قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں بحث ہو۔ تمام جماعتیں اپنا مؤقف دیں۔ پنجاب اسمبلی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ آئینی ماہرین، معاشی ماہرین اور انتظامی ماہرین کو سنا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ نئے صوبوں کی ضرورت کہاں ہے، ان کی مالی استطاعت کیا ہوگی، این ایف سی پر کیا اثر پڑے گا، انتظامی اخراجات کتنے ہوں گے اور سب سے بڑھ کر عوام کو اس سے کیا حاصل ہوگا۔ اگر بحث کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ نئے صوبے واقعی بہتر حکمرانی کا راستہ ہیں تو پھر انہیں آئینی طریقے سے ضرور بنایا جائے۔ لیکن اگر معلوم ہو کہ اصل مسئلہ اختیارات کی مرکزیت ہے تو پھر صوبے بنانے کے بجائے انتظامی اکائیوں اور بلدیاتی اداروں کو مضبوط کیا جائے۔

میری ترجیح بہت سادہ ہے۔ پہلے مقامی حکومت کو مضبوط کیا جائے۔ اسے سیاسی اختیار دیا جائے۔اسے مالی وسائل دیے جائیں۔ اس کے انتخابات باقاعدگی سے ہوں۔ اس کی مدت محفوظ ہو۔ صوبائی حکومتیں اس کے فنڈز اپنے پاس رکھ کر اسے بے اختیار نہ کریں۔ ضلع کو اپنے مسائل حل کرنے کا اختیار ہو، شہر کو اپنی ترجیحات طے کرنے کا حق ہو اور عام شہری کو اپنے منتخب نمائندے سے جواب لینے کا موقع ملے۔ اسلام آباد سے اختیار صوبوں کو، صوبوں سے اضلاع کو اور اضلاع سے مقامی حکومتوں تک منتقل کیا جائے۔ اگر اس کے باوجود کسی علاقے کو محسوس ہو کہ اس کے مسائل موجودہ صوبائی ڈھانچے میں حل نہیں ہوسکتے تو پھر نئے صوبے کا مطالبہ پوری سنجیدگی سے زیرِ بحث آنا چاہیے۔لیکن فیصلہ سیاسی نعرے سے نہیں، قومی مفاد سے ہونا چاہیے۔

آخرکار ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم پاکستان کو نئے صوبوں سے مضبوط کرنا چاہتے ہیں یا مضبوط اداروں سے۔ نئے نقشے شاید انتظامی فاصلے کم کرسکتے ہیں، لیکن صرف نقشے بدلنے سے سیاسی کلچر نہیں بدلتا، ادارے مضبوط نہیں ہوتے اور عوام خوشحال نہیں ہوجاتے۔ اس لیے نئے صوبوں کے مطالبے کو نہ تعصب کے نام پر دفن کرنا چاہیے اور نہ اسے ہر مرض کی دوا سمجھنا چاہیے۔ اس پر کھلی، آئینی، پارلیمانی اور مالیاتی بحث ہونی چاہیے۔ اور اگر ہم واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس شخص کو ریلیف دینا ہوگا جو ہر روز اپنے معمولی سے کام کے لیے کسی بڑے شہر، بڑے افسر یا بڑے سیاسی دروازے کا محتاج ہے۔ کیونکہ ریاست کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے کتنے صوبے ہیں۔ریاست کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ اس کا عام شہری اپنے حق کے لیے کتنا کم محتاج ہے۔

اور آخر میں شاید پوری بحث کا خلاصہ ایک ہی جملے میں کیا جاسکتا ہے کہ آج کا بڑا صوبہ کل چھوٹے صوبوں میں تقسیم تو ہوجائے گا، مگر آج کے مسائل بھی انہی چھوٹے صوبوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اگر ہم نے ادارے نہ بدلے، حکمرانی کا طریقہ نہ بدلا اور اختیار واقعی عوام تک نہ پہنچایا تو کل ہمارے پاس شاید نئے صوبوں کے نئے نقشے ہوں گے، مگر عوام کے ہاتھ میں وہی پرانے سوال ہوں گے۔پاکستان کو نئے نقشوں سے زیادہ نئے نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading