عجب تماشا سا چل رہا ہے : جاوید ڈینی ایل

شہر کی سڑکیں روشن ہیں، بازاروں میں چہل پہل ہے، دکانوں کے شیشے جگمگا رہے ہیں اور اشتہارات ایک آسودہ زندگی کی تصویریں پیش کر رہے ہیں، مگر انہی روشنیوں کے درمیان ایسے گھر بھی ہیں جہاں اندھیرا صرف رات کے اترنے سے نہیں، حالات کے بگڑنے سے پھیلتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے گھر ہیں جو صبح امید لے کر مزدوری کی تلاش میں نکلتے ہیں اور شام کو خالی ہاتھ لوٹتے ہوئے اپنے بچوں کی آنکھوں سے نظریں چراتے ہیں۔

رحمت بھی انہی لاکھوں چہروں میں سے ایک تھا۔ عمر نے ابھی اسے بوڑھا نہیں کیا تھا، مگر حالات نے اس کے چہرے پر وقت سے پہلے تھکن لکھ دی تھی۔ وہ روزانہ مزدور چوک پہنچتا، کئی گھنٹے کھڑا رہتا اور کسی ٹھیکیدار یا دکاندار کی آواز کا منتظر رہتا۔ کبھی کام مل جاتا اور کبھی شام اس کے ہاتھ میں صرف انتظار تھما دیتی۔

اس روز بھی وہ خالی ہاتھ گھر پہنچا تو اس کا چھوٹا بیٹا دوڑ کر لپٹ گیا۔ ’’ابا! آج دودھ آیا ہے؟‘‘ رحمت چند لمحے خاموش رہا۔ پھر آہستہ سے بولا، ’’بیٹا… آج نہیں۔‘‘

بچے کا چہرہ بجھ گیا۔ وہ خاموشی سے ماں کے پاس جا بیٹھا۔ رحمت نے نظریں چرا لیں۔ ایک باپ کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اس کا بچہ کسی کھلونے، مہنگے لباس یا کسی آسائش کا مطالبہ نہ کرے، صرف ایک گلاس دودھ مانگے اور باپ وہ بھی نہ دے سکے۔

گھر میں آٹا ختم ہونے کو تھا۔ گھی کی قیمت نے باورچی خانے کا ذائقہ بدل دیا تھا۔ دودھ بچوں کے لیے ضرورت سے بڑھ کر ایک خواب بنتا جا رہا تھا۔ پٹرول مہنگا ہوا تو روزگار کی تلاش بھی مہنگی ہوگئی۔ بجلی کا بل ہاتھ میں آتا تو رحمت کے ہاتھ کانپنے لگتے۔ گیس کا بل الگ، سلنڈر کا خرچ الگ، موبائل پیکیج الگ، بچوں کی فیس، مکان کا کرایہ اور بیماری کی صورت میں دوا—آمدنی ایک، تقاضے بے شمار۔

یہ صرف رحمت کی کہانی نہیں۔ یہ ان بے شمار گھروں کی داستان ہے جہاں مہینے کی پہلی تاریخ امید بن کر آتی ہے اور آخری تاریخ قرض، ادھار اور بے بسی چھوڑ جاتی ہے۔ جہاں مائیں اپنی خواہشیں بچوں کی ضرورتوں کے نیچے دفن کر دیتی ہیں، باپ اپنی بیماری چھپا لیتے ہیں، نوجوان روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتے ہیں اور بزرگ اپنی دوائی کو بھی ’’بعد میں‘‘ پر ڈال دیتے ہیں۔

مہنگائی صرف اشیا کے نرخ نہیں بڑھاتی، یہ انسان کے اندر کا سکون بھی مہنگا کر دیتی ہے۔ جب آمدنی محدود ہو اور ضروریات مسلسل بڑھتی جائیں تو انسان ہر روز ایک نیا حساب لگاتا ہے۔ راشن لائے یا بجلی کا بل دے؟ بچے کی فیس ادا کرے یا گھر کا کرایہ؟ دوا خریدے یا چولہا جلائے؟

اسی مسلسل کشمکش میں ایک دن رحمت بھی ٹوٹنے لگا۔ رات گہری تھی۔ گھر کے سب افراد سو چکے تھے، مگر اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ وہ چھت کو تکتا رہا۔ ایک لمحے کے لیے ایک خطرناک خیال اس کے ذہن میں آیا کہ شاید اس اذیت سے نکلنے کا کوئی اور راستہ نہیں۔ مگر اسی لمحے اسے اپنے بچے کا معصوم چہرہ یاد آیا۔ وہ اٹھا، پانی پیا، بچے کے پاس گیا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دل ہی دل میں کہا؛
’’مجھے ٹوٹنا نہیں… مجھے تمہارے لیے جینا ہے۔‘‘

لیکن سوال صرف رحمت کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک باپ آخر کب تک اپنے بچوں کی خاطر اندر ہی اندر مرتا رہے گا؟ ایک مزدور کب تک اپنی محنت کے باوجود بنیادی ضروریات سے محروم رہے گا؟ اور ایک ریاست کب تک اپنے شہری کی مشکلات کو صرف اعداد و شمار کی زبان میں دیکھتی رہے گی؟ راقم الحروف (جاویدؔ ڈینی ایل) نے اپنی غزل کے ایک مطلعے میں اسی تماشے کی بات کی ہے آخر کب تک ۔۔۔ ؟
عجب تماشا سا چل رہا ہے
غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے

یہ شعر ہمارے معاشرتی منظرنامے کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں چہرے بہت ہیں، مگر سوال ایک ہی ہے: اگر ترقی کا سفر جاری ہے تو اس سفر میں غریب آدمی کہاں کھڑا ہے؟

حکومتوں کے اعلانات، معاشی منصوبے اور ترقی کے دعوے اپنی جگہ، مگر کسی بھی معاشی پالیسی کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کا اثر عام آدمی کے چولہے، گھر کے راشن اور بچوں کی تعلیم پر دکھائی دے۔ اگر مزدور دن بھر محنت کے بعد بھی اپنے گھر کا بنیادی خرچ پورا نہ کر سکے تو معاشی ترقی کے بڑے بڑے دعوے اس کے لیے محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اربابِ اختیار مہنگائی کو صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ سمجھیں۔ روزگار کے مواقع بڑھیں، مزدور کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، بنیادی اشیائے ضروریہ عام آدمی کی استطاعت میں رہیں اور بجلی، گیس، پٹرول، خوراک اور تعلیم جیسے بنیادی اخراجات اس حد تک نہ پہنچیں کہ ایک متوسط یا غریب گھرانہ زندگی کی دوڑ ہی سے باہر ہو جائے۔ راقم الحروف (جاویدؔ ڈینی ایل) کے یہ اشعار اسی معاشرتی زندگی کا نوحہ بیان کر رہے ہیں؛
ہر اِک منبر پہ بیٹھے ہیں یہاں حق بات کہنے کو
بھرے بازار میں سچ کا کوئی چہرہ نہیں ملتا
حکومت کے بڑے دعوے ہیں ہر اخبار کی زینت
غریبوں کو ابھی تک اُن کا حق پورا نہیں ملتا

اب وقت ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے اپنے دفاتر کی فائلوں سے نکل کر ان گھروں تک پہنچیں جہاں خالی برتن معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ انہیں وہ ہاتھ دیکھنے ہوں گے جو شہر تعمیر کرتے ہیں مگر اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل تعمیر نہیں کر پاتے۔

غریب کو خیرات نہیں، اپنی محنت کی پوری قیمت چاہیے۔ اسے وقتی تسلی نہیں، مستقل روزگار چاہیے۔ اسے وعدوں کی فہرست نہیں، عملی ریلیف چاہیے۔ اسے اعداد و شمار نہیں، زندگی گزارنے کا باعزت حق چاہیے۔کیونکہ ریاست کی اصل کامیابی بلند عمارتوں، بڑے منصوبوں اور اخباری دعووں سے نہیں، اس دن ثابت ہوگی جب رحمت کا بچہ رات کو یہ سوال نہ کرے کہ ’’ابا! آج دودھ آئے گا؟‘‘ بلکہ باپ پورے اطمینان سے جواب دے سکے؛ ’’ہاں بیٹا، آج بھی… اور کل بھی۔‘‘

تب شاید یہ تماشا ختم ہوگا، غریب کے ہاتھ ملنے کے بجائے اٹھیں گے—محنت کے لیے، تعمیر کے لیے، اور ایک بہتر زندگی کے لیے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading