عجب تماشا سا چل رہا ہے : جاوید ڈینی ایل

Views: 206 شہر کی سڑکیں روشن ہیں، بازاروں میں چہل پہل ہے، دکانوں کے شیشے جگمگا رہے ہیں اور اشتہارات ایک آسودہ زندگی کی تصویریں پیش کر رہے ہیں، مگر انہی روشنیوں کے درمیان ایسے گھر بھی ہیں جہاں اندھیرا صرف رات کے اترنے سے نہیں، حالات کے بگڑنے سے پھیلتا ہے۔ یہ ان لوگوں…

مزید پڑھیے

عجب تماشا سا چل رہا ہے : جاویدؔ ڈینی ایل

Views: 2,313 یہ غزل   تَحْتُ اللَّفْظ  سننے کے لئےسپیکر کے نشان پر کلک کیجئے شاعری: جاویدؔ ڈینی ایل    —-***—-تَحْتُ اللَّفْظ: ایوب جوزفؔ عجب تماشا سا چل رہا ہے غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے پنپ رہی ہے منافقت بھی عروج پستی میں ڈھل رہا ہے اِسی لیے تو وہ مر رہا ہے حسد کی…

مزید پڑھیے