غزل — کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے— شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

Views: 57 کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے رِدائے دُعا بھی بڑی چاہیے جو سوچوں کو جیون نیا بخش دے خیالوں کی اِک پھُل جھڑی چاہیے بگڑتی ہوئی نسلِ نو کے لیے حلیمی میں لِپٹی چھڑی چاہیے حقیقت یہی ہے کہ اِس دَور میں خُدا کی سِپر ہر گھڑی چاہیے مرے حکمراں کو خُوشی…

مزید پڑھیے

غزل — جس جس نے اپنی راہ میں کانٹے بچھائے ہیں— شاعر: روکس ریاضؔ

Views: 412 جس جس نے اپنی راہ میں کانٹے بچھائے ہیں منزل نصیب ہیں تو وہ سب یاد آئے ہیں کیا کچھ نہیں کیا ہے وفاؤں کے نام پر دِل کیا ہے رُوح پر بھی بہت زخم کھائے ہیں اس سمت سے گزر تو ہوا تھا بس ایک بار لگتا ہے اپنا آپ وہیں بھول…

مزید پڑھیے

غزل— آنکھیں، چہرہ، ہاتھ لئے پھرتا ہوں مَیں : نذیرقیصر

Views: 212 آنکھیں، چہرہ، ہاتھ لئے پھرتا ہوں مَیں کیا کیا اپنے ساتھ لئے پھرتا ہوں مَیں رنگوں کے انجان جزیروں کی چپ میں خوشبو کے نغمات لئے پھرتا ہوں مَیں گونج ہے میری چاپ میں عہدِ رفتہ کی کھوئے ہوئے لمحات لئے پھرتا ہوں مَیں ایک مسلسل دن ہے میری آنکھوں میں ایک مسلسل…

مزید پڑھیے

غزل- حالاتِ حاضرہ کا نوحہ: آسناتھ کنول

Views: 147 یہ شان بیچتے ہیں آن بان بیچتے ہیں بے ننگ و نام ہیں اپنا جہان بیچتے ہیں یہ نسلیں سُود کی مَد میں تمام ہو جائیں وہ حُسن و عشق کی ایسی دُکان بیچتے ہیں بہت ہی سادہ ہیں کچھ جانتے نہیں لیکن وصال و ہجر کا یہ سارا مان بیچتے ہیں تمہارے…

مزید پڑھیے

قلمِ ادب کی سخن کی کتاب بزمِ ضیا : ونسنٹ پیس عصیم

Views: 301 قلم ادب کی سخن کی کتاب بزمِ ضیا ہوا فروغِ سخن جلوہ گر قلم کا دیا اٹھان اِس کی عجب ہے کہ کر گئی حیران ہے سال بارہواں پر لطیف اس کی ادا سخن کی محفلوں پر جب خزاں کی شورش تھی بہار تازہ فروغِ سخن کا پھول کھلا لگایا جس نے یہ…

مزید پڑھیے

تمہیں حیرت ہوئی ہو گی یہ ممکن ہو گیا کیسے : سیمسن ثانؔی

Views: 350 تمہیں حیرت ہوئی ہو گی یہ ممکن ہو گیا کیسے دیے تھے رتجگے جس کو وہ آخر سو گیا کیسے لیے یہ داغ دامن کا پِھرا ہوں کُو بہ کُو یارو مری آنکھوں کا اِک ہی اشک اِس کو دھو گیا کیسے چھپایا تھا نہاں خانے میں جس کو عمر بھر میں نے…

مزید پڑھیے

کبھی عطا تو کبھی اِک بلا محبت ہے : وسیم جبران

Views: 427 کبھی عطا تو کبھی اِک بلا محبت ہے سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا محبت ہے عجیب درد ہے یہ میرا مسئلہ سن کر طبیب کہتا ہے اس کی دوا محبت ہے دوام کس کو ہے حاصل یہاں زمانے میں مِرے لیے تو یہ آب و ہوا محبت ہے کہا ہے تم…

مزید پڑھیے

کسی نے دُھوپ کو مٹھی میں بھر کے چھوڑ دیا : جمشید پیٹر

Views: 342 کسی نے دُھوپ کو مٹھی میں بھر کے چھوڑ دیا تمام   شہر کو سائے  میں  دھر  کے  چھوڑ  دیا مَیں  ایک  برگ  تھا،  موسم  کے  ہاتھ  بیچ  دیا شجر نے مجھ  کو بھی آخر بکھر کے چھوڑ دیا وہ  ایک  شخص جو خوشبو کی طرح رہتا  تھا مِرے  وجود  کو رنگوں سے بھر…

مزید پڑھیے

نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا : جاوید ڈینی ایل

Views: 220 غزل نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا کئی برسوں سے مل بیٹھے ، مگر لہجہ نہیں ملتا خلوصِ دل کی خوشبو تھی کبھی رشتوں کے گلشن میں مگر اِس دَور میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ملتا ہزاروں لوگ ملتے ہیں سفر میں عمر بھر لیکن کسی سے بھی طبیعت کا کوئی…

مزید پڑھیے

کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے : جاوید ڈینی ایل

Views: 678 کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے کہ وہ دِل گیر ہوتی جا رہی ہے مَیں حرفوں کو سمیٹے جا رہا ہوں تِری تصویر ہوتی جا رہی ہے کہانی اَن کہی تھی جو ہماری وہی تحریر ہوتی جا رہی ہے جو خوابوں میں رہی تصویر تیری وہی تعبیر ہوتی جا رہی ہے لبوں پر…

مزید پڑھیے