کبھی عطا تو کبھی اِک بلا محبت ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا محبت ہے
عجیب درد ہے یہ میرا مسئلہ سن کر
طبیب کہتا ہے اس کی دوا محبت ہے
دوام کس کو ہے حاصل یہاں زمانے میں
مِرے لیے تو یہ آب و ہوا محبت ہے
کہا ہے تم نے مگر ایک بار پھر سے کہو
سنا ہے مَیں نے کہ تم نے کہا محبت ہے
کوئی اُمید کبھی بھی کسی سے مت رکھنا
خدا سے مانگ لو سب کچھ خدا محبت ہے
ہزار رنگ ہیں اس کے تو صورتیں ہیں کئی
کسی بھی رنگ میں ہو دلربا محبت ہے
وہ چونک اُٹھا ہے جبرانؔ ! میرے شعروں پر
ہر ایک شعر پر اُس نے کہا محبت ہے
*******

