کیا ہم یسوع کو صرف ”ربّی“ مانتے ہیں یا ”خداوند“؟ : ڈاکٹر ایورسٹ جان

یہوداہ اسکریوتی کی شخصیت میں ایک نہایت گہرا اور معنی خیز روحانی پہلو یہ ہے کہ وہ یسوع کے بہت قریب رہنے کے باوجود اُس تعلق تک نہ پہنچ سکا جہاں انسان مسیح کو صرف استاد نہیں بلکہ اپنا خداوند تسلیم کرتا ہے۔ اناجیل میں ایک باریک مگر اہم فرق دکھائی دیتا ہے۔ آخری عشائیہ کے موقع پر جب یسوع نے فرمایا کہ شاگردوں میں سے ایک اُسے پکڑوائے گا تو شاگرد غمگین ہو کر ایک ایک کر کے پوچھنے لگے، اے خداوند، کیا میں ہوں؟ لیکن متی 26:25 میں جب یہوداہ کی باری آئی تو اُس نے کہا، اے ربّی، کیا میں ہوں؟ بعد میں گتسمنی میں جب وہ یسوع کو پکڑوانے کے لیے آیا تو پھر اُس کے الفاظ تھے، سلام اے ربّی، اور اُس نے بوسے کے ذریعے یسوع کی شناخت کرائی۔ اناجیل کے محفوظ بیانات میں ہمیں یہوداہ کی زبان سے یسوع کے لیے خداوند کا وہ شخصی اقرار نہیں ملتا جو دوسرے شاگردوں میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہوداہ کے لیے یسوع ایک ربّی، ایک استاد، ایک معلم تھا، لیکن اُس کی زندگی یہ ظاہر نہیں کرتی کہ اُس نے اپنے آپ کو مسیح کی خداوندی کے سامنے حقیقی طور پر سپرد کر دیا تھا۔

یہ بات ضرور واضح رہنی چاہیے کہ لفظ ربّی بذاتِ خود کوئی غلط یا توہین آمیز لفظ نہیں تھا۔ دوسرے شاگردوں نے بھی مختلف مواقع پر یسوع کو ربّی کہا۔ ربّی کا مطلب استاد یا معلم ہے، اور یسوع واقعی کامل معلم بھی تھا۔ مسئلہ لفظ ربّی میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ انسان مسیح کو صرف استاد کی سطح تک محدود کر دے۔ یسوع کو استاد ماننا نسبتاً آسان ہے۔ کوئی شخص اُس کی تعلیمات کی تعریف کر سکتا ہے، اُس کی محبت، معافی، رحم، خدمت اور اخلاقی تعلیم کو پسند کر سکتا ہے، مگر پھر بھی اپنی زندگی اُس کے اختیار میں نہ دے۔ ایک غیر مسیحی مفکر بھی یسوع کو عظیم استاد کہہ سکتا ہے، مگر مسیحی ایمان صرف یہاں تک محدود نہیں رہتا۔ مسیحیت کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ کیا یسوع ایک اچھا استاد تھا، بلکہ یہ ہے کہ کیا یسوع میرا خداوند ہے؟

ربّی سے ہم سیکھتے ہیں، لیکن خداوند کے سامنے ہم جھکتے ہیں۔ ربّی سے ہم کہتے ہیں کہ مجھے تعلیم دیجیے، لیکن خداوند سے ہم کہتے ہیں کہ میری زندگی آپ کی ہے۔ استاد ہماری سوچ کو متاثر کرتا ہے، مگر خداوند ہماری زندگی پر اختیار رکھتا ہے۔ اسی لیے نئے عہدنامے میں مسیحی ایمان کا مرکزی اقرار محض یہ نہیں کہ یسوع ایک عظیم معلم ہے، بلکہ یہ ہے کہ یسوع خداوند ہے۔ پولس رسول رومیوں 10:9 میں لکھتا ہے کہ اگر تُو اپنی زبان سے یسوع کے خداوند ہونے کا اقرار کرے اور اپنے دل سے ایمان لائے کہ خدا نے اُسے مردوں میں سے جلایا تو نجات پائے گا۔ یہاں نجات کا اقرار یسوع کی تعلیمات کی تعریف سے آگے بڑھ کر اُس کی خداوندی کے اعتراف تک پہنچتا ہے۔

توما کی مثال اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے۔ قیامت کے بعد جب اُس نے جی اُٹھے مسیح کو دیکھا تو اُس نے صرف یہ نہیں کہا کہ اے میرے استاد، بلکہ اُس نے کہا، اے میرے خداوند، اے میرے خدا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقی مسیحی ایمان پہنچتا ہے۔ یسوع صرف وہ نہیں جو ہمیں اچھی باتیں سکھاتا ہے، بلکہ وہ وہی ہے جس کے سامنے ہم اپنی زندگی، اپنی مرضی، اپنی خواہشات اور اپنے فیصلوں کو سپرد کرتے ہیں۔ تاہم صرف زبان سے خداوند کہنا بھی کافی نہیں۔ خود یسوع نے لوقا 6:46 میں فرمایا، جب تم میرا کہنا نہیں مانتے تو کیوں مجھے خداوند، خداوند کہتے ہو؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی خداوندی کا اقرار صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اطاعت سے ثابت ہوتا ہے۔

یہوداہ کا المیہ یہی تھا کہ وہ یسوع کے ساتھ رہا، اُس کے معجزات دیکھے، اُس کی تعلیم سنی، اُس کے ساتھ سفر کیا، اُس کے ساتھ کھانا کھایا، مگر قربت لازماً سپردگی میں تبدیل نہ ہوئی۔ وہ یسوع کے قریب تھا، مگر اُس کے دل کا تخت شاید کسی اور چیز کے قبضے میں تھا۔ یہی حقیقت آج بھی ہمارے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ ہم چرچ جا سکتے ہیں، بائبل پڑھ سکتے ہیں، مسیحی اصطلاحات استعمال کر سکتے ہیں، یسوع کی تعلیمات کے بارے میں بات کر سکتے ہیں اور اُس کی تعریف بھی کر سکتے ہیں، مگر پھر بھی اپنی زندگی کا حقیقی اختیار اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ مسیح کو خداوند ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اُس کی مرضی ہماری مرضی سے بلند ہو، اُس کی تعلیم ہماری پسند و ناپسند سے مقدم ہو، اور اُس کا کلام ہماری زندگی کے فیصلوں پر حاکم ہو۔

مسیحیت یسوع کو صرف ایک عظیم استاد، ربّی، مذہبی مصلح یا اخلاقی رہنما ماننے کا نام نہیں۔ مسیحیت یسوع مسیح کو خداوند ماننے کا نام ہے۔ فلپیوں دوسرا باب، دس اور گیارہ آیت میں پولس لکھتا ہے کہ” ایک دِن ہر گھٹنا یسوع کے نام پر جھکے گا اور ہر زبان اقرار کرے گی کہ یسوع مسیح خداوند ہے۔”
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہم یسوع کی کتنی تعریف کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اُس کے سامنے کتنا جھکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم اُس سے کتنی تعلیم حاصل کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اُس کے اختیار کو قبول کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وہ ہمارے لیے صرف ربّی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ہماری زندگی کا خداوند ہے۔ یہوداہ کے ہونٹوں پر ربّی تھا، مگر حقیقی شاگرد کے دل سے وہ اقرار نکلتا ہے جو توما نے کیا: اے میرے خداوند، اے میرے خدا۔ مسیح کو صرف اُستاد ماننا کافی نہیں؛ حقیقی شاگردی وہاں شروع ہوتی ہے جہاں انسان مسیح کے سامنے ایمان، اطاعت اور مکمل سپردگی کے ساتھ جھک جاتا ہے۔ اے ربّی یا اے خداوند؟

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading