پروفیسر ونسنٹ پیس عصیم صلیبی کا نیا شعری مجموعہ ’’لہر لہر گرداب‘‘ منظرِ عام پر آ گیا
لاہور (تادیب) — معروف شاعر و ادیب پروفیسر ونسنٹ پیس عصیم صلیبی کا چھٹا شعری…
Views: 127 لاہور (تادیب) — معروف شاعر و ادیب پروفیسر ونسنٹ پیس عصیم صلیبی کا چھٹا شعری مجموعہ ’’لہر لہر گرداب‘‘ حال ہی میں شائع ہو گیا ہے۔ یہ مجموعہ سیکولر شاعری پر مشتمل ہے، جو ان کے تخلیقی سفر میں ایک نئے ادبی اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مجموعہ کرن کرن روشنی پبلیشرملتان…
Views: 105 زندگی بظاہر سیدھی سڑک کا نام ہے، مگر اس کے پیچ و خم، موڑ، چڑھائیاں اور اُترائیاں اسے ایک ایسے سفر میں بدل دیتے ہیں جس کی منزل تو شاید ہماری نگاہوں میں ہوتی ہے، لیکن راستے کا علم ہمیشہ ہمارے پاس نہیں ہوتا۔ ہم اپنی خواہشوں کے نقشے بناتے ہیں، مستقبل کے…
Views: 24 کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے رِدائے دُعا بھی بڑی چاہیے جو سوچوں کو جیون نیا بخش دے خیالوں کی اِک پھُل جھڑی چاہیے بگڑتی ہوئی نسلِ نو کے لیے حلیمی میں لِپٹی چھڑی چاہیے حقیقت یہی ہے کہ اِس دَور میں خُدا کی سِپر ہر گھڑی چاہیے مرے حکمراں کو خُوشی…
Views: 131 قانون کا بنیادی مقصد معاشرے میں انصاف قائم کرنا، انسانی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور ہر شہری کو ظلم و ناانصافی سے بچانا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا؛ جرم کا تعین شواہد، منصفانہ سماعت اور عدالتی…
Views: 375 جس جس نے اپنی راہ میں کانٹے بچھائے ہیں منزل نصیب ہیں تو وہ سب یاد آئے ہیں کیا کچھ نہیں کیا ہے وفاؤں کے نام پر دِل کیا ہے رُوح پر بھی بہت زخم کھائے ہیں اس سمت سے گزر تو ہوا تھا بس ایک بار لگتا ہے اپنا آپ وہیں بھول…
Views: 188 آنکھیں، چہرہ، ہاتھ لئے پھرتا ہوں مَیں کیا کیا اپنے ساتھ لئے پھرتا ہوں مَیں رنگوں کے انجان جزیروں کی چپ میں خوشبو کے نغمات لئے پھرتا ہوں مَیں گونج ہے میری چاپ میں عہدِ رفتہ کی کھوئے ہوئے لمحات لئے پھرتا ہوں مَیں ایک مسلسل دن ہے میری آنکھوں میں ایک مسلسل…
Views: 125 یہ شان بیچتے ہیں آن بان بیچتے ہیں بے ننگ و نام ہیں اپنا جہان بیچتے ہیں یہ نسلیں سُود کی مَد میں تمام ہو جائیں وہ حُسن و عشق کی ایسی دُکان بیچتے ہیں بہت ہی سادہ ہیں کچھ جانتے نہیں لیکن وصال و ہجر کا یہ سارا مان بیچتے ہیں تمہارے…
Views: 268 قلم ادب کی سخن کی کتاب بزمِ ضیا ہوا فروغِ سخن جلوہ گر قلم کا دیا اٹھان اِس کی عجب ہے کہ کر گئی حیران ہے سال بارہواں پر لطیف اس کی ادا سخن کی محفلوں پر جب خزاں کی شورش تھی بہار تازہ فروغِ سخن کا پھول کھلا لگایا جس نے یہ…
Views: 274 یہ تحریر محض ایک فرد کی مالی مشکل کا ذکر نہیں کرتی بلکہ ہمارے مسیحی معاشرے کے اجتماعی رویّے پر ایک سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔ البتہ تنقید کرتے ہوئے کسی پورے فرقے، چرچ، پادری یا ادارے کو اجتماعی طور پر بدعنوان یا بے حس قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ بہتر ہے کہ…
Views: 231 پنجاب کا حلف اٹھانے کے بعد اقلیتوں کے حوالے سے دیے گئے جذباتی بیان— جس میں انہوں نے اقلیتوں کو”سر کا تاج” قرار دیا—نے ایک نئی امید جگائی تھی۔ تاہم، اقتدار کے ایوانوں سے نکلنے والے خوبصورت بیانات اور زمین پر موجود تلخ حقائق کے درمیان کا فاصلہ وقت کے ساتھ کم ہونے…