تمہیں حیرت ہوئی ہو گی یہ ممکن ہو گیا کیسے
دیے تھے رتجگے جس کو وہ آخر سو گیا کیسے
لیے یہ داغ دامن کا پِھرا ہوں کُو بہ کُو یارو
مری آنکھوں کا اِک ہی اشک اِس کو دھو گیا کیسے
چھپایا تھا نہاں خانے میں جس کو عمر بھر میں نے
میں انگشتِ بدنداں ہوں وہ مجھ سے کھو گیا کیسے
بڑی رنجُور تھی آنکھیں بہت مغمُوم سا دِل تھا
تِری محفل سے مت پوچھو کہ اُٹھ کر وہ گیا کیسے
رہا مزدُور کرتا کام دن بھر جو ، بنا اُجرت
بتا فرماں روا اتنا وہ پھر گھر کو گیا کیسے
ہمیشہ جس نے مٹّھی میں بھرے ہوں بیج نفرت کے
تِرے دِل میں بتا ثانؔی ! محبت بو گیا کیسے
*******

