غزل — کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے— شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

Views: 14 کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے رِدائے دُعا بھی بڑی چاہیے جو سوچوں کو جیون نیا بخش دے خیالوں کی اِک پھُل جھڑی چاہیے بگڑتی ہوئی نسلِ نو کے لیے حلیمی میں لِپٹی چھڑی چاہیے حقیقت یہی ہے کہ اِس دَور میں خُدا کی سِپر ہر گھڑی چاہیے مرے حکمراں کو خُوشی…

مزید پڑھیے

غزل — جس جس نے اپنی راہ میں کانٹے بچھائے ہیں— شاعر: روکس ریاضؔ

Views: 356 جس جس نے اپنی راہ میں کانٹے بچھائے ہیں منزل نصیب ہیں تو وہ سب یاد آئے ہیں کیا کچھ نہیں کیا ہے وفاؤں کے نام پر دِل کیا ہے رُوح پر بھی بہت زخم کھائے ہیں اس سمت سے گزر تو ہوا تھا بس ایک بار لگتا ہے اپنا آپ وہیں بھول…

مزید پڑھیے

تمہیں حیرت ہوئی ہو گی یہ ممکن ہو گیا کیسے : سیمسن ثانؔی

Views: 340 تمہیں حیرت ہوئی ہو گی یہ ممکن ہو گیا کیسے دیے تھے رتجگے جس کو وہ آخر سو گیا کیسے لیے یہ داغ دامن کا پِھرا ہوں کُو بہ کُو یارو مری آنکھوں کا اِک ہی اشک اِس کو دھو گیا کیسے چھپایا تھا نہاں خانے میں جس کو عمر بھر میں نے…

مزید پڑھیے

کبھی عطا تو کبھی اِک بلا محبت ہے : وسیم جبران

Views: 416 کبھی عطا تو کبھی اِک بلا محبت ہے سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا محبت ہے عجیب درد ہے یہ میرا مسئلہ سن کر طبیب کہتا ہے اس کی دوا محبت ہے دوام کس کو ہے حاصل یہاں زمانے میں مِرے لیے تو یہ آب و ہوا محبت ہے کہا ہے تم…

مزید پڑھیے

کسی نے دُھوپ کو مٹھی میں بھر کے چھوڑ دیا : جمشید پیٹر

Views: 330 کسی نے دُھوپ کو مٹھی میں بھر کے چھوڑ دیا تمام   شہر کو سائے  میں  دھر  کے  چھوڑ  دیا مَیں  ایک  برگ  تھا،  موسم  کے  ہاتھ  بیچ  دیا شجر نے مجھ  کو بھی آخر بکھر کے چھوڑ دیا وہ  ایک  شخص جو خوشبو کی طرح رہتا  تھا مِرے  وجود  کو رنگوں سے بھر…

مزید پڑھیے

سایہ دیں ہم یا ثمر کاٹ دیئے جاتے ہیں : ڈاکٹر عادلؔ امین

Views: 1,871 سایہ  دیں  ہم   یا  ثمر  کاٹ   دیئے  جاتے   ہیں ہم بھی  کیسے  ہیں شجر! کاٹ دیئے  جاتے  ہیں جب  فصاحت، نہ بصیرت، نہ بصارت ہے  یہاں اِس   لئے  اہلِ   نظر   کاٹ   دیئے   جاتے   ہیں ہم  برابر کے ہیں  شہری  تو  بتا  دے  کیوں  کر جان    کر   غیر    بشر    کاٹ   …

مزید پڑھیے