کسی نے دُھوپ کو مٹھی میں بھر کے چھوڑ دیا
تمام شہر کو سائے میں دھر کے چھوڑ دیا
مَیں ایک برگ تھا، موسم کے ہاتھ بیچ دیا
شجر نے مجھ کو بھی آخر بکھر کے چھوڑ دیا
وہ ایک شخص جو خوشبو کی طرح رہتا تھا
مِرے وجود کو رنگوں سے بھر کے چھوڑ دیا
وہ ایک لمحہ جو صدیوں پہ تھا محیط کبھی
نگاہِ شوق سے پَل میں گزر کے چھوڑ دیا
دیارِ درد میں جمشیدؔ ! تم نے بھی دل کو
چراغِ شام کیا، سحر کر کے چھوڑ دیا
*******
کسی نے دُھوپ کو مٹھی میں بھر کے چھوڑ دیا : جمشید پیٹر

