نیکی کی وصیت : روبنسن سیموئیل گِل

چودھری عنایت اللہ کے اعلان کے مطابق رقم تو اب دس لاکھ تک پہنچ چکی تھی مگر گاؤں کا کوئی شخص بھی اتنا دلیر نہ تھا کہ یہ انعامی رقم لے سکتا۔ ملنگ جان عرف ملنگی کے شاطر دماغ میں ایک منصوبہ آ ہی گیا۔ اس طرح اسے رقم بھی مل جانی تھی اور چودھری کا مسئلہ بھی حل ہو جانا تھا۔
چودھری عنایت اللہ کی صحت دن بدن گرتی چلی جا رہی تھی۔ گھنے درختوں کی چھاؤں میں چارپائیوں پر بیٹھے اس کے مزارعوں میں سے بھی اب تک کسی نے حامی نہ بھری تھی۔چودھری لاغر سی آواز میں اپنے منشی کو مخاطب کر کے بولا؛
‘‘ہاں جی، منشی جی کیا کوئی بھی اب تک نہیں مانا، حالاں کہ اب تو رقم بھی اچھی خاصی ہے۔’’
‘‘چودھری صاحب، وہ۔۔۔وہ۔۔۔ یہاں گاؤں والے تو خواہ مخواہ ڈرے ہوئے ہیں۔ سبھوں کو وہم ہے کہ ایک گردہ نکالا تو جان چلی جائے گی۔’’
منشی کی بات سن کر چودھری مصنوعی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا: ’’منشی اگر تجھے پتا ہے کہ گردہ دینے سے جان نہیں جاتی تو تُو ہی ہمت کر لے۔ چل آج میں رقم بھی دس سے بارہ لاکھ کر دیتا ہوں۔۔۔بھلا جان چلی جائے تومیں نے اس روپے پیسے کا کیا کرنا‘‘۔
چودھری کی بات سن کر پہلے تو منشی کا دل کانپ گیا مگر بارہ لاکھ کا سن کر نہ صرف اس کی بلکہ وہاں چارپائیوں پر بیٹھے اکثر گاؤں والوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ منشی کچھ بولنے ہی والا تھاکہ ملنگی اٹھ کھڑا ہوا اور بڑے پر اعتمادانداز میں کہنے لگا؛
‘‘چودھری صاحب، آپ کا مسئلہ حل ہو گیا۔’’
سب کے سب اس کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے اب ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے کہ ملنگی جو ایک نمبر کا ہڈ حرام اور بس ڈینگیں مارتے رہنے والا بندہ ہے بھلا وہ اتنا بڑا اور دلیرانہ کام کہاں کرسکے گا۔ ’’کیوں ملنگی تو گردہ دینے کے لیے تیار ہے؟“ منشی نے پوچھا
‘‘چودھری صاحب مجھے ایک لاکھ روپے بیعانہ دیں۔ سمجھیں آپ کا کام ہو گیا۔’’
‘‘نہ،نہ،نہ تو چودھری کو بچہ سمجھتا ہے کیا ہم سب کوتیرا پتا نہیں۔ تو یہ رقم لے کر بھاگ جائے گا۔’’
منشی کی بات سنتے ہی چودھری نے اسے ٹوکا اور کہا: ”منشی ملنگی کو ابھی اسی وقت ایک لاکھ روپے دے دے۔ ہمیں اس کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے‘‘۔
ملنگی جس کا گلا کچھ دیر پہلے خشک ہو گیا تھا یک دم خوش ہو گیا۔
‘‘چودھری صاحب آپ نے مجھ پر بھروسا کیا، میں آپ کے لیے کل ہی گردے کا انتظام کر دوں گا۔ باقی پیسے کام ہونے کے بعد۔’’
گاؤں والے حیران تھے کہ ملنگی ایک ہی دن میں کون سا بندہ لے کر آئے گااوربندہ تیار کیسے کرے گا۔ بعض نے سوچا کہ ہو سکتا ہے ملنگی اپنی بیوی سے اجازت لے کر اسے قائل کر کے خود اپنا ہی گردہ دے دے گامگر ایسا نہ ہوا۔
اگلے روزملنگی صادق کی گدھا گاڑی پر اس کے ہمراہ چودھری کے ڈیرے پر آموجود ہوا۔ اسے صادق سے چڑ تھی کیوں کہ وہ ہر ایک کے کام آتا اور خوب محنتی تھا۔ اپنی گدھا گاڑی پر وہ عموماً گاؤں کے مختلف خاندانوں کے لیے مٹی ہی ڈھوتا تھا۔ وہ تو اس گاؤں میں کبھی کبھی آتا تھا مگر ملنگی کے رشتے دار صادق کے پڑوس میں ہی رہتے تھے۔ صادق کی دیانت داری اور دوسروں کے کام آنے والا روّیہ نہ صرف اس کے اپنے گاؤں بلکہ اردگرد کے دیہاتوں میں بھی مشہور تھا۔ ملنگی نے صادق کو خوب تحریک دی اور اسے قائل کر لیا کہ نیکی کے اس کام میں بالکل بھی دیر نہ کی جائے۔
ملنگی نے یہاں تک صادق کو بتا دیا کہ چودھری اس کے عوض دس لاکھ روپے بھی دے گا۔
صادق بولا: ”لو بھلا اگر پیسے لے کر ہی نیکی کرنی ہے تو یہ نیکی تو نہ ہوئی‘‘۔
ملنگی کے لیے یہی سنہری موقع تھا کہ وہ دو لاکھ کی بجائے کسی طریقے سے سارے کے سارے پیسے ہی وصول کر لے اور گردہ بھی صادق کا ہی ہتھیا لے۔ اس طرح سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ملنگی نے گاؤں والوں کے سامنے با آوازبلند کہا: ”لیں چودھری صاحب میں اپنے وعدے کے مطابق اپنے دوست صادق کو لے آیا ہوں اب آپ دیکھ لیں کہ اسے کب لاہور میں بڑے ہسپتال لے کر جانا ہے‘‘۔
صادق واقعی بڑا غریب تھا۔ آٹھ افراد پر مشتمل خاندان میں کمائی کر کے لانے والے دو لوگ ہی تھے ایک صادق خود اور ایک اس کا گدھا، جو اب رفتہ رفتہ بوڑھا ہو رہا تھا۔
صادق نے بولنا شروع کیا تو سب اس کی جانب متوجہ ہو گئے۔
”چودھری صاحب، مَیں آپ کو اپنا گردہ دینے کے لیے تیار ہوں مگر پیسہ میں ایک بھی نہ لوں گا۔“یہ بات سب گاؤں والوں کے لیے ہضم کرنا قدرے مشکل تھا۔ خود چودھری عنایت اللہ بڑا حیران تھا کہ آخر کوئی شخص اتنا نیک اور دریادل بھی ہوسکتا ہے۔
صادق اپنے وعدے کا پکا تھا۔ اس نے وعدہ کیا کہ چودھری صاحب جب بھی اسے شہر کے بڑے ہسپتال میں آپریشن کے لیے لے جانا چاہیں وہ تیار ہو گا۔
کچھ عرصے سے چودھری صاحب شہر اپنے گردے دھلوانے یعنی ڈائیلاسسز کے لیے جاتے تھے۔ اَب ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ مشکل ہے کہ اِسی طرح کام چلے ہمیں فوری طور پر گردہ تبدیل کرنا ہوگا اور یہ سب کچھ لاہور میں جا کر ہوگا۔
اگلے ایک دو روز میں ملنگی نے چودھری کو قائل کر لیا اور کہنے لگا:”چودھری صاحب، صادق جذبات میں آ کر یوں کہہ گیا کہ مفت ہی گردہ دے دے گا حالاں کہ اُس کے خاندان کو تو بڑے پیسے کی ضرورت ہے۔ اُس نے کہا ہے کہ وہ گردہ بھی دے دے گا اور پیسے بھی لے گا مگر اب سب گاؤں والوں کے سامنے اس نے لینے سے انکار کر دیا ہوا ہے تو اس بے چارے کا بھرم بھی رکھ لیجیے گا اوراس سے پیسوں کی بالکل بھی بات نہ کیجیے گا۔“
نہ صرف اپنے گاؤں میں بلکہ چودھری عنایت اللہ اور قریبی دیہاتوں میں صادق کی نیکی اور بہادری کے چرچے ہونے لگے۔ ملنگی نے تو حسد میں اسے پھنسایا اور اس کا خیال تھا کہ یہ اب اگر گردہ عطیہ کر سکا تو شاید آپریشن کے دوران مر جائے اور اگرعطیہ نہ کر سکا تو بدنام اور بے عزت توضرور ہو گا۔
آخر کار صادق تک پیغام پہنچ گیا کہ صبح گاؤں کے باہر مرکزی سڑک والے پل سے اسے چودھری صاحب اپنی پجارو میں بٹھا کر خود لاہور لے جائیں گے اور سب کچھ خود اپنی نگرانی میں کروائیں گے اور صادق کی خوراک کا بھی خصوصی طور پر بندوبست کریں گے۔
صادق صبح صبح نہا دھو کر صاف ستھرے سفید شلوار قمیص میں ملبوس پل پر پہنچ گیا۔وہ پورے دل سے اس خدمت کے لیے تیار تھا۔ سچ تو یہ تھا کہ اسے کسی قسم کا کوئی لالچ بھی نہ تھا وہ واقعی پوری نیک نیتی سے نیکی کا یہ کام کرنے جا رہا تھا، یہ جانتے ہوئے کہ اجر دینے والی خدا کی ذات ہے۔
کافی انتظار کے بعد دور سے چودھری کی پجاور دھول اڑاتی دکھائی دی۔ چند لمحوں میں گاڑی صادق کے پاس آکررکی اور پچھلادروازہ کھل گیا۔ وہ سلام دعا کے بعد گاڑی میں براجمان ہوتے ہوئے بولا: ”چودھری صاحب، چلیں…مَیں تو وقت سے پہلے ہی آ گیا تھا۔“
عجیب بات تھی کہ صادق کے لیے یہ کام بالکل بھی مشکل نہ تھا وہ رتی برابر بھی گھبرایا ہوا نہ تھا۔ چودھری نے صادق کو شاباش دیتے ہوئے کہا: ”صادق میاں تم تو بہت ہی بہادر نکلے۔آج کل کے دور میں تو اپنے بھی یوں کسی کے کام نہیں آتے، تمہارا بہت شکریہ۔“
’’چودھری صاحب کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ بات اپنوں کی نہیں ہوتی۔ انسان ہوتے ہوئے ہمیں تو سبھوں کے کام آنا چاہیے،ہمیں اپنے پڑوسی سے ویسے ہی محبت کرنی چاہییے جیسے ہم خود سے کرتے ہیں۔“گاڑی حرکت میں آ چکی تھی۔
چودھری صاحب مسکراتے ہوئے بولے: ”مگرمیں تو تمہارا پڑوسی بھی نہ تھا، تمہیں جانتا تک نہ تھا‘‘۔
”نہ، نہ چودھری صاحب آپ میرے پڑوسی گاؤں کے تو ہیں اور ویسے بھی پڑوسی کو ہم سایہ بھی کہا جاتا ہے یعنی جن کا سایہ ایک ہی ہو تو اب بھی ہم اکٹھے سفر کرتے ہوئے ایک دوسرے کے پڑوسی ہوئے، کیا فائدہ اگر ہم خدا سے محبت کا دعویٰ کرتے ہوں جو دکھائی بھی نہیں دیتا اور انسان جو اسی خدا نے بنائے ہیں، ان کے دکھ، ان کی مصیبتیں ہمیں دکھائی بھی دیں اور ہم ان سے محبت نہ کریں، ان کے کام نہ آئیں۔
‘‘یار صادق تم مٹی ڈھوتے ہو مگر باتیں اتنی دانائی کی کرتے ہو۔’’
‘‘بس جی چودھری صاحب میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھتا ہوں…اُس کا خوف ہی دانائی کا شروع ہے۔’’
چودھری عنایت اللہ،صادق کی باتوں سے مرعوب ہو گیا مگر پیسوں کے متعلق پوچھنا یا بات کرنا مناسب نہ جانا کہ ملنگی نے منع کر رکھا تھا۔
اسی دوران چودھری کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ منشی نے فون سنا اور پھر چودھری صاحب سے بات کروائی۔ فون بند کرتے ہی چودھری بولا: ”یار گاڑی واپس موڑو، شہر کے حالات خراب ہیں، کوئی دھرنے شرنے چل رہے ہیں۔ہسپتال والوں نے کہا ہے کہ کل آئیں‘‘۔“
آخر کار صادق سے معذرت کرتے ہوئے اسے اس کے گاؤں اتارا اور کل صبح پھر اسی وقت پر، وہیں پل پر آنے کا کہا۔ چودھری نے صادق کے خستہ حال اور کچے مکان کی حالت دیکھی تو اسے بڑا ترس آیا۔اس نے صادق کو لفافہ پکڑایا جس میں پچاس ہزار روپے تھے۔
‘‘صادق یار یہ رکھ لے تیری تو آج دیہاڑی بھی ضائع گئی۔’’
صادق یک دم جذباتی ہو گیا: ”چودھری صاحب کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ میری نیکی کو ضائع نہ کریں جب میں نے کہہ دیا تھا کہ میں پیسوں کے لیے یہ کام نہیں کروں گاتو پھر آپ کیوں اصرار کرتے ہیں‘‘۔
چودھری عنایت اللہ وہاں سے روانہ ہوا تو منشی سے گفتگو کرتا رہا وہ صادق کو مل کر اور اس کے روّیے سے بہت حیران تھا۔ اُسے ملنگی کی شرارت کی بھی سمجھ آرہی تھی۔
اگلی صبح صادق اسی طرح تیار ہو کر پل پر پہنچ گیا۔ پجارو آگئی مگر اس میں چودھری صاحب نہ تھے، صرف منشی ہی تھا گاڑی واپس چودھری کے گاؤں کی جانب روانہ ہوگئی۔
‘‘چودھری صاحب کدھر ہیں اور ہم واپس گاؤں کیوں جا رہے ہیں؟’’
منشی نے کوئی جواب نہ دیا۔صادق کو بھی کچھ کچھ سمجھ میں آرہا تھا۔ گاؤں میں داخل ہوئے تو چودھری کے احاطے میں چارپائیوں پر بے شمار لوگ رنجیدہ غمگین بیٹھے تھے۔ منشی بولا: ”چودھری صاحب آج صبح اللہ کو پیارے ہو گئے‘‘۔
‘‘صادق کی آنکھیں پرنم ہو گئیں۔”کاش میں پہلے ان کی مدد کے لیے آجاتا
نہیں، نہیں اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا۔ اللہ تمہاری نیت کو جانتاہے اور ہاں تمہاری نیکی بھی ضائع نہیں گئی‘‘۔’’
کچھ ہی دیر میں عنایت اللہ کا چھوٹا بھائی صادق کو یوں گلے ملا جیسے پرانا رشتے دار ہو۔ ”صادق صاحب میرے بڑے بھائی رات گئے تک آپ کی باتیں کرتے رہے تھے اور آپ کو ڈھیروں دعائیں دیتے رہے۔ ملنگی کو تو انھوں نے کل شام کو ہی سیدھا کر دیا تھا‘‘۔
صادق بولا: ”اچھا اس نے کیا کیا تھا‘‘؟
منشی بولا: ”کچھ نہیں، کچھ نہیں‘‘۔
چھوٹے چودھری صاحب بھی بات سمجھ گئے۔ صادق نے جنازے میں بھرپور شرکت کی۔
چھوٹے چودھری صاحب بولے، ”میرے بڑے بھائی چودھری عنایت اللہ نے آخری بات یہی کہی تھی کہ صادق میاں کو ساری رقم ضرور دے دینا۔ وہ خود ضرورت مند ہے مگر اس نے میری ضرورت کا خیال رکھا‘‘۔
صادق بولا: ”میری نیکی ضائع نہ کریں‘‘۔
منشی نے جواب دیا، ”ہاں صادق اللہ تعالیٰ نے تمہاری نیکی ضائع نہیں جانے دی اب تم بھی چودھری صاحب کی نیکی کی وصیت کو ضائع نہ جانے دو‘‘۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading