آج جنگ شروع ہوئے تیسرا دن تھا۔لاہور چھاؤنی پر خوف ایک مستقل موسم کی طرح اتر آیا تھا۔ رات بھر شدید گولہ باری ہوتی رہی تھی۔ سرکاری کوارٹروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر فرش پر بکھر چکے تھے اور دیواروں پر بارود کی بو نے اپنا راج جما لیا تھا۔ مورچے کے مکین خوف و ہراس کے بحرِ قلزم میں غوطہ زن تھے۔ ہر دھماکے کے ساتھ دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں اور ہر سناٹے میں کسی نئے خطرے کا اندیشہ جنم لیتا۔عورتیں بچوں کو سینوں سے لگائے بیٹھی تھیں، بوڑھے زیرِ لب دعائیں مانگ رہے تھے اور جوان مرد خاموش نگاہوں سے مورچے کے دہانے کو تک رہے تھے۔ان سب کے درمیان مائی دانی اپنے مخصوص سکون کے ساتھ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔اس کی بوڑھی آنکھوں میں ماضی کی دلہن سولہ سنگھار کیے اپنے وجود کا احساس دلا رہی تھی۔ یادوں کی سجیلی کہکشاں میں دانی ایک نوخیز اور خوبرو دلہن بنی مسکرا رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں کی مہندی ابھی پوری طرح پھیکی نہ پڑی تھی، چوڑیوں کی جھنکار ابھی نئی تھی اور خواب ابھی حقیقت کی دہلیز پر دستک دے رہے تھے۔کمرہء عروس میں زرد روشنی کے ہالے پھیلے ہوئے تھے۔ دانی کا شوہر نور بخش محبت بھری نگاہوں سے اس کے حسن پر نثار ہو رہا تھا۔ باہر رات اپنے سیاہ پروں کو پھیلا رہی تھی اور اندر دو دھڑکنیں محبت کے نئے سفر کی بنیاد رکھ رہی تھیں۔ جگمگاتی روشنیاں دھیرے دھیرے مدھم ہوتی گئیں اور جذبات کی دھیمی دھیمی آنچ شعلوں میں ڈھل گئی۔
نور بخش پاک فوج میں سپاہی تھا۔فوجی ملازمت کی وجہ سے اس کے تبادلے مختلف علاقوں میں ہوتے رہتے تھے۔ شادی کے چند ہی روز گزرے تھے کہ اس کی یونٹ کا تبادلہ مشرقی پاکستان ہو گیا۔ نور بخش کے آگے پیچھے کوئی نہ تھا اور دانی کے سر پر بھی ایک بوڑھے نانا کے سوا کسی کا سایہ نہ تھا، اس لیے وہ دانی کو اپنے ساتھ ڈھاکہ لے آیا۔ڈھاکہ بارشوں میں بھیگا ہوا شہر، نمی میں لپٹی ہوئی شامیں اور دریا کے کناروں پر بکھری ہوئی خاموش رومانیت۔ ان دنوں دانی کی زندگی محبت کے رنگوں سے لبریز تھی۔ شام ڈھلے جب سورج اپنی کرنیں سمیٹتا تو وہ اور نور بخش دریا کے کنارے دیر تک بیٹھے رہتے۔ پانی کی لہروں میں اُنہیں اپنے آنے والے کل کے خواب جھلملاتے دکھائی دیتے۔پھر ایک دن قدرت نے ان کی محبت کی گود میں ایک چاند سا بیٹا ڈال دیا۔نور بخش نے اذان دیتے ہوئے اس کا نام عطا بخش رکھا۔بچے کی آمد سے گھر میں بہار اتر آئی۔ دانی دن بھر اسے سینے سے لگائے رکھتی اور نور بخش ہر شام گھر لوٹتے ہی اسے بانہوں میں بھر لیتا۔وقت گزرتا چلا گیا۔موسم بدلتے رہے، سال بیتتے رہے۔پھر ایک شام نور بخش گھر آیا تو اس کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔
”دانی، اگلے مہینے ہماری یونٹ کا تبادلہ کوئٹہ ہو رہا ہے۔“ دانی نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ فوجی کی بیوی کے نصیب میں سفر بھی لکھا ہوتا ہے اور انتظار بھی۔سامان باندھنے میں اس کی سب سے زیادہ مدد اس کی پڑوسن للیتا نے کی۔ للیتا ہندو تھی، مگر دونوں عورتوں کے درمیان محبت اور خلوص کا ایسا رشتہ قائم ہو چکا تھا جو مذہب کی سرحدوں سے کہیں بلند تھا۔
رخصت کے وقت دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر رو پڑی تھیں۔طویل سفر کے بعد وہ کوئٹہ پہنچ گئے۔یہاں کے فوجی کوارٹر کشادہ اور ہوا دار تھے۔ دور دور تک پھیلے پہاڑ، ٹھنڈی ہوائیں اور برف سے ڈھکی چوٹیاں ایک الگ ہی دنیا کا منظر پیش کرتی تھیں۔ عطا بخش کو فوجی سکول میں داخل کرا دیا گیا۔زندگی ایک بار پھر اپنی روانی میں بہنے لگی۔ موسم اپنی کروٹیں بدلتے رہے۔ بہاریں آئیں، خزائیں گزریں، درختوں پر نئے پتے اُگے اور پھر جھڑتے رہے۔ فوجی کالونی کی گلیوں میں کھیلنے والا ننھا عطا بخش دیکھتے ہی دیکھتے لڑکپن کی دہلیز پر آن پہنچا۔اب وہ آٹھویں جماعت کے امتحانات سے فارغ ہو چکا تھا۔دانی جب اسے دیکھتی تو اس کی آنکھوں میں خوشی کی چمک اتر آتی۔ اسے یوں محسوس ہوتا جیسے نور بخش کی جوانی دوبارہ اس کے آنگن میں لوٹ آئی ہو۔ وہی بلند قامت، وہی روشن پیشانی اور وہی نگاہوں میں جھلکتا ہوا وقار۔ادھر فوجی زندگی کے نشیب و فراز طے کرتے ہوئے نور بخش ترقی پا کر حوالدار بن چکا تھا۔ اس پورے عرصے میں اس کے تبادلے مشرقی پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہوتے رہے۔ کبھی چٹاگانگ، کبھی میمن سنگھ، کبھی کوملہ اور کبھی کسی دور افتادہ فوجی چھاؤنی کا نام اس کے خطوط میں اُبھرتا۔مگر نور بخش نے ایک فیصلہ کر لیا تھا۔وہ دانی اور عطا بخش کو اپنے ساتھ نہیں لے جاتا تھا۔ اُسے خوف تھا کہ مسلسل تبادلوں سے عطا بخش کی تعلیم متاثر ہو گی۔ اسی لیے اس نے اپنے کمانڈنگ آفیسر سے خصوصی اجازت لے رکھی تھی کہ اس کا خاندان مستقل طور پر مغربی پاکستان میں مقیم رہے۔
ہر چند ماہ بعد نور بخش کی چھٹی آتی تو گھر میں عید کا سماں بندھ جاتا۔ دانی صبح سے شام تک اس کی پسند کے کھانے بناتی اور عطا بخش اپنے باپ سے لپٹ کر بیٹھ جاتا۔ رات گئے تک نور بخش اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہتا۔ ”خوب دل لگا کر پڑھنا، بیٹا!“ اور عطا بخش فخر سے جواب دیتا: ”بابا! میں بھی بڑا ہو کر آپ جیسا فوجی بنوں گا۔“ یہ سن کر نور بخش کی آنکھوں میں عجیب سی چمک اتر آتی۔پھر چھٹیاں ختم ہوتیں اور وہ واپس مشرقی پاکستان روانہ ہو جاتا۔ریلوے اسٹیشن پر رخصت کے وہ لمحات ہمیشہ دانی کے لیے قیامت خیز ہوتے تھے۔گاڑی آہستہ آہستہ پلیٹ فارم چھوڑتی، نور بخش کھڑکی سے ہاتھ ہلاتا رہتا اور دانی دیر تک دھندلاتی آنکھوں سے اس ڈبے کو دیکھتی رہتی جس میں اس کی زندگی واپس پلٹ رہی ہوتی۔مگر اسے کیا معلوم تھا کہ وقت اپنی آستین میں ایک ایسا سانحہ چھپائے بیٹھا ہے جو اس کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔پھر اچانک وطن کو کسی کی نظر لگ گئی۔ 1965ءکی جنگ کا خونیں باب شروع ہو گیا۔ فضا میں خطرے کے بادل منڈلانے لگے۔ سرحدوں پر توپیں گرجنے لگیں اور فوجی جوان وطن کے دفاع کے لیے محاذوں پر پہنچ گئے۔ نور بخش بھی انہی سپاہیوں میں شامل تھا۔جاتے ہوئے اس نے دانی کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا تھا۔”فکر نہ کرنا، جلد واپس آؤں گا۔“ دانی نے مسکرانے کی کوشش کی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں اترنے والی نمی اس کے دل کا حال بتا رہی تھی۔ اس کے بعد دن دعاؤں میں گزرنے لگے۔ہر دستک پر دل دھڑک اٹھتا اور ہر خبر پر سانس رک جاتی۔پھر وہ منحوس رات آ گئی۔دروازے پر دستک ہوئی۔دانی کا دل کسی انجانے خوف سے لرز اٹھا۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا۔سامنے صوبیدار حشمت خان کھڑے تھے۔ ان کے چہرے پر پھیلی ہوئی خاموشی ہی سب کچھ کہہ رہی تھی۔چند لمحے خاموشی رہی، پھر وہ بوجھل آواز میں بولے: ”بہن نور بخش دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گیا ہے۔ اس کا جسدِ خاکی سی ایم ایچ میں رکھا گیا ہے۔“ یہ الفاظ نہیں تھے، جیسے آسمان ٹوٹ کر اس کے وجود پر آ گرا ہو۔ زمین گھومنے لگی۔سانس جیسے کسی نے تھام لیا ہو۔ اور وقت ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
اگلے دن سی ایم ایچ میں وہ منظر تھا جو کسی بھی ماں، بیوی یا بچے کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتا۔نور بخش کا جسدِ خاکی خاموش تھا، مگر اس کی خاموشی میں بھی وطن کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ عطا بخش اپنے باپ کے سینے سے لپٹ گیا۔ ”بابا اُٹھو بابا آپ بات کیوں نہیں کرتے؟“ اُس کی معصوم چیخیں ہسپتال کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتیں۔وہ بار بار باپ کے چہرے کو چھوتا، اُسے جگانے کی کوشش کرتا، مگر موت کا سناٹا جواب دیتا تھا۔دانی کھڑی تھیخاموشٹوٹے ہوئے وجود کے ساتھ۔جیسے اس کے اندر رونے کی طاقت بھی ختم ہو گئی ہو۔وقت گزرتا گیا۔نور بخش کی شہادت نے دانی کی زندگی سے رنگ، روشنی اور مسکراہٹ سب چھین لی۔ بیوگی کی چادر اُوڑھتے ہی اس کے سیاہ بال وقت سے پہلے برف کی مانند سفید ہو گئے اور لوگ اُسے دانی نہیں مائی دانی کہنے لگے۔
دانی لاہور کینٹ منتقل ہو گئی۔ عطا بخش باپ کی یاد کے سائے میں پروان چڑھتا رہا۔ پھر اس نے بھی اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاک فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔اب وہی بیٹا ماں کا سہارا بھی تھا اور اس کے دل کا خوف بھی۔ اور پھر 1971ءکی جنگ اپنی تمام تر وحشتوں اور نفرتوں کے ساتھ بھڑک اُٹھی۔اچانک ایک ہولناک دھماکے نے مائی دانی کو یادوں کی وادی سے کھینچ کر حال کی سنگدل حقیقت میں لاکر کھڑا کیا۔ مورچہ لرزا اُٹھا، گردو غبار نے ہر سمت اندھیرا بکھیردیا۔ مائی دانی لرزتی دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ اُس کے ماتھے سے بہتا ہوا خون، برسوں کے انتظار کی طرح آہستہ آہستہ ٹپک رہا تھا۔اُسی لمحے ایک فوجی جوان مورچے میں داخل ہوا۔ اُس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ اُس نے کانپتے ہاتھوں سے ایک لفافہ آگے بڑھایا۔ ”اماں جی“ بس اتنا کہہ سکا۔ مائی دانی نے خط کھولا۔ چند سطریں تھیں ”سپاہی عطا بخش دورانِ جنگ دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا“
الفاظ دُھندلا گئے۔زمانہ جیسے ایک بار پھر پلٹ گیا۔ کل بیٹا باپ کو پکار رہا تھااور آج ماں بیٹے کو پکارنے کے لیے رہ گئی تھی۔مائی دانی نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ہونٹ کانپے۔”یا اللہ یہ تیری امانت تھی“ پھر اُس نے خط سینے سے لگا لیا۔ ”نور بخش تمہاری امانت واپس آگئی“ اُس رات کے بعد اُس کی خاموشی اور گہری ہو گئی۔ اگلی صبح فجر سے پہلے وہ اٹھی۔ وضو کیا۔ جائے نماز بچھائی۔نماز شروع کی۔وہ ساری رات جاگی ہوئی تھی۔ آنکھوں میں نیند نہیں تھی، صرف یادیں تھیں۔ نور بخش عطا بخش اور ایک ٹوٹا ہوا دل۔وہ سجدے میں گئی۔اور پھر وہیں دیر ہو گئی۔ بہت دیر۔اتنی دیر کہ ساتھ نماز پڑھنے والی عورتیں بے چین ہو گئیں۔”مائی؟“ کوئی جواب نہ آیا۔ایک عورت نے قریب جا کر اُسے ہلایا۔ اُس کا جسم آہستگی سے ایک طرف جھک گیا۔ خاموشساکت پرسکون۔ جیسے برسوں کے دکھوں کے بعد اُسے آخرکار آرام مل گیا ہو۔
مورچے میں کہرام مچ گیا۔کسی کی آنکھیں اشکبار تھیں، کسی کی آواز بند تھی۔ایک بوڑھا سپاہی آہستہ سے بولا؛ ”یہ عورت نہیں تھی صبر کی چلتی پھرتی تصویر تھی۔“ فجر کی پہلی کرن ٹوٹی ہوئی چھت سے اندر آئی۔مائی دانی کا چہرہ پر سکون تھا۔جیسے وہ کسی طویل سفر کے بعد اپنے رب سے جا ملی ہو۔جنگ ابھی جاری تھیمگر مائی دانی کی جنگ ختم ہو چکی تھی۔اس کے قریب ایک بوسیدہ جائے نماز پڑی تھی اور اُس پر آنسوؤں کے چند قطرے ابھی تک موجود تھے جن میں سے صبر کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔۔۔۔!!۔
*******

