جاویدؔ ڈینی ایل کا شعرو ادب اور صحافتی کینوس : سرفراز تبسمؔ

جاویدؔ ڈینی ایل شاعر، ادیب، کالم نگار، صحافی، مدیر اور ناشر کی حیثیت سے گزشتہ پچیس برس سے اُردو ادب کے فروغ، ترویج اور اشاعت کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کی ادبی و صحافتی شخصیت تخلیق، صحافت، ادارت اور اشاعتی خدمات کے مختلف رنگوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ان کے نزدیک ادب محض اظہارِ ذات یا لفظوں کی آرائش نہیں بلکہ انسانی احساس، فکری بیداری، اخلاقی شعور اور معاشرتی اصلاح کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ یہی تصور ان کی تحریروں، شاعری اور ادبی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔

جاویدؔ ڈینی ایل ماہنامہ ’’نیا تادیب‘‘ لاہور/ملتان کے بانی اور مدیرِ اعلیٰ ہیں، جو سن دو ہزار ایک سے باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ گزشتہ پچیس برس کے اس طویل ادبی سفر میں اُنہوں نے ’’نیا تادیب‘‘ کے ذریعے ادب، صحافت، فکر اور اصلاحی ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں اور اہلِ قلم کو اظہار کا ایک مستقل اور معتبر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ تادیب پبلی کیشنز، تادیب میڈیا اور ڈیجیٹل ویب پورٹل تادیب ڈاٹ آرگ سے اُن کی وابستگی نے ان کی ادبی، صحافتی اور اشاعتی خدمات کو مزید وسعت دی ہے۔

جاویدؔ ڈینی ایل کے نزدیک علم و ادب کا سفر محض ذاتی شناخت کا سفر نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی تعمیر کا عمل بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں کتاب، علم اور فکر سے وابستگی بھی ایک نمایاں موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں؛
کتابوں کی خوشبو سہانی رہے
نئی فکر میں بھی روانی رہے
اور مقطع میں علم و ہنر کے اسی سفر کو یوں دوام عطا کرتے ہیں؛
جہاں بھی ہو جاویدؔ علم و ہنر
نہ کوئی لگن رائیگانی رہے
یہ اشعار ان کی ادبی اور اشاعتی جدوجہد سے بھی ایک معنوی رشتہ رکھتے ہیں۔ ان کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ ادب کو معاشرے کے فکری اور اخلاقی شعور کی تشکیل میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے اور نئی نسل کو کتاب، قلم اور فکر کے ساتھ جوڑا جائے۔

شاعری کے میدان میں جاویدؔ ڈینی ایل کا اولین شعری مجموعہ ’’پانیوں پر پرواز‘‘ سن دو ہزار سات میں شائع ہوا، جس نے ان کی شعری شناخت کو نمایاں کیا۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’شگفتہ گفتگو تیری‘‘ سن دو ہزار چھبیس میں منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، زندگی کے تجربات، محبت، اُمید، روحانی احساس، سماجی شعور اور وطن سے وابستگی کی مختلف کیفیات شعری پیکر اختیار کرتی ہیں۔ کلاسیکی شعری روایت سے ان کا رشتہ گہرا ہے اور عروض، قافیہ و ردیف اور زبان و بیان کی نزاکتوں کا خاص اہتمام ان کے شعری مزاج کا نمایاں وصف ہے۔

جاویدؔ ڈینی ایل کی شاعری میں وطن سے محبت محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ قومی ذمہ داری اور اجتماعی شعور کی صورت اختیار کرتی ہے۔ وہ انسان کو اپنے گھر اور وطن دونوں سے وفاداری کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں؛
اپنے گھر سے وطن سے وفا کیجیے
امن ہو قریہ قریہ دعا کیجیے
درس دیتے ہیں انجیل و قرآں یہی
آدمی ہو تو سب کا بھلا کیجیے

اُن اشعار میں وطن دوستی کے ساتھ اِنسان دوستی اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام بھی موجود ہے۔ یہی فکری رویہ اُن کے قومی کلام کو محض نعرے سے بلند کر کے ایک اِنسانی پیغام عطا کرتا ہے۔ وطن کے قرض کو وہ ایک ایسی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں جس کی ادائیگی کے لیے قربانی اور عمل دونوں ضروری ہیں؛
خون دے کر نکھاریں گے ارضِ وطن
یوں چکاتے رہیں گے یہ قرضِ وطن
ہم پہ جاویدؔ ! واجب ہوا یا نہیں
مَر کے بھی ہم اُتاریں گے قرضِ وطن

جاویدؔ ڈینی ایل کے شعری کینوس کا ایک نمایاں اور دل آویز رنگ محبت اور رومانویت ہے۔ ان کے ہاں عشق محض ایک موضوع نہیں بلکہ تخلیقی اظہار کا محرک بھی دکھائی دیتا ہے۔ اُن کا یہ شعر اُن کے رومانوی شعری مزاج کی خوب صورت نمائندگی کرتا ہے؛
مجھے تم سے گر عشق کافر نہ ہوتا
غزل تم نہ ہوتی میں شاعر نہ ہوتا

اِس شعر میں عشق، محبوب اور تخلیقِ شعر کے درمیان ایک گہرا تعلق قائم ہوتا ہے۔ گویا محبوب شاعر کی زندگی میں صرف ایک کردار نہیں بلکہ اُس کی تخلیقی دُنیا کا بنیادی حوالہ ہے۔ محبوب کے جمال کو وہ ایک ایسے شعری پیکر میں ڈھالتے ہیں جو کلاسیکی روایت سے بھی جڑا ہوا ہے؛
مِرے دِل میں جو ایک زہرہ جبیں ہے
کہیں اُس کے جیسی نہ کوئی حسیں ہے

اُن کی رومانوی شاعری میں محبت کے ساتھ ہجر، انتظار، لمس، تخیل اور یاد کی کیفیات بھی نمایاں ہیں۔ وہ اپنے باطنی احساس کو لفظوں میں ڈھالتے ہوئے کہتے ہیں؛
کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے
کہ وہ دِل گیر ہوتی جا رہی ہے
میں حرفوں کو سمیٹے جا رہا ہوں
تِری تصویر ہوتی جا رہی ہے

یہاں لفظ اور محبوب ایک دوسرے میں گھلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ شاعر گویا حرفوں کو سمیٹتے سمیٹتے محبوب کی تصویر تشکیل دے رہا ہے۔ اِسی داخلی اور جذباتی فضا میں اُن کا یہ شعر بھی قابلِ توجہ ہے؛
تِری باتیں صحیفوں کی طرح ہیں
مِری تطہیر ہوتی جا رہی ہے
محبت کی شدت اور قربانی کے جذبے کو جاویدؔ ڈینی ایل نے نہایت سادہ مگر مؤثر پیرائے میں بیان کیا ہے؛
لٹا دے جان بھی اپنی کسی محبوب کی خاطر
محبت میں کوئی اِس سے بڑا درجہ نہیں ملتا

اُن کے نزدیک عشق صرف وصال کی خواہش نہیں بلکہ ضبط، انتظار اور داخلی کشمکش کا نام بھی ہے۔ یہی کیفیت اُن کے اِن اشعار میں نمایاں ہوتی ہے؛

وصالِ یار اب تو خواب ہوتا جا رہا ہے
یہ دِل اُس کے لیے بے تاب ہوتا جا رہا ہے
اور۔۔۔؛
عشق ہے یا بلا ہے کیا کہیے
ضبط کی انتہا ہے کیا کہیے
پارسائی ہے نارسائی تک
وصل میں سب روا ہے کیا کہیے

جاویدؔ ڈینی ایل کی شاعری صرف محبت اور رومانویت تک محدود نہیں بلکہ اِس میں سماجی شعور اور انسانی درد بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ وہ اپنے عہد کے ناانصافی پر مبنی رویوں اور اِنسانی دُکھ کو نظر انداز نہیں کرتے۔ خصوصاً عورت کے دُکھ اور معاشرتی بے بسی کو اُن کے یہ اشعار نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں؛
ایک الزام نے سر اُٹھایا بہت
ایک تلوار سر پر لٹکتی رہی
جب گواہوں کی گنتی نہ پوری ہوئی
ایک حوا کی بیٹی سسکتی رہی

یہاں شاعر کا قلم محض منظر نگاری نہیں کرتا بلکہ سماج سے سوال بھی کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں عہدِ حاضر کی بے حسی اور بے ضمیری کے خلاف ایک خاموش مگر باوقار احتجاج بھی موجود ہے؛
تجھ سے ملنے کی ٹھان رکھی ہے
یوں ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
ہم نے اس عہدِ بے ضمیری میں
اپنے حصے کی آن رکھی ہے
مزید دیکھیے؛
عجب تماشا سا چل رہا ہے
غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے
اُسی کے جاویدؔ ! شر سے بچنا
جو آستینوں میں پل رہا ہے

اُن کی شاعری میں زندگی کے تجربات اور اِنسانی رشتوں کا مشاہدہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وہ صرف محبت کے روشن پہلو نہیں بلکہ تعلقات کے بدلتے ہوئے مزاج اور اِنسانی فاصلے بھی محسوس کرتے ہیں؛
نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا
کئی برسوں سے مل بیٹھے، مگر لہجہ نہیں ملتا

یہ شعر موجودہ عہد کے اِنسانی تعلقات کی ایک گہری تصویر ہے، جہاں قربت کے باوجود فاصلے موجود ہیں اور ملاقاتوں کے باوجود دِل ایک دوسرے تک نہیں پہنچ پاتے۔

اُن کی نثر میں صحافتی وضاحت، ادبی لطافت، فکری گہرائی اور مشاہدے کی وسعت باہم مل کر ایک ایسا اسلوب تشکیل دیتی ہے جو بیک وقت رواں، شائستہ، بامعنی اور اثرانگیز ہے۔ کالم نگاری اور صحافت میں وہ اپنے عہد کے سماجی، ادبی اور اِنسانی مسائل کو موضوع بناتے ہوئے قاری کو محض اطلاع نہیں بلکہ سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اُن کے ہاں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ فکر، احساس اور کردار سازی کی قوت بھی ہے۔

اُن کے مزاج میں شگفتگی اور زندہ دِلی بھی موجود ہے، جس کی جھلک اُن کے بعض اشعار میں نمایاں ہوتی ہے؛
کسی کو گفتگو کرنے سے پہلے رام کر لینا
ہنر اُس کو ہی آتا ہے یہ مشکل کام کر لینا
کسی بے کیف لمحے میں تھکا ہارا بدن تھامے
کبھی جاویدؔ مل جائے تو لطفِ جام کر لینا

یہ اشعار اُن کی شخصیت کے ایک ایسے پہلو کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں زندگی کی تلخیوں کے باوجود گفتگو، دوستی اور زندہ دِلی کے لیے جگہ باقی رہتی ہے۔

جاویدؔ ڈینی ایل کی شاعری اور کالم نگاری کا سفر مختلف معتبر ادبی، صحافتی اور فکری پلیٹ فارمز پر تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اُن کے کالمز اور منظوم تخلیقات ماہنامہ ’’نیا تادیب‘‘ اور ’’تادیب‘‘ ویب سائٹ کے علاوہ ہم سب اور باغی ٹی وی ویب سائٹس پر بھی باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں، جبکہ اُن کی تخلیقات معروف ادبی جرائد ماہنامہ ’’ادبِ لطیف‘‘، ماہنامہ ’’بیاض‘‘، ہفت روزہ ’’کہانت‘‘ اور دیگر متعدد جرائد و رسائل کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں۔ یوں جاویدؔ ڈینی ایل کی فکری، ادبی اور شعری آواز مسلسل ایک وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچ رہی ہے۔

ادبی و صحافتی میدان میں اُن کی طویل خدمات کے اعتراف میں مختلف اداروں اور ادبی تنظیموں کی جانب سے اُنہیں متعدد اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ تاہم ان کا ادبی سفر کسی اعزاز یا مقام پر ٹھہرتا ہوا محسوس نہیں ہوتا بلکہ مسلسل آگے بڑھنے کی خواہش اُس کی بنیادی شناخت ہے۔ اُن کی تخلیقی شخصیت زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو لفظوں میں محفوظ کرنے کا ہنر رکھتی ہے۔ شاید اِسی احساس کو اُن کے اِس شعر سے بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے؛
تلخ و شیریں زندگی کی داستاں
چھوڑ جاؤں گا تمہارے درمیاں

جاویدؔ ڈینی ایل کی ادبی زندگی دراصل ایک ایسے مسلسل اور ہمہ جہت سفر سے عبارت ہے جس میں شاعری، ادب، صحافت، کالم نگاری، ادارت اور اشاعت ایک دوسرے سے مربوط ہو کر اُردو زبان و ادب کی خدمت کا وسیلہ بنتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں وطن سے محبت ہے تو اِنسان دوستی بھی؛ عشق کی لطافت ہے تو ہجر کی کسک بھی؛ روحانی احساس ہے تو سماجی ناانصافی کے خلاف سوال بھی؛ کتاب اور قلم سے وابستگی ہے تو نئے لکھنے والوں کے لیے راستے بنانے کا جذبہ بھی۔

اُن کا قلم اپنے عہد کے سوالات سے مکالمہ کرتے ہوئے روایت کی روشنی میں مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔ یہی وصف جاویدؔ ڈینی ایل کی ادبی اور صحافتی شناخت کو ایک منفرد معنویت عطا کرتا ہے۔ اُن کے شعر و ادب اور صحافت کا یہ کینوس ابھی مکمل تصویر نہیں بلکہ ایک جاری سفر ہے—ایک ایسا سفر جس میں لفظ زندگی سے مکالمہ کرتے ہیں، شعر احساس کو زبان دیتا ہے اور قلم آنے والے زمانوں کے لیے اپنی ایک داستان رقم کرتا چلا جاتا ہے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading