نرس – وفاؤں کا پیکر : پاسٹر شہزاد منیر

وہ چاندنی جو دوسروں کے اندھیروں میں اجالا، اور اپنے آنگن میں محبت بن جاتی ہے۔کچھ پیشے انسان اختیار نہیں کرتا، شاید کچھ پیشے انسان کو خود اختیار کر لیتے ہیں۔نرسنگ بھی شاید ایسا ہی ایک پیشہ ہے۔سفید لباس میں ملبوس ایک نرس جب ہسپتال کی دہلیز پار کرتی ہے تو بظاہر وہ اپنی ڈیوٹی پر جا رہی ہوتی ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنے ساتھ صبر، شفقت، ذمہ داری، قربانی اور انسانیت کی ایک پوری دنیا لے کر جاتی ہے۔ہسپتال کی راہداریوں میں زندگی ہمیشہ ایک ہی لہجے میں نہیں چلتی۔ کہیں کسی نومولود کی پہلی سانس خوشی بن کر گونجتی ہے، کہیں کسی ماں کی آنکھ خوف سے بھیگ جاتی ہے، کہیں کسی باپ کے چہرے پر بے بسی اتر آتی ہے، اور کہیں مشینوں کی مدھم آوازیں زندگی اور موت کے درمیان کھینچی ہوئی ایک باریک لکیر کی خبر دیتی ہیں۔ایسے میں ایک نرس خاموشی سے اپنی جگہ سنبھالتی ہے۔وہ دوا دیتی ہے، نبض دیکھتی ہے، درجۂ حرارت نوٹ کرتی ہے، مریض کو سہارا دیتی ہے، تیماردار کو تسلی دیتی ہے اور کبھی صرف ایک مسکراہٹ سے کسی خوف زدہ دل کو یہ یقین دلا دیتی ہے کہ وہ اکیلا نہیں۔شاید نرسنگ کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ یہاں ہاتھ صرف دوا نہیں دیتے، دل بھی سہارا دیتے ہیں۔

سفید لباس کے پیچھے چھپی ہوئی کہانی؛
ہم اکثر نرس کو اس کے سفید لباس سے پہچانتے ہیں، مگر سفید لباس کے پیچھے چھپی ہوئی کہانی پڑھنے کی کوشش کم ہی کرتے ہیں۔ہم اس لباس کے پیچھے جاگتی ہوئی راتیں نہیں دیکھتے۔ہم مسلسل ڈیوٹی کے بعد بدن میں اتر جانے والی تھکن نہیں دیکھتے۔ہم اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپا ہوا درد نہیں پڑھتے۔ہم اس نرم لہجے کے پیچھے موجود صبر کی گہرائی نہیں جانتے۔کیونکہ نرس بھی آخر انسان ہے۔وہ بھی تھکتی ہے۔وہ بھی کبھی روتی ہے۔وہ بھی اپنے دکھوں سے لڑتی ہے۔وہ بھی کبھی کسی مریض کی حالت دیکھ کر اندر سے ٹوٹتی ہے۔اور کبھی کسی مریض کی موت کے بعد شاید چند لمحوں کے لیے اپنے آنسو پونچھتی ہے، پھر خود کو سنبھال کر اگلے مریض کے پاس چلی جاتی ہے۔اپنے دل کے ٹوٹنے کے باوجود دوسروں کے لیے حوصلہ بنے رہنا۔ خدمت کی شاید یہی سب سے خاموش قربانی ہے۔خدمت، جو عبادت کا رنگ اختیار کر لے۔بائبل کہتی ہے؛
جن کو جس جس قدر نعمت ملتی ہے
وہ اُسے خُدا کی مختلف نعمتوں کے اچھے مختاروں کی طرح
ایک دُوسرے کی خِدمت میں صرف کریں۔ (۱-پطرس ۴: ۱۰)

مزید کہا گیا ہے؛

جو کام کرتے ہو جی سے کرو۔
یہ جان کر کہ خُداوند کے لیے کرتے ہو
نہ کہ آدمیوں کے لیے۔ 
  (کلسیوں ۲۳:۳)

کتنی خوبصورت بات ہے کہ خدمت محض ایک ملازمت نہیں ۔خدمت اس نعمت کو دوسروں کی بھلائی
کے لیے استعمال کرنے کا نام بھی ہے جو خدا نے ہمیں عطا کی ہے۔ایک نرس جب کسی مریض کے درد میں شریک ہوتی ہے، کسی خوف زدہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، کسی بے بس انسان کا ہاتھ تھامتی ہے یا کسی زندگی کو بچانے کے لیے اپنی پوری قوت صرف کرتی ہے تو شاید وہ خود بھی نہ جانتی ہو کہ اس کا ایک چھوٹا سا عمل کسی کے لیے پوری دنیا کی امید بن چکا ہے۔وہ شمع کی مانند ہے۔دن بھر دوسروں کے اندھیروں میں روشنی بانٹتی ہے اور شام کو تھکی ہوئی اپنے گھر لوٹ آتی ہے۔اور جب وہ گھر آتی ہےوہی آنکھیں جو دن بھر بیماری اور درد دیکھتی رہی ہیں، گھر آکر اپنے بچوں کے چہروں میں سکون تلاش کرتی ہیں۔وہی ہاتھ جو دن بھر مریضوں کی خدمت کرتے رہے، گھر آکر بچوں کے بال سنوارتے ہیں، کھانا بناتے ہیں، گھر کے کام کرتے ہیں اور اپنوں کے لیے محبت بانٹتے ہیں۔اور وہی دل جو سارا دن دوسروں کے لیے دھڑکتا رہا، رات کو اپنے گھر کے لیے دھڑکنے لگتا ہے۔شاید اسی کا نام گھر ہے۔گھر صرف اینٹوں، دیواروں اور چھت کا نام نہیں۔گھر اس محبت کا نام ہے جو تھکی ہوئی شام کو بھی سکون میں بدل دیتی ہے۔گھر اُس شخص کی موجودگی کا نام ہے جس کے پاس لوٹ کر انسان اپنی ساری تھکن اتار دیتا ہے۔اور میرے لیے گھر کا یہ مفہوم صرف ایک خوبصورت خیال نہیں، ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔کیونکہ میری زندگی میں ایک ایسی عورت ہے جسے میں نے صرف اپنی بیوی کے طور پر نہیں دیکھا۔میں نے اسے ایک رفیقِ حیات کے طور پر دیکھا ہے۔ایک ایسی ساتھی، جس نے میرے ساتھ زندگی کے بارہ برس کے مختلف موسم دیکھے ہیں۔

بارہ برس صرف وقت نہیں؛ بارہ برس یہ صرف کیلنڈر کے چند صفحات نہیں۔یہ بارہ سال کی دعائیں ہیں۔بارہ سال کی مسکراہٹیں ہیں۔بارہ سال کی آزمائشیں ہیں۔بارہ سال کی خاموش قربانیاں ہیں۔کبھی زندگی نے راستوں پر پھول بچھائے، کبھی کانٹے بکھیرے۔ کبھی آسانیاں آئیں، کبھی ایسے دن بھی آئے جب صرف ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لینا ہی کافی محسوس ہوا۔شاید محبت کی اصل آزمائش خوشیوں کے دنوں میں نہیں ہوتی۔محبت تو وہ ہے جو مشکل دنوں میں بھی اپنا چہرہ نہیں بدلتی۔محبت وہ چراغ ہے جو آندھی میں بھی جلتا رہتا ہے۔اور پھر ہماری اس رفاقت کے آنگن میں خدا نے ایک ننھی سی روشنی اتاری ہماری بیٹی۔اس کی مسکراہٹ ہماری بارہ سالہ داستانِ محبت کا سب سے خوبصورت جملہ ہے۔جب میں اپنی بیوی کو اپنی بیٹی کے ساتھ دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ عورت کے دل کی وسعت شاید سمندر سے بھی زیادہ ہے۔وہ ایک ہی دل میں بیوی کی محبت، ماں کی ممتا، نرس کی شفقت اور گھر کی ذمہ داری سمیٹ لیتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں میرے لیے میری بیوی صرف ایک نرس نہیں رہتی وہ وفاؤں کا پیکر بن جاتی ہے۔

ایک عورت، کئی کردار؛
دنیا اسے ہسپتال میں ایک نرس کے طور پر دیکھتی ہے۔مریض اسے خدمت کرنے والی شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔اس کے ساتھی اسے ایک ذمہ دار پیشہ ور کے طور پر جانتے ہیں۔مگر گھر اسے ایک اور روپ میں دیکھتا ہے۔وہ بیوی ہے،وہ ماں ہے،وہ گھر کی خوشی ہے، وہ اپنے شوہر کے لیے رفاقت ہے۔وہ اپنی بیٹی کے لیے محبت اور تحفظ ہے۔اور شاید یہی عورت کی زندگی کا وہ پہلو ہے جسے دنیا اکثر دیکھ نہیں پاتی۔دنیا اس کی ڈیوٹی کے گھنٹے گنتی ہے، مگر اس کی قربانی کے لمحے نہیں۔دنیا اس کی تنخواہ دیکھتی ہے، مگر اس کے تھکے ہوئے قدم نہیں دیکھتی۔دنیا اس کا عہدہ پڑھتی ہے، مگر اس کے دل کی کہانی نہیں پڑھتی۔

میری بیوی کے نام؛
میری بیوی تم دن بھر دوسروں کے زخموں کے قریب رہتی ہو، مگر میرے لیے تم میری زندگی کا وہ مرہم ہو جس نے کئی تھکنوں کو سکون دیا۔تم دوسروں کے گھروں میں صحت کی امید لے کر جاتی ہو، اور میرے گھر میں محبت کی روشنی بن کر لوٹتی ہو۔تم مریضوں کے لیے خدمت ہو۔ہماری بیٹی کے لیے ممتا ہو۔میرے لیے رفاقت ہو۔اور ہمارے گھر کے لیے وہ خاموش خوشبو ہو جس کا احساس ہر لمحہ ہوتا ہے مگر جسے الفاظ میں قید کرنا آسان نہیں۔بارہ برس پہلے میں نے جس عورت کا ہاتھ تھاما تھا، وقت نے اس کی خوبصورتی کم نہیں کی؛ بلکہ محبت نے اس کے معنی بدل دیے ہیں۔پہلے مجھے تمہاری آنکھیں خوبصورت لگتی تھیں۔آج ان آنکھوں میں مجھے ہماری پوری زندگی نظر آتی ہے۔پہلے تمہاری مسکراہٹ مجھے اچھی لگتی تھی۔آج اسی مسکراہٹ میں مجھے اپنی بیٹی کی خوشی، اپنے گھر کا سکون اور اپنی زندگی کی رفاقت دکھائی دیتی ہے۔پہلے میں تمہارے ہاتھ تھاما کرتا تھا۔آج مجھے ان ہاتھوں میں بارہ برس کی محنت، خدمت اور وفا کی داستان دکھائی دیتی ہے۔وقت محبت کو کم نہیں کرتا اگر محبت سچی ہو تو وقت اسے گہرا کر دیتا ہے۔

اُن ہاتھوں کو سلام؛
ہمیں اپنی زندگی میں موجود نرسوں کو صرف ان کی ڈیوٹی کے لیے نہیں، بلکہ ان کی قربانی، صبر، محبت اور خدمت کے لیے بھی سراہنا چاہیے۔کیونکہ جو لوگ دوسروں کا خیال رکھنے کے لیے اپنی زندگی کا بڑا حصہ وقف کر دیتے ہیں، انہیں بھی ہمارے خیال، احترام اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔کبھی ایک جملہ ان کے لیے بہت کچھ بن جاتا ہےکبھی ایک احترام بھری نظر ان کی ساری تھکن کو ہلکا کر دیتی ہے۔ کسی خاموش دل میں ایک نئی طاقت پیدا کر دیتا ہے۔ ہم آپ کی خدمت کی قدر کرتے ہیں۔

نرس رضیہ نورین کے نام ایک خراجِ تحسین؛
ایسے خدمت گزار کرداروں میں نرس نورین بھی قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے ہسپتال میں ایک بچے کی جان بچانے میں اپنی ذمہ داری، مہارت اور فوری خدمت کے ذریعے اہم کردار ادا کیا۔ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کبھی کبھی کسی کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ایک خاندان کی پوری زندگی کے لیے شکرگزاری کی وجہ بن جاتی ہے۔ایک بچ جانے والی زندگی کے پیچھے کئی ہاتھ ہوتے ہیں۔کئی دعائیں ہوتی ہیں۔کئی جاگتی ہوئی راتیں ہوتی ہیں۔
اور کبھی ایک نرس کا بروقت اٹھایا ہوا قدم۔ایسے ہاتھوں کو سلام۔

تمام نرسوں کے نام؛
تمام نرسوں کے نام آپ صرف سفید لباس نہیں پہنتیں، آپ اپنے ساتھ امید پہنتی ہیں۔آپ صرف دوا نہیں دیتیں، آپ حوصلہ دیتی ہیں۔آپ صرف مریض کی دیکھ بھال نہیں کرتیں، آپ کئی خاندانوں کے خوف میں سکون بن جاتی ہیں۔آپ صرف ہسپتال کی راہداریوں میں نہیں چلتیں، آپ انسانیت کی خدمت کے ایک خوبصورت راستے پر چلتی ہیں۔آپ کی مسکراہٹ کسی کے لیے امید بن سکتی ہے۔آپ کا نرم لہجہ کسی کے لیے تسلی بن سکتا ہے۔آپ کا ہاتھ کسی خوف زدہ انسان کے لیے حوصلہ بن سکتا ہے۔اور آپ کی خدمت شاید کسی ایسے دل میں خدا کی محبت کی ایک جھلک دکھا دے جسے اس وقت صرف ایک مہربان چہرے کی ضرورت ہو۔
اگر وفا کو کوئی لباس دیا جائے تو شاید وہ سفید لباس ہو۔اگر خدمت کو کوئی چہرہ دیا جائے تو شاید وہ ایک نرس کا چہرہ ہو۔اگر شفقت کو کوئی لمس دیا جائے تو شاید وہ ایک نرس کا ہاتھ ہو۔اور اگر انسانیت کو کسی خاموش کردار میں دیکھا جائے تو شاید وہ وہی شمع ہو جو دن بھر دوسروں کے اندھیروں میں روشنی بانٹتی ہے اور شام کو اپنے آنگن میں محبت بن کر لوٹتی ہے۔
خدا آپ کے ہاتھوں کو برکت دے، آپ کے دلوں کو مضبوط کرے، آپ کے گھروں کو سکون سے بھر دے، اور آپ کی خدمت کو بہت سے لوگوں کے لیے اُمید اور مسیح کی محبت کا وسیلہ بنائے۔ آمین۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading