ہیڈلائنز

شگفتہ گفتگو تیری — جاوید ڈینی ایل کی شاعری میں احساسِ عصر اور جمالیاتی شعور : ڈاکٹر شفیق آصفؔ

Views: 481 شاعری محض لفظوں کی ترتیب یا جذبات کی ترجمانی کا نام نہیں، یہ انسانی باطن میں اترنے، زندگی کے پوشیدہ گوشوں کو دریافت کرنے اور اپنے عہد کے چہرے پر ثبت ان نشانات کو پڑھنے کا عمل بھی ہے جنہیں عام نگاہ اکثر نظرانداز کر دیتی ہے۔ ایک حقیقی شاعر اپنے گردوپیش سے…

مزید پڑھیے

غزل — کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے— شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

Views: 139 کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے رِدائے دُعا بھی بڑی چاہیے جو سوچوں کو جیون نیا بخش دے خیالوں کی اِک پھُل جھڑی چاہیے بگڑتی ہوئی نسلِ نو کے لیے حلیمی میں لِپٹی چھڑی چاہیے حقیقت یہی ہے کہ اِس دَور میں خُدا کی سِپر ہر گھڑی چاہیے مرے حکمراں کو خُوشی…

مزید پڑھیے

جھوٹا الزام اور قانون۔۔۔! : جاوید ڈینی ایل

Views: 296 قانون کا بنیادی مقصد معاشرے میں انصاف قائم کرنا، انسانی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور ہر شہری کو ظلم و ناانصافی سے بچانا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا؛ جرم کا تعین شواہد، منصفانہ سماعت اور عدالتی…

مزید پڑھیے

  دوہرا معیار کیوں؟ : جاوید ڈینی ایل

Views: 440 کسی گھر کا دروازہ جب کسی ضرورت مند کے لیے کھلتا ہے تو صرف ایک مکان کی چار دیواری میسر نہیں آتی، بلکہ ایک خاندان کو سکون، تحفظ اور زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن جب یہی دروازہ کسی انسان کے مذہب کی بنیاد پر بند کر…

مزید پڑھیے

جاویدؔ ڈینی ایل کا شعرو ادب اور صحافتی کینوس : سرفراز تبسمؔ

Views: 559 جاویدؔ ڈینی ایل شاعر، ادیب، کالم نگار، صحافی، مدیر اور ناشر کی حیثیت سے گزشتہ پچیس برس سے اُردو ادب کے فروغ، ترویج اور اشاعت کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کی ادبی و صحافتی شخصیت تخلیق، صحافت، ادارت اور اشاعتی خدمات کے مختلف رنگوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ان کے…

مزید پڑھیے

کتاب سے رشتہ : جاوید ڈینی ایل

Views: 461 ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں دنیا ہماری انگلیوں کی پور پر سمٹ آئی ہے۔ ایک چھوٹی سی سکرین پر دنیا بھر کی خبریں، تصاویر، خیالات اور معلومات لمحوں میں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔ گلوبل ورلڈ نے فاصلے مٹا دیے ہیں، سوشل میڈیا نے ابلاغ کو غیر معمولی رفتار دی…

مزید پڑھیے

آنکھوں کے خواب قلب کے ارمان جل گئے

Views: 4,326 آنکھوں کے خواب قلب کے ارمان جل گئے نفرت کی تیز آگ میں انسان جل گئے گرجاؤں میں پڑی ہوئی اِنجیل جل گئی الطار ، شیرہ ، روٹیاں ، لوبان جل گئے قائد نے جو کیے تھے وہ اعلان جل گئے اوراق پاک کیا جلے ، درمان جل گئے لکھے تھے جو وطن…

مزید پڑھیے