غزل — کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے— شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے
رِدائے دُعا بھی بڑی چاہیے

جو سوچوں کو جیون نیا بخش دے
خیالوں کی اِک پھُل جھڑی چاہیے

بگڑتی ہوئی نسلِ نو کے لیے
حلیمی میں لِپٹی چھڑی چاہیے

حقیقت یہی ہے کہ اِس دَور میں
خُدا کی سِپر ہر گھڑی چاہیے

مرے حکمراں کو خُوشی کے لیے
مرے آنسوؤں کی جھڑی چاہیے

غموں سے جو ٹوٹے ہوئے ہیں یہاں
اُنہیں حوصلوں کی لڑی چاہیے

محبت میں گھائل ہے جاویدؔ جو
اُسے اب سزا بھی کڑی چاہیے
*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading