کسی گھر کا دروازہ جب کسی ضرورت مند کے لیے کھلتا ہے تو صرف ایک مکان کی چار دیواری میسر نہیں آتی، بلکہ ایک خاندان کو سکون، تحفظ اور زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن جب یہی دروازہ کسی انسان کے مذہب کی بنیاد پر بند کر دیا جائے تو معاملہ محض مکان کرایے پر دینے یا نہ دینے کا نہیں رہتا، بلکہ انسان کے وقار، مساوات اور معاشرتی رواداری کا سوال بن جاتا ہے۔حال ہی میں ہمارے دوست سیمسن سلامت نے سوشل میڈیا پر ایک واقعہ بیان کیا کہ لاہور میں ایک مکان کی کرایے کی ڈیل پراپرٹی ڈیلر کے ذریعے مکمل ہو چکی تھی، لیکن جب مالک مکان کو معلوم ہوا کہ کرایے پر مکان لینے والا خاندان مسیحی ہے تو اس نے مکان دینے سے انکار کر دیا۔ سیمسن سلامت نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ یہ کابل یا قندھار کا قصہ نہیں، زندہ دلانِ لاہور کا واقعہ ہے۔
یہ تحریر پڑھ کر دِل میں کئی سوالات نے جنم لیا۔ کیا کسی خاندان کا مذہب اس کے لیے گھر کے دروازے بند کرنے کا جواز بن سکتا ہے؟ کیا کسی شہری کی دیانت، کردار، مالی استطاعت اور ذمہ داریوں سے زیادہ اہم اس کی مذہبی شناخت ہو گئی ہے؟یہ کوئی ایک قصہ نہیں، صاحب! وہاڑی میں بھی میرے ایک جاننے والے کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ مکان کا معاملہ طے ہو چکا تھا، لیکن جب مالک مکان کو معلوم ہوا کہ کرایے پر گھر لینے والا خاندان مسیحی ہے تو اس نے انکار کر دیا۔ بتایا گیا کہ مالک مکان نے سامان واپس لے جانے اور فوری واپسی کے اضافی اخراجات بھی ادا کیے اور کہا کہ ابھی سامان واپس لے جائیں۔ بعدازاں میرے اس جاننے والے نے اپنے سابقہ مالک مکان سے بات کی اور کچھ عرصہ مزید وہیں قیام کیا۔
ذرا سوچیے! ایک خاندان جب اپنے گھر کا سامان سمیٹ کر نئے ٹھکانے کی اُمید میں نکلتا ہے، بچوں کے لیے نئے کمروں اور گھر کی نئی ترتیب کے خواب دیکھتا ہے، اور عین آخری لمحے اُسے صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر واپس لوٹا دیا جاتا ہے تو اُس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ سامان کی واپسی کا خرچ ادا کر دینا اس ذہنی اذیت کا ازالہ نہیں ہو سکتا جو کسی انسان کو محض اس کے مذہب کی وجہ سے مسترد کیے جانے پر محسوس ہوتی ہے۔یہاں سوال صرف مسیحیوں کا نہیں، بلکہ اس معاشرتی رویے کا ہے جس میں انسان کو اس کے کردار اور عمل کے بجائے اس کی مذہبی شناخت سے پرکھا جاتا ہے۔ اگر آج کسی مسیحی خاندان کے لیے مکان کا دروازہ بند کیا جاتا ہے تو کل یہی رویہ کسی دوسرے مذہبی یا سماجی گروہ کے ساتھ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تعصب کی فطرت یہی ہے کہ اُسے ایک بار جواز مل جائے تو وہ اپنی حدود بڑھاتا چلا جاتا ہے۔
قرآنِ مجید کی سورۃ الممتحنہ، آیت 8 میں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے کی اجازت و ترغیب دی گئی ہے جو مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں سے جنگ نہیں کرتے اور اُنہیں ان کے گھروں سے نہیں نکالتے۔ یہ تعلیم مذہبی اختلاف کے باوجود عدل، حسنِ سلوک اور پُرامن بقائے باہمی کی اہمیت واضح کرتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب مذہبی تعلیمات میں انصاف، رواداری اور حسنِ سلوک کی بات کی جاتی ہے تو عملی زندگی میں کسی مسیحی خاندان کو محض اس کے عقیدے کی وجہ سے مکان دینے سے انکار کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا مذہب کا احترام صرف تقریروں اور تحریروں تک محدود رہ گیا ہے؟ کیا انسانیت، انصاف اور باہمی احترام کے اصول صرف اسی وقت یاد آتے ہیں جب وہ ہمارے اپنے مفاد سے متصادم نہ ہوں؟ منافقت کا دوہرا معیار کیوں؟یہاں ایک اور سوال بھی پوری شدت سے سامنے آتا ہے۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ اہلِ کتاب کے ساتھ کھانا پینا اور معاشرتی میل جول جائز ہے، اور اسلامی تعلیمات میں مسلمان مرد کے لیے اہلِ کتاب کی پاک دامن عورت سے نکاح کی اجازت کا ذکر بھی موجود ہے۔ دوسری طرف ایک مسلمان عورت کے غیر مسلم مرد سے نکاح کو روایتی اسلامی فقہ میں جائز نہیں سمجھا جاتا۔ یہ مذہبی احکام اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ جب مذہبی اختلاف کے باوجود بعض معاشرتی تعلقات اور معاملات کی گنجائش تسلیم کی جاتی ہے تو ایک مسیحی خاندان کو مکان کرایے پر دینے میں یہی اختلاف رکاوٹ کیوں بن جاتا ہے؟
کیا مذہبی اختلاف کسی انسان کے بنیادی انسانی احترام کو بھی ختم کر دیتا ہے؟ یہ کیسا دوہرا معیار ہے کہ ہم مسیحی ممالک میں تعلیم، روزگار، کاروبار، علاج اور دیگر سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہوتے ہیں، لیکن اپنے ہی ملک میں بسنے والے مسیحی شہریوں کے لیے بعض اوقات بنیادی ضروریات تک رسائی مشکل بنا دیتے ہیں؟ اگر ہم دوسرے معاشروں میں اپنے لیے مساوی مواقع، عزت اور مذہبی آزادی چاہتے ہیں تو کیا اپنے ملک میں مختلف عقیدہ رکھنے والے شہریوں کو بھی یہی احترام نہیں دینا چاہیے؟
مسیحی شہری پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کے حقوق، عزت اور تحفظ کو کسی کی ذاتی پسند یا مذہبی وابستگی سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مکان کرایے پر لینا یا دینا ایک معمول کا معاشرتی اور معاشی معاملہ ہے، جس میں کرایہ دار کی مالی استطاعت، معاہدے کی شرائط اور ذمہ داریوں کو معیار بنایا جانا چاہیے، نہ کہ اس کا مذہب۔اِسی معاشرتی تضاد اور منافقت کو میرے یہ اشعار بیان کرتے ہیں؛
عجب تماشا سا چل رہا ہے
غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے
پنپ رہی ہے منافقت بھی
عروج پستی میں ڈھل رہا ہے
( جاویدؔ ڈینی ایل)
یہ اشعار محض ایک فرد کا شکوہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔ جب مذہب محبت، رواداری اور انصاف کا درس دینے کے بجائے کسی انسان کو مسترد کرنے کا وسیلہ بن جائے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
پاکستان کا آئین بھی شہریوں کی مساوات اور مذہبی امتیاز کے خلاف اصول بیان کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانون کے مساوی تحفظ کے حق دار ہیں۔ اگرچہ نجی مکان کے کرایے کے ہر معاملے پر ان دفعات کا اطلاق متعلقہ قانون اور حالات کے مطابق طے ہوگا، لیکن شہری مساوات کا بنیادی اصول واضح ہے کہ کسی انسان کی عزت اور حقوق کو اس کے مذہب کی بنیاد پر کمتر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔مذہبی آزادی کا حقیقی مفہوم اسی وقت سامنے آتا ہے جب ہم اپنے سے مختلف عقیدہ رکھنے والے انسان کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے لیے عزت، تحفظ اور مساوی مواقع چاہتے ہیں تو دوسروں کے لیے بھی یہی اصول تسلیم کرنا ہوں گے۔ ایک پُرامن معاشرے کی بنیاد اسی احساس پر قائم ہوتی ہے کہ اختلافِ عقیدہ، اختلافِ انسانیت نہیں ہوتا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اوقات مذہبی شناخت کو سماجی تعلقات، کاروباری معاملات اور روزمرہ زندگی میں غیر ضروری رکاوٹ بنا دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ مکان کرایے پر دینے کا فیصلہ کرایہ ادا کرنے کی صلاحیت، معاہدے کی شرائط اور ذمہ داریوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی خاندان کے مذہب کی بنیاد پر۔اگر کسی مالک مکان کو کرایہ دار کے بارے میں کوئی حقیقی خدشہ ہو تو اُسے قانونی اور معاہداتی شرائط کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مذہبی شناخت کو بذاتِ خود عدمِ اعتماد کی بنیاد بنا لینا نہ صرف ایک خاندان کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ معاشرے میں باہمی بدگمانی کو بھی جنم دیتا ہے۔
آخر کب تک مذہبی شناخت کو اِنسانی تعلقات کے درمیان دیوار بنایا جاتا رہے گا؟ کب تک کسی خاندان کو اپنے عقیدے کی وجہ سے کرایے کے مکان سے محروم ہونا پڑے گا؟ کب تک مذہبی رواداری کے دعوے عملی زندگی میں تعصب کے سامنے بے بس رہیں گے؟ضرورت اس امر کی ہے کہ مالک مکان، پراپرٹی ڈیلرز، سماجی رہنما اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ کرایہ داری کے معاملات میں واضح، منصفانہ اور غیر امتیازی اصول اپنائے جائیں۔ مذہبی بنیاد پر کسی خاندان کو مسترد کرنے کے بجائے اس کی مالی استطاعت، معاہدے کی شرائط اور ذمہ داریوں کو معیار بنایا جائے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مسیحی خاندان کو مکان کرایے پر دینا کوئی احسان نہیں، اور نہ ہی کسی مسلمان مالک مکان کی مذہبی شناخت اس کے لیے کسی دوسرے شہری کے ساتھ امتیازی سلوک کا جواز بن سکتی ہے۔ مکان مالک کا ہو سکتا ہے، مگر انسان کی عزت، آزادی اور بنیادی حقوق کسی مذہبی شناخت کی محتاج نہیں۔
آئیے، ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنا کردار ادا کریں جہاں کسی انسان کو اپنے مذہب کی وجہ سے گھر کی تلاش میں ذلت، بے یقینی یا انکار کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جہاں مذہبی تعلیمات کا اصل جوہر محبت، انصاف اور انسانی احترام کی صورت میں ہماری روزمرہ زندگی میں دکھائی دے۔کیونکہ معاشرے کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہاں کتنے بلند و بالا مکانات تعمیر ہوئے، بلکہ اس سے پہچانی جاتی ہے کہ ان مکانات کے دروازے انسانوں کے لیے کتنی وسعتِ قلبی کے ساتھ کھلتے ہیں۔اور سوال پھر وہی ہے؛ آخر کب تک مذہب کے نام پر انسان کو انسان سے جدا کیا جاتا رہے گا؟
*******

