آنکھیں، چہرہ، ہاتھ لئے پھرتا ہوں مَیں
کیا کیا اپنے ساتھ لئے پھرتا ہوں مَیں
رنگوں کے انجان جزیروں کی چپ میں
خوشبو کے نغمات لئے پھرتا ہوں مَیں
گونج ہے میری چاپ میں عہدِ رفتہ کی
کھوئے ہوئے لمحات لئے پھرتا ہوں مَیں
ایک مسلسل دن ہے میری آنکھوں میں
ایک مسلسل رات لئے پھرتا ہوں مَیں
ذرا ذرا سی باتوں پر رو پڑتا ہوں !
بچوں سے جذبات لئے پھرتا ہوں مَیں
قیصرؔ ! یوں لگتا ہے جیسے اپنے ساتھ
اور بھی کوئی ذات لئے پھرتا ہوں مَیں
*******

