آس ادبی فورم کے زیرِ اہتمام پروفیسرڈاکٹر پریا تابیتا کے اعزاز میں ادبی نشست اور مشاعرہ

لاہور(یونس کھوکھر) جناب آصف عمران کی رہائش گاہ پر 4-جولائی 2026 کو معروف شاعرہ ادیبہ پروفیسر ڈاکٹر پریا تابیتا کے اعزاز میں ایک خوبصورت استقبالیہ،ادبی نشت اور مشاعرہ کا انعقاد ہوا۔ پروفیسرڈاکٹر پریا تابیتا کو حال ہی میں خداوند نے 19ویں گریڈ پر ترقی دی ہےاور گورنمنٹ کالج برائے خواتین وحدت روڈ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدہ پر سرفرازی بخشی ہے۔ اِس خوبصورت ادبی شام کی نظامت راقم(یونس ایم کھوکھر) نے کی۔
صدارت ایف سی یونیورسٹی میں ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ شعبہ اُردو ڈاکٹر انیل سیموئیل نے کی۔ مہمانِ خصوصی صدر شعبہ اُردو گورنمنٹ کالج ماڈل ٹاؤن لاہور ڈاکڑ صفدر نعیم تھے۔
تقریب کا آغاز پاسٹر عرفان نشاط چوہدری صاحب کی دُعا کی برکت سے ہوا۔ “آس ادبی فورم ” کی چیئرپرسن محترمہ آسناتھ کنول جو کہ ڈاکٹر پریا تابیتا کی دیرینہ سہیلی بھی ہیں۔ اُنہوں نےڈاکٹر پریا تابیتا کو گلدستہ اور عقیدت بھرا تحفہ پیش کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ محترمہ گلزار آصف نے بھی ڈاکٹر پریا تابیتا کو گفٹ پیک پیش کیا۔
راقم نےصاحب شام شخصیت کا مختصر تعارف احباب کی خدمت میں پیش کیا تاکہ تمام حاضرین ادب دوست پروفیسرڈاکٹر پریا تابیتا کی شخصیت کے بارے میں تفصیل سے جان سکیں۔
ڈاکٹر پریا تابیتا کی تخلیقات میں”اردو ناول کے منفی کردار: آغاز تا قیام پاکستان” 2006ء(تحقیق وتنقید)، “ہمیشہ روٹھ جاتے ہو” 2007ء (شاعری)، “یونس ادیب۔حیات و فن” 2009ء (تحقیق وتنقید)، “کلیات انجیلی” 2015ء (ترتیب و تدوین)۔

منسٹری آف یوتھ افیئرز کی طرف سے “نیشنل یوتھ ایوارڈ “حاصل کرنے کا اعزاز ابھی تک ڈاکٹر پریا تابیتا کے پاس ہے۔ڈاکٹر پریا تابیتا گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین وحدت کالونی لاہور میں جنوری 2016ء تا حال شعبہ اُردو کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔اُنہوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں 2015ء میں اوپن میرٹ پر ٹاپ کیا۔ خداوند کی مہربانی سے پبلک سروس کمیشن کی تاریخ میں مسیحی کمیونٹی میں ابھی تک یہ اعزاز صرف ڈاکٹر پریا تابیتا کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کئی ادبی تنظیموں اور اداروں کی طرف بے شمار ایوارڈ اور شلیڈز ان خدمات کے اعتراف میں دی جا چکی ہیں۔ 
تقریب میں موجود تمام احباب نےباری باری ڈاکٹر پریا تابیتا کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اُنہیں مبارکباد دی۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر صفدر نعیم ایف سی یونیورسٹی میں ڈاکٹر پریا تابیتا کے فیکلٹی میں ساتھی بھی رہے ہیں۔اُنہوں نے ڈاکٹر پریا تابیتا کی ادبی خدمات کو سراہا ۔
ڈاکٹر پریا تابیتا نے گفتگو کرتے ہوئے اپنے اعزاز میں رکھی اِس خوبصورت شام کے لیے “آس ادبی فورم” اور میزبان جناب آصف عمران کا شکریہ ادا کیا۔اُنہوں نے اپنی ساری کاوشوں کو عطیہ خداوندی سے تعبیر کیا ۔صدرِمحفل ڈاکٹر انیل سیموئیل بھی ڈاکٹر پریا تابیتا کے فیکلٹی ساتھی رہے ہیں۔ اُنہوں نے ڈاکڑ پریا تابیتا کی ادبی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔
جناب آصف عمران نے اپنا ایک تازہ مختصر افسانہ”بے نام رابط “پیش کیا۔جسے حاضرین نے بہت سراہا ۔محترمہ آسناتھ کنول چونکہ ایک معروف افسانہ نگار ہیں ۔اُنہوں نے افسانہ ” بے نام رابطہ”پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہا کہ یہ افسانہ بہترین کہانی اور بُنت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
جن شعراء کرام نےاپنے کلام سے نوازا اُن میں ڈاکٹر انیل سیموئیل، ڈاکٹر پریا تابیتا ، ڈاکٹر صفدر نعیم ، ڈاکڑ عادل امین، محترمہ آسناتھ کنول، پروفیسر فخر ولیم لالہ،ساجد پال ساجد، جاوید ڈینی ایل، طارق جاوید طارق، یونس وریام اور محترمہ کونپل حنیف شامل تھے، یوحنا جان بھی شریک ِ محفل تھے۔پُر تکلف چائے کے وقفہ کے بعدمشاعرہ کی نشت ہوئی۔تقریب کے اختتام پر آصف عمران صاحب کی اہلیہ محترمہ گلزار آصف نے بطور میزبان تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading