اگر آج ہم ٹین ایجر ہوتے! : روبنسن سیموئیل گل

جوانی گزرے تو ایک زمانہ گزر گیا مگر گزرے دنوں اس ادھیڑ عمر ذہن کی راہداریوں سے اک خیال ہو گزرا کہ اگر ہم موجودہ دور میں ٹین ایجرہوتے تو کیا ہوتا!۔ہمارے دور یعنی اسی اور نوے کی دہائی میں گھروں میں ایک ہی لینڈ لائن فون ہوا کرتا تھا۔ ریسیور کریڈل سے اٹھا کر رکھ دیا تو سمجھیں اس دوران آنے والی تمام کالوں کو بلاک کردیا۔ فون پر تالا لگا دیا گیا تو سمجھیں کہ رابطے منقطع اور مہینے بھر کے بعد بل آتا تو تمام ڈائل و موصول شدہ کالز کی فہرست بمعہ تاریخ، وقت اور دورانیہ تمام خاندان کے سامنے ہوتی اورسب ایک دوسرے سے پوچھ سکتے تھے کہ فلاں نمبر کس نے ملایا تھا، اس نمبر سے کس نے کال موصول کی تھی۔

ایک کیمرہ ہوتا تھا جس میں چھتیس تصاویر پر مبنی ایک فلم رول ڈالا جاتا تھا اور اس کی ایک تصویر بھی آپ دیکھ نہیں سکتے تھے جب تک کہ فوٹو سٹوڈیو والے پہلے ڈویلپ کرکے خود نہیں دیکھ لیتے تھے۔ گویا آپ سے پہلے وہ آپ کی تصاویر دیکھتے تھے تو کچھ شرم و حیا ہوتا تھا۔ ویڈیو کا دور بعد میں آیا مگر اس کے لیے پہلے ویڈیو کیمرہ پھر ویڈیو ٹیپ کو چلانے کے لیے وی سی آر یا وی سی پی درکار ہوتا تھا۔ ہر شے اہتمام و پلان سے کی جاتی اور سوچنے سمجھنے کا کچھ موقع مل جاتا تھا۔ بگڑی شے کو سمیٹنا آسان ہوتا تھا۔ منھ سے نکلی بات بھی سمٹ جاتی تھی مگر انٹرنیٹ وسوشل میڈیا کے دور میں تو بات تیر سے بھی زیادہ تیزی سے نکلتی اور کسی وبا کی طرح وائرل ہوجاتی ہے۔ آپ اپنے کہے اور کیے سے جان چھڑانا بھی چاہیں تو خدا تو معاف کردے گا مگر دنیا معاف نہیں کرے گی اور سوشل میڈیا بھی میموریز کی صورت میں یاد دلاتا رہے گا۔

اب تو ہر ایک کے پاس اپنا اپنا موبائل ہے۔ آپ بند کمرے میں بیٹھ کر بھی اپنی جیسی مرضی ویڈیو بنائیں اور اُسے دنیا بھر میں بھیج دیں۔ آپ کے وائرل ہونے کا دنیا کے دوسرے کونے میں پہلے پتا چل جائے گا اور آپ کے گھر والوں کو ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے علم نہیں ہوگا کہ کون سی عظیم ہستی ان کے گھر میں موجود ہے جو دیکھنے میں “ویہلی” اور بے کار نظر آتی ہے مگر دنیا بھر میں اس کے سینکڑوں ہزاروں فالوورز یعنی پیروکار ہیں۔

سب کے اپنے اپنے موبائل، سوشل میڈیا اکاونٹس اور اپنے اپنے تعلقات، اپنے اپنے تجربات و احساسات ہیں۔ کس کو بلاک کرنا ہے، کس سے بات کرنا ہے، کس کا دفاع کرنا ہے، کس کی عزت اچھالنا ہے، کسے بچانا ہے، کسے ٹھکانے لگانا ہے، سب اپنے ہاتھ میں ہے۔ اب ہاتھ لمبے ہونے کا مطلب ہے کہ آپ کے ہاتھ میں موجود موبائل کتنا اعلا ہے اور اس میں رابطوں کی فہرست کتنی لمبی ہے۔ موجودہ دور میں شہرت کے بھی اپنے اپنے پیمانے ہیں۔

اگر میں موجودہ دور میں ٹین ایجر ہوتا تو شاید میں بھی نتائج سے بے خبر، بے دریغ اپنی ذاتی تصاویر پبلک کرتا رہتا، اپنی ہر فیلنگ سے عوام کو آگاہ کرتا رہتا، اپنی زندگی کی ہر کامیابی و ناکامی کا سرعام اشتہار دیتا رہتا اور چاہتا کہ مجھے زیادہ سے زیادہ لوگ جانیں اور میں راتوں رات مشہور ہوجاؤں۔ عام لوگوں کو پتا ہو کہ میرے کن کن ہستیوں سے تعلقات ہیں۔ اگر ٹین ایجر لڑکا ہوتا تو ایک سے بڑھ ایک لڑکی کے ساتھ تصویر اپ لوڈ کرکے فخر محسوس کرتا اور اگر ٹین ایجر لڑکی ہوتا تو اپنی خوب صورت سے زاویے سے لی گئی ایڈٹ شدہ تصویر لگا کر لائکس اور کمنٹس پڑھ پڑھ کر خوشی سے پھولے نہ سماتا۔

ایک خیال یہ بھی آتا ہے کہ اگر ہمارے ماضی میں موجودہ دور والا سازو سامان اور یہ سوشل میڈیا ہوتا تو کیا ہوتا! شاید اپنے متعلق اور اپنی زندگی کے ہر پہلو کے متعلق ہر خاص و عام کو مطلع کر کے آج بیس تیس برسوں کے بعد بیٹھ کر پچھتا رہا ہوتا کہ کاش میں نے ہر ایک کو اپنی زندگی میں اس قدر شامل نہ کیا ہوتا جو اب میری اُن ہی کمزوریوں کو پکڑے ہوئے میرا مضحکہ اڑا رہے ہیں۔۔۔۔!!!۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading