ایمان،عقل اور آنے والا اِنسان : ڈاکٹر ایورسٹ جان

انسان کی تاریخ دراصل اس کی سوچ کی تاریخ ہے۔ تہذیبیں تلوار سے کم اور فکر سے زیادہ بنتی ہیں، اور قومیں اس وقت زوال پذیر ہوتی ہیں جب وہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتی ہیں۔ دنیا میں ہر بڑا انقلاب چاہے وہ فلسفے کا ہو، سائنس کا، سیاست کا یا مذہب کی تعبیر کا ایک سوال سے شروع ہوا۔ سوال ہمیشہ بغاوت نہیں ہوتا، بلکہ اکثر وہ سچائی کی تلاش کا پہلا قدم ہوتا ہے ۔سقراط نے کہا تھا کہ “غیر جانچی ہوئی زندگی، جینے کے لائق نہیں۔” اس ایک جملے میں انسانی ترقی کا پورا فلسفہ پوشیدہ ہے۔ جب انسان اپنے خیالات، اپنے رویوں اور اپنی روایتوں پر غور کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ جیتا ہوا بھی ایک طرح سے رک جاتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے غاروں سے خلاؤں تک کا سفر صرف اس لیے طے کیا کہ اس نے ہر دور میں نئے سوال پوچھنے کی ہمت کی۔ اس نے ستاروں کو دیکھا، سمندروں کو عبور کیا، بیماریوں کا علاج ڈھونڈا، اور کائنات کے راز کھولنے کی کوشش کی۔ اگر ہر نئی دریافت کو محض خوف کی نگاہ سے دیکھا جاتا تو شاید آج بھی انسان اندھیروں میں بھٹک رہا ہوتا۔

فرانسس بیکن نے کہا تھا کہ “علم طاقت ہے۔” لیکن شاید اس جملے کا دوسرا حصہ زیادہ اہم ہے کہ علم صرف طاقت نہیں، بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی سائنس، روبوٹکس، جینیاتی تحقیق اور ڈیجیٹل دنیا انسانی تاریخ کے نئے باب لکھ رہی ہیں۔ یہ صرف نئی مشینیں نہیں، بلکہ نئی تہذیبی حقیقتیں ہیں۔ ان کے سامنے آنکھیں بند کر لینے سے وہ ختم نہیں ہوں گی؛ البتہ ہم ضرور تاریخ کے حاشیے پر چلے جائیں گے۔ یہ کہنا آسان ہے کہ “ہر کام خدا پر چھوڑ دو”، مگر شاید ہم کبھی یہ نہیں سوچتے کہ خدا نے انسان کو صرف دعا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ سوچنے، سیکھنے، دریافت کرنے اور تخلیق کرنے کے لیے بھی پیدا کیا ہے۔ دعا ہاتھ اٹھانے کا نام ہے، مگر علم انہی ہاتھوں کو کام کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی فلسفیانہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر انسان خدا کی صورت پر پیدا کیا گیا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک جامد پتھر کی مورتی ہے جو زمانے کے بدلتے تقاضوں سے بے خبر رہے؟ یقیناً نہیں۔ خدا کی صورت کا مفہوم یہ نہیں کہ انسان تبدیلی سے انکار کرے، بلکہ یہ ہے کہ اس میں عقل، شعور، اخلاق، تخلیق اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتے ہیں۔ رینی ڈیکارٹ نے کہا تھا، “میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں۔” اگر اس جملے کو مذہبی زاویے سے دیکھا جائے تو شاید یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ خدا نے انسان کو سوچنے کی صلاحیت دی، اس لیے وہ اپنی تخلیق کی ذمہ داری بھی انسان کے سپرد کرتا ہے۔ سوچ ایمان کی دشمن نہیں، بلکہ اس کی ساتھی ہے۔ وہ ایمان جو سوال سے ڈر جائے، وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتا ہے، اور وہ عقل جو اخلاق سے خالی ہو جائے، انسانیت کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔

تاریخ میں مسیحیت کا روشن خیالی کا دَور ایک قابلِ غور مثال پیش کرتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بعض سائنسی نظریات کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، لیکن وقت کے ساتھ بہت سے مسیحی مفکرین نے یہ تسلیم کیا کہ اگر خدا سچائی کا سرچشمہ ہے تو سچی سائنس اس کی مخالف نہیں ہو سکتی۔ یوں ایمان اور عقل کے درمیان ایک نئے مکالمے نے جنم لیا۔ یہ مکالمہ کامل نہیں تھا، اس میں غلطیاں بھی ہوئیں، مگر اس نے ایک راستہ ضرور دکھایا کہ مذہبی روایت اپنی بنیادیں محفوظ رکھتے ہوئے نئے زمانے سے گفتگو کر سکتی ہے۔ یہ سبق صرف ایک مذہبی روایت تک محدود نہیں۔ دنیا کی ہر مذہبی روایت کو یہ سوال اپنے سامنے رکھنا ہوگا کہ کیا وہ آنے والی نسلوں کو صرف ماضی کا علم دے گی یا مستقبل کا شعور بھی عطا کرے گی؟ کیونکہ وقت صرف عقیدوں کی حفاظت نہیں مانگتا، بلکہ ان کی حکمت بھرے اطلاق کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ علامہ محمد اقبال نے انسان کو “خودی” کا پیغام دیا۔ ان کی خودی غرور نہیں تھی، بلکہ مسلسل ارتقا کا نام تھی۔ اقبال کے نزدیک ساکن پانی میں زندگی نہیں ہوتی؛ زندگی حرکت کا دوسرا نام ہے۔ ان کے الفاظ میں؛
۔”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں”۔
یہ شعر صرف شاعری نہیں، بلکہ انسانی شعور کی دائمی دعوت ہے کہ منزل کبھی آخری نہیں ہوتی۔سی۔ ایس۔ لیوس نے ایک جگہ لکھا کہ انسان کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ وہ بہت زیادہ سوچتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ بعض اوقات سوچنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ جب کوئی معاشرہ سوال کو جرم بنا دے، تحقیق کو شک کی نگاہ سے دیکھے اور اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے لگے تو اس کی فکری نشوونما رک جاتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں بھی یہی حقیقت ہے۔ نہ یہ خدا ہے، نہ شیطان۔ یہ ایک آلہ ہے، اور ہر آلے کی اخلاقی حیثیت اس کے استعمال کرنے والے پر منحصر ہوتی ہے۔ ایک ہی کمپیوٹر علم بھی پھیلا سکتا ہے اور جھوٹ بھی۔ ایک ہی مصنوعی ذہانت انسانیت کی خدمت بھی کر سکتی ہے اور انسان کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ فیصلہ مشین نہیں کرے گی؛ فیصلہ انسان کا کردار کرے گا۔ آنے والا زمانہ صرف عبادت گزار انسان نہیں مانگے گا، بلکہ ذمہ دار انسان بھی مانگے گا۔ ایسے انسان جو ایمان رکھتے ہوں، مگر تحقیق سے نہ ڈرتے ہوں؛ جو خدا پر توکل کرتے ہوں، مگر اپنی عقل کو بھی خدا کی امانت سمجھتے ہوں؛ جو اخلاق پر قائم رہیں، مگر سائنس اور ٹیکنالوجی کو بھی انسانی خدمت کے لیے استعمال کرنا جانتے ہوں۔

اگر ہم نے اپنے ذہنوں کے دروازے بند رکھے تو تاریخ ہمارے دروازے پر دستک دے کر آگے بڑھ جائے گی۔ دنیا کی رفتار اب غیرمعمولی حد تک تیز ہو چکی ہے، جبکہ ہماری فکری رفتار اگر ماضی کی زنجیروں میں جکڑی رہی تو ہمارے اور زمانے کے درمیان فاصلہ ہر روز بڑھتا جائے گا۔یہ وقت مذہب چھوڑنے کا نہیں، بلکہ مذہب کو گہری بصیرت کے ساتھ سمجھنے کا ہے۔ یہ وقت سائنس سے خوف کھانے کا نہیں، بلکہ اسے اخلاقی رہنمائی دینے کا ہے۔ یہ وقت روایت کو توڑنے کا نہیں، بلکہ اسے نئی نسل کی زبان میں زندہ رکھنے کا ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں انسان کا سب سے بڑا امتحان یہ نہیں ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کتنی ذہین ہو گئی، بلکہ یہ ہوگا کہ انسان اپنی عقل، اپنی روح، اپنے اخلاق اور اپنی ذمہ داری کو اس کے برابر کتنا بیدار رکھ سکا۔وقت ہمیشہ ان لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو اپنے ایمان کو چراغ، اپنی عقل کو راستہ، اور اپنے کردار کو منزل بنا لیتے ہیں۔ یہی وہ انسان ہے جو ماضی کا وارث بھی ہوتا ہے، حال کا معمار بھی، اور مستقبل کا امین بھی۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading