سورج، چاند، ستاروں میں
تو ہے سب نظاروں میں
قدرت جب اپنی رنگوں بھری کتاب کا کوئی نیا ورق الٹتی ہے تو انسان بے اختیار خاموش ہو جاتا ہے۔ الفاظ اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں اور احساسات بولنے لگتے ہیں۔ کہیں بادل پہاڑوں کے کندھوں پر سر رکھ کر خواب بنتے ہیں، کہیں صنوبر کے سر بہ فلک درخت ہوا کی لے پر خدا کی حمد میں جھومتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں وادیوں کے سینے سے لپٹی دھند سفید چادر کی مانند حسنِ فطرت کو اپنے دامن میں سمیٹے کھڑی ہوتی ہے، اور کہیں طلوعِ آفتاب کی سنہری کرنیں کوہساروں کی چوٹیوں پر بکھر کر یوں محسوس ہوتی ہیں جیسے آسمان زمین پر اپنی رحمت کے چراغ روشن
کر رہا ہو۔ ایسے دل آویز مناظر کو دیکھ کر دل بے اختیار گواہی دیتا ہے کہ خالق اپنی صناعی کے ہر رنگ میں جلوہ گر ہے۔
ایسے ہی سحر آفریں اور روح پرور ماحول میں 12 تا 15 جولائی 2026ء تک مری کے دل کش کوہساروں اور دل آویز وادیوں کے درمیان واقع ریٹریٹ اینڈ رینیول سنٹر، کشمیر پوائنٹ میں چند روز قیام کا شرف حاصل ہوا۔ یہ محض ایک سفر نہ تھا بلکہ فطرت کے حسن، روح کی تازگی اور خدا کی حضوری کے احساس سے معمور چند ایسے لمحے تھے جو زندگی کی قیمتی متاع بن گئے۔
اس حسین سفر کی ایک اور خوش رنگ جہت ہمارے بہت پیارے دوست، معروف شاعر، ادب نواز، ادب دوست اور وکٹری چرچز آف پاکستان کے بانی و چیئرمین پاسٹر جمشید پیٹر کی محبت بھری دعوت تھی۔ اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور ادب دوستی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف ہے، جبکہ “نیا تادیب” کے خیرخواہوں میں بھی ان کا نام ہمیشہ احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہی کی دعوت پر وکٹری چرچز آف پاکستان کی سلور جوبلی کانفرنس میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا، جس نے اس سفر کو صرف سیروسیاحت نہیں بلکہ روحانی تجدید کا ایک یادگار تجربہ بنا دیا۔
پاکستان کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے تقریباً ایک سو اسی شرکائے کانفرنس کے ساتھ رفاقت کے یہ لمحات اپنی جگہ ایک نعمت تھے۔ کینیڈا سے تشریف لانے والے خدا کے خادموں نے ارشادِ اعظم، شاگرد سازی اور کلیسیائی قیادت جیسے بنیادی موضوعات پر نہایت بصیرت افروز اور فکر انگیز تعلیم پیش کی۔ ہر سیشن دل کے کسی نہ کسی گوشے کو روشن کرتا چلا گیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے خدا کا کلام صرف کانوں تک نہیں بلکہ دلوں کی گہرائیوں تک اتر رہا ہو، ایمان کو تازگی عطا کر رہا ہو اور خدمت کے سفر میں نئے حوصلے بیدار کر رہا ہو۔
کانفرنس کی مصروفیات کے دوران پاسٹر جمشید پیٹر کی محبت، شفقت اور خلوص نے دل کو بار بار چھوا۔ وہ جب بھی لنچ کے دوران ملتے یا ریٹریٹ اینڈ رینیول سنٹر کے سرسبز صحن میں اچانک آمنا سامنا ہو جاتا تو اپنی مخصوص دھیمی، محبت بھری آواز میں پوچھتے: “جاوید بھائی! سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے؟ کوئی مشکل ہو یا کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک ضرور بتائیے۔” یہ چند جملے رسمی میزبانی کا حصہ نہیں تھے بلکہ ایک ایسے دل کی آواز تھے جو دوسروں کی آسودگی کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
زندگی کے سفر میں خدا نے مجھے چند ایسی محبت کرنے والی شخصیات سے نوازا ہے جن کے بارے میں ہمیشہ یہی احساس رہا کہ شاید یہ سب سے زیادہ محبت مجھ ہی سے کرتے ہیں۔ ابتدا میں میں اسے اپنا گمان سمجھتا رہا، مگر بعد میں جب دوسروں سے بھی یہی بات سنی تو احساس ہوا کہ یہ میرا وہم نہیں بلکہ ان نفوس کی شخصیت ہی محبت، اخلاص اور اپنائیت کا استعارہ ہے۔ پاسٹر ولسن ایلیٹ، پاسٹر حزقی ایل سروش اور چند دیگر عزیز احباب بھی اسی قافلے کے مسافر ہیں۔ پاسٹر جمشید پیٹر کو بھی میں انہی لوگوں میں شمار کرتا ہوں جن کی محبت کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ اُن کی شخصیت سے ملنے والا ہر شخص خود کو اُن کے دل کے قریب محسوس کرتا ہے۔ شاید یہی خدا کی عطا کردہ محبت کا وہ وصف ہے جو انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
اس سفر کی ایک اور خوش گوار یاد ہمارے عزیز دوست، معروف شاعر، افسانہ نگار اور ماہرِ تعلیم جناب وسیم جبران سے ملاقات بھی ہے۔ مری جانا اور ان سے ملاقات نہ ہونا گویا اس شہر کی ادبی خوشبو سے محروم رہ جانا ہے۔ اس مرتبہ بھی ان کی محبت ہمیں اُن کے آشیانے تک لے گئی۔ چائے کی خوشبو، محبت سے سجے لوازمات اور ادب سے لبریز گفتگو نے اس مختصر نشست کو ناقابلِ فراموش بنا دیا۔ اسی محبت کے اظہار کے طور پر انہوں نے اپنے تازہ افسانوی مجموعے “نیلی” کا تحفہ عطا کیا، جس میں “نیلی” سمیت اٹھارہ خوب صورت افسانے شامل ہیں۔ ایک ادیب کی طرف سے دوسرے قلم کار کو اس سے بہتر تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی تخلیقی ریاضت کا حاصل اُس کے سپرد کر دے۔ وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا، مگر ادب، زندگی اور معاشرے پر گفتگو میں یوں محو رہے کہ ایک گھنٹے کی یہ نشست پل بھر میں گزر گئی۔ دل چاہتا تھا کہ یہ ادبی محفل ابھی کچھ دیر اور سجتی رہتی۔
کانفرنس کی نشستوں کے درمیان جب کبھی فرصت کے چند لمحے میسر آتے تو نظریں بے اختیار دور تک پھیلی ہوئی وادیوں کا تعاقب کرنے لگتیں۔ بادل کبھی پہاڑوں سے بغل گیر ہوتے، کبھی خاموشی سے نیچے اتر کر درختوں کے درمیان گم ہو جاتے۔ ٹھنڈی ہوائیں چہروں کو چھوتیں تو یوں محسوس ہوتا جیسے خالقِ کائنات اپنی تخلیق کے ذریعے انسان کو اپنی قربت کا احساس دلا رہا ہو۔ اُس لمحے دل بے اختیار اعتراف کرتا کہ حسنِ فطرت دراصل حسنِ خالق کا آئینہ ہے۔
یہ چند دن اس حقیقت کا عملی اظہار تھے کہ انسان کو صرف جسمانی آرام ہی نہیں بلکہ روحانی تجدید کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ فطرت کا حسن آنکھوں کو تازگی بخشتا ہے، خدا کا کلام دل کو زندگی عطا کرتا ہے اور اہلِ علم و ادب کی رفاقت فکر کو نئی جہت عطا کرتی ہے۔ جب یہ تینوں نعمتیں ایک ہی سفر میں یکجا ہو جائیں تو سفر محض ایک یاد نہیں رہتا بلکہ شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔
واپسی کے سفر میں مری کی وادیاں نگاہوں سے اوجھل ضرور ہو گئیں، مگر اُن کی ٹھنڈی ہوائیں، بادلوں کی خاموش رفاقت، دوستوں کی محبت، خدا کے کلام کی روشنی اور اہلِ قلم کی خوشبو آج بھی دل کے دریچوں میں اُسی طرح مہک رہی ہے۔ شاید کچھ سفر ختم نہیں ہوتے، وہ انسان کے باطن میں ہمیشہ جاری رہتے ہیں؛ دعا بن کر، یاد بن کر اور زندگی کو نئے معنی عطا کرنے والی ایک دائمی خوشبو بن کر۔
خدا کی تعریف ہو کہ اُس نے نہ صرف اپنی تخلیق کے دل آویز رنگوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع عطا فرمایا بلکہ اپنے کلام کی سچائیوں سے سیکھنے، اپنے خادموں کی رفاقت سے فیض یاب
ہونے، اپنے دوستوں کی محبت سمیٹنے اور ادب و رفاقت کے انمول لمحوں کو زندگی کا سرمایہ بنانے کی بھی توفیق بخشی۔آمین!!.
*******

