Magnicifica Humanitas کو ہماری ٹیکنالوجی پر مبنی دنیا میں مصنوعی ذہانت (Artificial Inteligence۔ AI) کے نئے اخلاقی اور سماجی اثرات پر غور و فکر کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی ایک کارکن کی حیثیت سے مجھے بھی یہ دلچسپی پیدا ہوئی کہ یہ مراسلہ کیسا ہے اور اس کے انسانوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ ایک دلچسپ دستاویز ہے جسے پڑھ کر میں نے بہت لطف اٹھایا۔ اس کے کئی پہلو ایسے ہیں جن پر لکھا جا سکتا ہے۔ اس آرٹیکل میں پاپائی مراسلے میں کمزور اور پسماندہ انسانوں، گروہوں اور ملکوں پر مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی بھر مار کے اثرات پر پوپ کی تشویش کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔
پاپائے اعظم پوپ لیو کا پہلا Encyclical (مذہبی اور اصلاحی گشتی مراسلہ) بعنوان On safegaurding the Human Person in a Time of Artificial Inteligence) : ” (Magnicifica Humanitasانسانیت عظیم : مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی وجود کا تخفظ 25“ مئی 2026 کو جاری کیا گیا۔ یہ مراسلہ تقریباً 42,000 الفاظ اور 245 نمبروں والے پیراگراف پر مشتمل ہے۔ تعارف کے بعد ، پہلے دو ابواب صحیفائی اور تاریخی پس منظر فراہم کرتے ہیں اور کیتھولک سماجی تعلیمات کے طویل سلسلے کے ساتھ ربط قائم کرتے ہیں۔ اگرچہ تیسرے سے پانچویں باب تک پوپ کے دلی خدشات کا احاطہ کیا گیا ہے تاہم ان میں سابقہ پاپائی مراسلوں اور کیتھولک سماجی تعلیمات کا کافی حوالہ ہے۔
پوپ لیو اپنے خصوصی مراسلے میں انسانی وقار، انصاف کے فروغ اور باہمی اخوت کے امکان پر زور دیتے ہیں۔ وہ تعارف میں ہی یہ بیان کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں، جب انسانی وقار کو غیر انسانی رویوں کی نئی اشکال سے خطرہ لاحق ہے، یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم مکمل طور پر انسانی اقدار کے حامل رہیں۔ پوپ علم اور ٹیکنالوجی کی مخالفت نہیں کرتے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایجادات انسانی ترقی اور دنیا کی دیکھ بھال میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم اگر مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کا اختیار چند ہاتھوں میں مرکوز ہو تو اس سے غیر منصفانہ ترقی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو عدمِ مساوات کو فروغ دیتی ہے۔
پوپ فرماتے ہیں، ”مصنوعی ذہانت کا استعمال کبھی بھی محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں ہوتا۔ جب یہ ایسے عمل کا حصہ بنتی ہے جو لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتا ہے، تو اس کا تعلق، حقوق، مواقع، حیثیت اور آزادی جیسے امور سے جڑ جاتا ہے۔ ملازمت، قرض، عوامی خدمات تک رسائی یا کسی فرد کی ساکھ سے متعلق فیصلے مکمل طور پر خود کار نظاموں کے سپرد کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے“ ۔ وہ آگے لکھتے ہیں، ”نام نہاد مصنوعی ذہانت نہ تو تجربات سے گزرتی ہے، نہ ہی اس کا کوئی جسم ہوتا ہے، نہ یہ خوشی یا درد محسوس کرتی ہے، نہ تعلقات کے ذریعے پختگی حاصل کرتی ہے، نہ یہ جانتی ہے کہ محبت، کام، دوستی یا ذمہ داری کا کیا مطلب ہے۔ نیز اس کا کوئی ضمیر بھی نہیں ہوتا“ ۔ پوپ خبردار کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے ضمن میں وضع کردہ اخلاقی اصول سماجی انصاف کے مشترکہ معیارات کے مطابق ہونے چاہیے، بصورتِ دیگر اس پر اختیار رکھنے والے اپنی اقدار مسلط کر دیں گے۔
آج کل آٹومیشن، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کا ملاپ تیزی سے کام کی ساخت کو بدل رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک افراتفری میں مشینوں کا استعمال بڑھا رہے ہیں جس سے بے روزگاری اور ادارہ جاتی کشمکش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پوپ مزدوروں کے حقوق کے بارے میں فکرمند ہیں، وہ ٹریڈ یونینز کی بہت قدر کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ روزگار کے نئے طریقوں اور ان کے تقاضوں کے مطابق مزدوروں کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ قابل عمل تعلیم و تربیت میں سرمایہ کاری کرنا ضروری ہے تا کہ ڈیجیٹل اکانومی کے تقاضوں کے مطابق پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں کمی روزگار کے مواقع کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ جدت طرازی کو نا انصافی کو بڑھاوا دینے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ لیبر پالیسیوں کو روزگار کے تسلسل اور معیار کو فروغ دینے اور عدم تحفظ کے رجحان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
آزادانہ منڈی کے بارے میں پوپ نے واضح کیا ہے کہ معاشی آزادی کو عام بھلائی کے پیمانے پر ناپا جائے۔ انھوں نے پوپ فرانسس کا حوالہ دیا کہ، ”ایک منصفانہ معاشرے کو ایک چوکس ریاست اور اداروں کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف کارکردگی کی ذہنیت پر قابو پانے کے قابل ہوں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وسائل، تخلیقات اور قوانین سب سے زیادہ کمزوروں کے حق میں ہوں“ ۔ آج کل سائنسی اور تکنیکی ترقی، یہاں تک کہ طبی شعبے میں بھی، غریبوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ چنانچہ پوپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جدت کے ثمرات، جن میں طبی نگہداشت، معلومات، آلات اور مواقع شامل ہیں، تک رسائی منصفانہ بنیادوں پر ممکن بنائی جائے۔ نا برابری کے ازالے کے لئے منصفانہ قوانین اور وسائل کی دوبارہ تقسیم ناگزیر ہے۔ سیاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ معیشتوں اور ٹیکنالوجیز کا رخ عوامی مفاد کی طرف موڑے۔ وہ باعزت روزگار، سماجی شمولیت نیز دولت اور جدت کی منصفانہ تقسیم کو فروغ دے۔
بچوں کو خطرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پوپ ہماری توجہ گرومنگ (بچوں کو ورغلانا) ، بلیک میلنگ اور جنسی استحصال جیسے آن لائن معاملات کی جانب مبذول کرواتے ہیں۔ بچپن میں کسی بالغ کی نگرانی کے بغیر موبائل ڈیوائس کا استعمال بچوں کے لئے خطرات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ پوپ تجویز کرتے ہیں کہ ہم سب سے پہلے خود کو اس بات کی تعلیم دیں کہ ٹیکنالوجی کو انسانی مرکزیت کے حامل انداز میں برتا جائے۔ کمیونٹی کی مضبوط شراکت داری کے ذریعے، ہمیں صبر کے ساتھ اگلی نسل کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ ہمیں بچوں کو سکھانا چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا درست استعمال انہیں آن لائن خطرات سے بچنے اور ان کے وقار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ٹیکنالوجی کو ہمارے مستقبل کا تعین نہیں کرنے دینا چاہیے بلکہ ہمیں خود اس کو تشکیل دینا ہے۔
جنگ ہمیشہ پسماندہ افراد کے لئے زیادہ تباہ کن ہوتی ہے جبکہ طاقتور افراد مزید طاقت حاصل کرتے ہیں اور پیسہ کماتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے اس زمانے میں روایتی جنگ کے علاوہ سائبر حملے، معلومات میں ساز باز، اثر و رسوخ کی مہمات اور حکمتِ عملی کی خود کاری جیسی ہائبرڈ شکلیں موجود ہیں۔ یہ ہائبرڈشکلیں کھلے مسلح تصادم سے پہلے ہی ملکوں کو غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔ اس لئے پوپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس ماحول میں سفارت کاری کو بہت موثر ہونے کی ضرورت ہے۔ کمزور شہریوں کی حفاظت کے لئے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال پر، مشترکہ ضوابط پر بات چیت کرنا چاہیے۔
پوپ اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ماحولیاتی بحرانوں کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جس سے پسماندہ افراد اور غریب ممالک زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایسے پائیدار تکنیکی حل اپنانے کی ضرورت ہے جو ماحولیاتی اثرات کو کم کریں اور دنیا کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں۔
مصنوعی ذہانت کے اس دور میں محبت اور امن پر مبنی تہذیب کے لئے پوپ پانچ نکات تجویز کرتے ہیں ؛
1۔ الفاظ سے جارحیت کا خاتمہ (شیریں سخن)
2۔ انصاف کے ذریعے امن کا قیام
3۔ متاثرین کے نقطہ نظر کو اپنانا
4۔ مثبت حقیقت پسندی کو فروغ دینا
5۔ مکالمے اور کثیر الجہتی تعاون کا احیاء
پاپائی مراسلہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی نظام سے ہم آہنگ ہے اور اس دنیا کی مشترکہ بھلائی کے بارے میں بات کرتا ہے۔ دولت مند ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ریاستوں پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے چیلنجوں کا اس طرح سے مقابلہ کریں کہ یہ پسماندہ لوگوں کے لئے زیادہ محفوظ ہوں۔
انسانی حقوق کی ایک کارکن اور پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میں اس مراسلے کے تنبیہی لہجے سے پوری طرح ہم آہنگی محسوس کرتی ہوں۔ میں اس کے مضمرات کو دو مثالوں سے بیان کرتی ہوں۔ پہلی یہ کہ اگرچہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہے، گل احمد گروپ نے وہاں پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سنٹر کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈیٹا سنٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے بہت بڑی مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کی تعمیر پاکستان میں پانی کے بحران کو اور سنگین بنا سکتی ہے۔ نقصان سے بچاؤ کی ذمہ داری حکومت اور یوٹیلٹی کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری، قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کے جائزے کے مطابق، پاکستانی بچوں کو آن لائن جرائم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انھیں جنسی استحصال کا شکار بنایا جاتا ہے، بلیک میل کیا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے یہ خطرات بہت بڑھ گئے ہیں جب سچائی کو موڑنے کی بہت سی تیکنیکس ہیں۔ لہٰذا ہمیں بطور ریاست، کمیونٹیز اور والدین ٹھوس حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
*******

