شگفتہ گفتگو تیری : جاوید ڈینی ایل

تمہاری شگفتہ گفتگو میرے وجود پر ایسی ساعتوں کی طرح اُترتی ہے جن میں وقت بھی ادب سے خاموش ہو جاتا ہے۔ تمہارا ہر لفظ میری رُوح کے ویران دریچوں میں زندگی کی ایک نئی کرن رکھ دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے برسوں کے سفر کا تھکا ہوا مسافر کسی سرسبز چشمے کے کنارے آ بیٹھا ہو۔ میری کمر کو کوئی طلسماتی قوت جھکنے نہیں دیتی، کیونکہ تمہاری آواز حوصلہ بن کر میرے شانے تھام لیتی ہے۔ زندگی کا سفر ابھی باقی ہے، بہت سے خواب ابھی تعبیر کے منتظر ہیں، مگر تمہارے وصل کی آرزو مجھے رُکنے نہیں دیتی۔ ہجر کی ہر ساعت میرے گرد خاموش دھند کی طرح پھیل جاتی ہے، لیکن تمہاری ایک مسکراہٹ کا خیال پھر مجھے اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔ شاید یہی عشق کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ وہ انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا، بلکہ ہر شکست کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط بنا دیتا ہے۔

بعض محبتیں زمین پر نہیں اُترتیں، وہ آسمان کے کسی روشن ستارے کی طرح دِل کے اُفق پر ہمیشہ جگمگاتی رہتی ہیں۔ اُنہیں پانے کی خواہش ضرور ہوتی ہے، مگر اُن کے نہ ملنے کا ملال نہیں ہوتا، کیونکہ عشق اپنی تکمیل وصال میں نہیں، انتظار میں اپنی منزل ڈھونڈ لیتا ہے۔ محبت مل جائے تو زندگی خوب صورت ہو جاتی ہے، اگر نہ ملے تو وہ عشق بن کر رُوح میں اُتر جاتی ہے اور پھر عمر بھر دِل کے کسی مقدس گوشے میں جلنے والا ایسا چراغ بن جاتی ہے جو کبھی بجھتا نہیں۔

میری محبت بھی شاید ایسی ہی ہے۔ تم میرے لیے صرف ایک چہرہ نہیں ہو، بلکہ ایک مکمل کائنات ہو۔ تم صبح کی پہلی کرن ہو، شبنم سے بھیگے ہوئے گلاب کی خوشبو ہو، برکھا کی پہلی بوند ہو، چاندنی رات کی خاموش دُعا ہو، دُور پہاڑوں سے اُترتی ہوئی ٹھنڈی ہوا ہو، خزاں کے بعد پہلی کونپل ہو، اور اُس دریا کی طرح ہو جو صدیوں سے بہتا ہے مگر اپنی شفافیت کبھی نہیں کھوتا۔ تمہارا وجود میری زندگی کے ہر موسم کو ایک نئی معنویت عطا کرتا ہے۔

تم جب بولتی ہو تو محسوس ہوتا ہے جیسے ہوا پھولوں سے باتیں کر رہی ہو۔ تمہاری آواز میں کسی بہتے ہوئے چشمے کی سی روانی ہے، کسی بانسری کی سی مٹھاس ہے اور کسی دُعا کی سی تاثیر۔ تم مسکراتی ہو تو لگتا ہے صبح نے اپنے سارے رنگ تمہارے چہرے پر رکھ دیے ہیں۔ تمہاری خاموشی ایک مکمل غزل کی طرح میرے دِل میں گونجتی رہتی ہے۔ تمہاری ہر ادا میں فطرت کی سادگی ہے اور ہر نگاہ میں خدا کی تخلیق کا وہ حسن جھلکتا ہے جسے الفاظ پوری طرح بیان نہیں کر سکتے۔

میں نے محبت کو کبھی مانگا نہیں، صرف نبھایا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سچا عشق کسی ثبوت کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ اعتماد سے جنم لیتا ہے، وفا میں پروان چڑھتا ہے اور دُعا بن کر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ اِسی لیے میں نے کبھی تمہیں کھونے کے خوف میں محبت نہیں کی، بلکہ تمہارے ہونے کے یقین میں محبت کی ہے۔ تم جہاں بھی ہو، خوش رہو، یہی میری محبت کی سب سے سچی دُعا ہے۔

عشق شاید اِسی کا نام ہے کہ محبوب دِل میں رہے، فاصلے اپنی جگہ رہیں، مگر دِلوں کے درمیان کبھی دُوری پیدا نہ ہو۔ کچھ رشتے ہاتھوں میں نہیں آتے، صرف رُوح میں اُتر جاتے ہیں۔ پھر انسان اُنہیں پانے کی ضد نہیں کرتا، بلکہ اُنہیں جینے لگتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ بعض ملاقاتیں آنکھوں سے نہیں، دلوں سے ہوتی ہیں؛ بعض قربتیں جسموں کی نہیں، رُوحوں کی ہوتی ہیں؛ اور بعض محبتیں لفظوں سے نہیں، خاموشیوں سے اپنا اظہار کرتی ہیں۔

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ محبت کیا ہے، تو میں صرف اتنا کہوں گا کہ محبت وہ ہے جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی، ہجر سے مُرجھاتی نہیں، فاصلے سے ٹوٹتی نہیں، بلکہ ہر گزرتے موسم کے ساتھ اور زیادہ شفاف، زیادہ گہری اور زیادہ مقدس ہوتی چلی جاتی ہے۔ عشق دراصل وہ خاموش سفر ہے جس میں انسان منزل سے زیادہ راستے سے محبت کرنے لگتا ہے۔ اُس کی ہر دھڑکن ایک دُعا، ہر سانس ایک انتظار اور ہر لمحہ محبوب کی یاد کا چراغ بن جاتا ہے۔

اور عشق۔۔۔ عشق وہ ابدی آگ ہے جو جلتی نہیں، روشنی دیتی ہے؛ جو راکھ نہیں کرتی، انسان کو مکمل کر دیتی ہے۔ اگر کبھی میری داستان لکھی گئی تو اُس میں یہ ضرور لکھا جائے گا کہ ایک شخص نے اپنی تمام عمر صرف ایک شگفتہ گفتگو، ایک مسکراہٹ، ایک دید کی حسرت اور ایک پاکیزہ محبت کے سہارے گزار دی۔ وہ زندگی کے ہر موڑ پر چلتا رہا، رُکا نہیں، جھکا نہیں، ٹوٹا نہیں، کیونکہ اُسے یقین تھا کہ سچا عشق کبھی مرنے نہیں دیتا۔ وہ انسان کے وجود کو فنا نہیں کرتا، بلکہ اُسے رُوح کی روشنی میں زندہ جاوید رکھتا ہے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading