وکٹری چرچز آف پاکستان کی سلور جوبلی : 25 سالہ شاندار سفر اور مستقبل کا ویژن

مری (تادیب) وکٹری چرچز آف پاکستان کے زیرِ اہتمام 12 تا 15 جولائی 2026ء مری کے خوبصورت سیاحتی مقام کشمیر پوائنٹ میں واقع ریٹریٹ اینڈ رینیول سینٹر میں وکٹری چرچز آف پاکستان کی سلور جوبلی (25ویں سالگرہ) کے موقع پر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس یادگار کانفرنس میں پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 180 خواتین و حضرات نے شرکت کی، جبکہ کینیڈا سے تشریف لانے والے چار بین الاقوامی مہمان مقررین نے کلامِ خدا کی روشنی میں خصوصی روحانی پیغامات پیش کیے۔

کانفرنس کا آغاز اجتماعی عبادت، حمد و ثنا اور دعا سے ہوا۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وکٹری چرچز آف پاکستان کےبانی و چیئرمین پاسٹر جمشید پیٹر نے گزشتہ پچیس برسوں کی خدمت کو خدا کی وفاداری، فضل اور رہنمائی کا روشن ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سنگِ میل اختتام نہیں بلکہ ایک نئے روحانی سفر کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکٹری چرچز آف پاکستان مستقبل میں ارشادِ اعظم کی تکمیل، شاگرد سازی، نئی کلیسیاؤں کے قیام اور معاشرے کی روحانی تعمیر کے لیے پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں اپنی خدمات جاری رکھے گا۔
انہوں نے سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ
“یہ پچیس سالہ سفر خدا کی وفاداری کی ایک عظیم اور حیات آفریں داستان ہے، لیکن کلیسیا یاد رکھے کہ یہ ہماری منزل نہیں بلکہ ایک شاندار آغاز ہے۔ ہمارا عزم پختہ ہے کہ رُوح ُالقدس کی قدرت سے ہم اگلے پانچ سے دس برسوں میں وہ کام کر دکھائیں گے جو پچھلے پچیس سالوں کی محنت سے بھی دوگنا اور زیادہ عالمگیر ہو۔”
ان کے اس ولولہ انگیز پیغام نے شرکاء میں خدمت، ایمان اور مشن کے لیے نئے عزم اور جذبے کو مزید تقویت بخشی۔

کانفرنس میں کینیڈا سے تشریف لانے والے ڈاکٹر ایل پروس (Dr. Al Purvis)، پاسٹر کرس پیگن (Pastor Kris Pagan)، پاسٹر میتھیو واٹسن (Pastor Matthew Watson) اورپاسٹر ربیکا واٹسن (Pastor Rebecca Watson) نے مختلف روحانی موضوعات پر بائبل پر مبنی تعلیمات پیش کیں۔

ڈاکٹر ایل پروس نے کلیسیا کو ایک روحانی خاندان قرار دیتے ہوئے ابراہام، اضحاق اور یعقوب کی مثال سے نسل در نسل خدمت کے تسلسل اور روحانی وراثت کی اہمیت پر زور دیا۔پاسٹر کرس پیگن نے ساؤل اور یونتن کی زندگی سے مثالیں پیش کرتے ہوئے نوجوانوں کو خدا کی طرف سے عطا کردہ ذمہ داریوں میں وفادار رہنے اور اپنے الٰہی مقصد کو پہچاننے کی تلقین کی۔ پاسٹر میتھیو واٹسن نے باپ جیسی روحانی قیادت اور مینٹورشپ کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مضبوط کلیسیا، مضبوط روحانی باپوں اور تربیت یافتہ نسلوں سے وجود میں آتی ہے۔

عبادت کے خصوصی سیشنز میں پاسٹر ربیکا واٹسن نے اپنی پُرتاثیر آواز میں روحانی گیت پیش کیے، جنہوں نے شرکاء کو خدا کی حضوری میں مزید قریب کر دیا۔ پاکستان کے اپنے پہلے دورے پر اُنہوں نے پاکستانی مسیحیوں کی محبت، مہمان نوازی اور مضبوط ایمان کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ اُنہیں اس خوبصورت ملک میں پہلے آنا چاہیے تھا، کیونکہ یہاں کے ایمانداروں کی محبت اور اخلاص ان کے لیے ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔

کانفرنس کے دوران مختلف علاقوں سے آئے ہوئے خادموں نے اپنی روحانی خدمات کی گواہیاں پیش کیں، جبکہ خصوصی ڈاکومنٹری ویڈیوز کے ذریعے وکٹری چرچز آف پاکستان کے پچیس سالہ سفر، کامیابیوں اور مشن کو اجاگر کیا گیا۔

منتظمین کے مطابق وکٹری چرچز آف پاکستان اس وقت ملک بھر میں 31 فعال برانچوں کے ذریعے ارشادِ اعظم کی تکمیل، کلیسیاؤں کے استحکام، شاگرد سازی اور روحانی خدمت میں سرگرمِ عمل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تنظیم مختلف علاقوں میں پرائمری اسکولز بھی چلا رہی ہے، جہاں معیاری تعلیم کے ساتھ بچوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

سلور جوبلی کی مناسبت سے 25ویں سالگرہ کا یادگاری کیک بھی کاٹا گیا، جبکہ وکٹری چرچز آف پاکستان کی ترقی اور خدمت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے سینئر پاسٹرز، راہنماؤں اور خادموں کو ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز اور خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے خدا کی وفاداری پر شکرگزاری کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئندہ بھی خوشخبری کی منادی اور معاشرے کی روحانی و اخلاقی تعمیر کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔

کانفرنس کے اختتام پر پاکستان، کلیسیا، وکٹری چرچز آف پاکستان کی قیادت، ملک میں اَمن، روحانی بیداری اور خوشخبری کے فروغ کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شرکاء نئے عزم اور تازہ روحانی ولولے کے ساتھ اپنے اپنے شہروں کو روانہ ہوئے تاکہ مسیح کے پیغامِ محبت، اُمید اور نجات کو مزید مؤثر انداز میں معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچا سکیں۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading