قومی یومِ اقلیت اور اقلیتوں میں خوف کی فضا : ولیم پرویز

گیارہ اگست پاکستان میں قومی یومِ اقلیت ہے۔ اس دن ہر سال یہ عہد دہرایا جاتا ہے کہ ملک میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں برابر کی شہری ہیں۔ لیکن شاید اس سال اس عہد کو پرکھنے کا سب سے مناسب مقام کوئی سرکاری تقریب نہیں بلکہ اسلام آباد کی وہ کچی آبادیاں ہیں جہاں ہزاروں خاندان اپنے گھروں کے مستقبل کے بارے میں خوف زدہ ہیں۔ سوال محض یہ نہیں کہ یہ بستیاں قانونی ہیں یا غیر قانونی، بلکہ یہ ہے کہ ایک غریب شہری کے لیے گھر کا تحفظ، عزتِ نفس اور شہری ہونے کا حق کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتا ہے؟اور جب ان بستیوں میں بڑی تعداد مسیحی خاندانوں کی ہو تو یہ سوال اقلیتوں کے وسیع تر عدم تحفظ سے بھی جڑ جاتا ہے۔

مارچ 2026 میں رِمشا ، اکرم مسیح گل، علامہ اقبال جی سیون اور مسکین کالونی سمیت دیگر کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو بے دخلی کے نوٹس دیئے گئے اور متاثرین میں ہزاروں مسیحی خاندان شامل تھے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اسلام آباد کی کچی آبادیوں میں انہدامی کارروائیاں فوری روکنے کا مطالبہ کیا اور کچی آبادیوں کے رہائشیوں نے بھی سیاسی راہنماؤں کی قیادت میں مسلسل اجتمامات اور ریلیوں کے ذریعے شدید ردعمل کا اظہار کیا، جس کے نتیجہ میں پارلیمانی منارٹی کاکس نے نوٹس لیا اور سی ڈی اے حکام سے اس حوالے سے تفصیلات طلب کیں، جن کی روشنی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جسے ایک ماہ میں اس مسئلہ کا مستقل اور منطقی حل تلاش کرنے کا فریضہ سونپا گیا اور اس عمل میں کچی آبادیوں کی مقامی قیادت کو بھی شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ۔ تقریبا ً دوماہ ہونے کو ہیں اور تاحال اس پر خاموشی ہے ، جو کچی آبادیوں میں خوف کی فضا کو مزید گہر ا کررہی ہے ۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ کچی آبادیوں کا مسئلہ صرف اقلیتوں کا نہیں بلکہ وہاں رہنے والے مسلمان بھی اسی غربت، بے دخلی اور قانونی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ مگر اقلیتی خاندانوں کے لیے یہ عدم تحفظ پہلے سے موجود مذہبی اور سماجی خوف کے ساتھ مل کر زیادہ پیچیدہ صورت اختیار کر لیتا ہے۔ عام طور پر اقلیتوں کے خوف کو مذہبی تشدد، توہینِ مذہب، جبری تبدیلیٔ مذہب یا عبادت گاہوں پر حملوں سے جوڑا جاتا ہے ، لیکن خوف کی ایک کم دکھائی دینے والی شکل اپنے گھر کے غیر محفوظ ہونے کی بھی ہے۔

ایک مسیحی خاندان جو کئی دہائیوں سے کسی کچی آبادی میں رہتا ہے، اس کا گھر محض اینٹوں، ٹین اور لکڑی سے بنا ہوا ڈھانچہ نہیں ہوتا۔ وہ اس کا محلہ، رشتہ داری کا نیٹ ورک، روزگار تک رسائی، بچوں کا اسکول اور مشکل وقت میں اپنی برادری کا سہارا بھی ہوتا ہے۔اس لیے جب اسے گھر چھوڑنے کا حکم ملتا ہے تو وہ صرف ایک مکان سے ہی نہیں ، سماجی تحفظ کے نظام بھی محروم ہو جاتاہے، اوریہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلام آباد کی کچی آبادیوں کا مسئلہ اقلیتوں کے وسیع تر سوال سے جڑتا ہے۔

یہاں اس حقیقت کو مدنظر رکھنا ضرور ی ہے کہ اقلیتوں کے مسائل کو صرف مذہبی آزادی تک محدود کرنا ایک فکری غلطی ہے۔ایک شخص کو عبادت کی آزادی حاصل ہو، لیکن اسے محفوظ گھر نہ ملے؛ اسے ووٹ دینے کا حق حاصل ہو، لیکن روزگار میں امتیاز کا سامنا ہو؛ اسے آئینی مساوات حاصل ہو، لیکن اس کی بیٹی جبری تبدیلیٔ مذہب کے خوف میں زندگی گزارے، تو کیا اسے مکمل شہری آزادی کہا جا سکتا ہے؟یہی وجہ ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کا سوال مذہبی، معاشی، سماجی اور رہائشی حقوق کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔

اسلام آباد کی کچی آبادیوں میں بسنے والے غریب شہری ہمیں اسی حقیقت کی یاد دہانی کرا رہے ہیں۔ریاست کا مؤقف ہو سکتا ہے کہ سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیرات برقرار نہیں رکھی جا سکتیں۔ یہ ایک قابلِ فہم انتظامی دلیل ہے۔ مگر ریاست کی ذمہ داری یہاں ختم نہیں ہوتی۔اگر کوئی بستی کئی دہائیوں سے قائم ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے:ان لوگوں کو وہاں رہنے کیوں دیا گیا؟ان سے بجلی، پانی، گیس یا دیگر شہری سہولتوں کے معاملات کیسے چلتے رہے؟ان کے بچوں نے کہاں تعلیم حاصل کی؟ان لوگوں نے شہر کی معیشت میں کن خدمات کے ذریعے حصہ ڈالا؟اور اگر اب انہیں وہاں سے ہٹانا ضروری سمجھا جا رہا ہے تو ان کے لیے متبادل رہائش کہاں ہے؟کسی غریب خاندان کا گھر گرانا آسان ہے؛ اسے باعزت متبادل گھر دینا ریاستی ذمہ داری ہے۔بالخصوص اس وقت جب متاثرین میں بڑی تعداد ایسے اقلیتی خاندانوں کی ہو جو پہلے ہی مذہبی اور معاشی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

پاکستان کا آئین شہریوں کی مساوات اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ ضمانتیں آئینی کتاب سے نکل کر غریب شہری کے گھر کی دہلیز تک پہنچیں۔اسلام آباد کی کچی آبادیوں کے معاملے میں حکومت کو تین باتیں یقینی بنانی چاہئیں؛ شفافیت، متبادل رہائش اور انسانی وقار۔کیونکہ پاکستان میں غربت کا بوجھ بہت بڑا ہے، لیکن مذہبی اقلیتیں اس معاشی محرومی کو مزید گہری شکل میں برداشت کرتی ہیں۔آج پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کو کئی طرح کے خوف کا سامنا ہے؛ توہینِ مذہب کے جھوٹے الزام، جبری تبدیلیٔ مذہب، عبادت گاہ پر حملے، روزگار میں امتیاز اور گھر کے چھن جانے کا خوف۔ بظاہر یہ خوف الگ الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر ان سب کے پیچھے ایک ہی بنیادی خواہش ہے:ریاست ہمیں تحفظ دے۔

تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو 1947 میں پاکستان کا وجود بھی اُس وقت کی اقلیتی آبادی کےخوف سے ہی عمل میں آیا۔ مسلم اقلیت کو خوف تھا کہ ہندو اکثریت اُن کے حقوق کا خیال نہیں رکھے گی، لیکن وہ اقلیت جو اب اکثریت میں بدل چکی ہے،اُس نے آج کی اقلیتوں کو ٹھیک اُسی خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ قائداعظم کی گیارہ اگست 1947 کی تقریر کے بنیادی نکات کی ہی خلا ف ورزی نہیں،بلکہ اس خوف سے بھی انحراف ہے جس کے تحت 23 مارچ،1940 کو خودمختار ریاستوں/ریاستی وحدتوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس لئے قومی یومِ اقلیت کو اگر صرف تقاریر، سیمیناروں اور اخباری بیانات تک محدود رکھا جائے تو اس کا بنیادی مقصد ادھورا رہ جائے گا۔اس دن ہمیں یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ پاکستان میں اقلیت( ایک کے علاوہ ) کو صرف مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے یا خوف کے بغیر زندگی گزارنے کا بھی حق ہے؟ خوف کے بغیر گھر، خوف کے بغیر عبادت، خوف کے بغیر روزگار، خوف کے بغیر اپنی بیٹی کو اسکول بھیجنے کا اطمینان اور خوف کے بغیر اپنے مستقبل کا خواب دیکھنے کا حق ؛سب بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہیں۔

آج قومی یومِ اقلیت کے موقع پر ریاست کو عہد کرنا ہوگا کہ ا س ملک کا کوئی شہری، خواہ اس کا مذہب، طبقہ یا رہائش کچھ بھی ہو، گھر، شناخت اور مستقبل کے بارے میں خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہو۔ اسی صورت میں گیارہ اگست ’’یومِ اقلیت‘‘ سے بڑھ کر یومِ مساوی شہریت بن سکے گا۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading