۔’’اسرارِ مکاشفہ“ بظاہر ایک منفرد اور فکر انگیز موضوع کو سامنے لاتی ہے، جس میں اعداد کو محض ریاضیاتی علامات کے بجائے ایک روحانی، فکری اور علامتی نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ محترم پادری عرفان نشاط نے اپنے مقدمے اور دیگر ابتدائی ابواب میں یہ واضح کیا ہے کہ دُنیا میں پائی جانے والی ہر شے،خواہ وہ مظاہرِ فطرت ہوں یا انسانی تجربات یہ سب ایک خاص نظم اور ترتیب کے تابع ہیں، اور اس نظم کی بنیاد اعداد پر قائم ہے۔
کتاب کا آغاز ایک ایسے مقدمے سے ہوتا ہے جو قاری کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ مصنف اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ اعداد محض گنتی کا ذریعہ نہیں بلکہ کائنات کے اسرار کو سمجھنے کی ایک کنجی ہیں۔ وہ بائبلی تعلیمات اور روحانی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اعداد میں پوشیدہ معنی انسانی زندگی کے مختلف پہلووں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
کتاب کے ابتدائی حصے میں“سادہ اعداد کا تاریخی پس منظر”اور“علم الاعداد”جیسے موضوعات شامل ہیں، جو قاری کو بنیادی فہم فراہم کرتے ہیں۔ یہاں مصنف نے نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں پیچیدہ تصورات کو بیان کیا ہے، جو اس کتاب کی ایک بڑی خوبی ہے۔ عام قاری بھی بغیر کسی خاص علمی پس منظر کے اس موضوع کو سمجھ سکتا ہے۔مزید برآں، کتاب میں اعداد کے مختلف استعمالات اور ان کی اقسام،جیسے اعداد کی ترتیب، تکرار، اور خاص اعداد کی اہمیت و دیگر موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ خاص طور پر عدد چھے سو چھیاسٹھ(۶۶۶) جیسے موضوعات کو بائبلی تناظر میں بیان کیا گیا ہے، جو قاری میں تجسس پیدا کرتا ہے۔ مصنف نے ان موضوعات کو نہ صرف مذہبی حوالے سے بلکہ فکری اور تجزیاتی انداز میں بھی پیش کیا ہے۔
اس کتاب کا ایک نمایاں پہلو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ”اعداد کے ذریعے روحانی پیغام “کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ کائنات میں موجود ہر چیز ایک خاص ترتیب کے تحت کام کر رہی ہے، اور اگر انسان ان اعداد کے راز کو سمجھ لے تو وہ اپنی زندگی کے مسائل اور روحانی سوالات کے جوابات پا سکتا ہے۔ یہ نقطہءنظر کتاب کو محض ایک علمی یا تحقیقی تحریر کے بجائے ایک روحانی رہنمائی کا درجہ دیتا ہے۔
کتاب میں شامل تبصرے بھی اس تصنیف کی اہمیت کو بڑھا وا دیتے ہیں۔ مختلف علمی و مذہبی شخصیات نے اس کتاب کو سراہا ہے اور اسے ایک اہم کاوش قرار دیا ہے۔ ان تبصروں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ کتاب نہ صرف عام قارئین بلکہ سنجیدہ مطالعہ کرنے والوں کے لیے مفید ہے۔
”…. اسرارِ مکاشفہ ایک خوب صورت اور پُر از معلومات کتاب ہے۔ مصنف نے بڑی خوب صورتی سے اس کے مشکل اور گنجلک مقامات کو آسان ترین لب و لہجہ اور زبان میں تشریح سے نوازا ہے۔“ (بشپ ریورنڈ ڈاکٹر نعیم پرشاد….گریس اسمبلیز آف پاکستان)
”…….. اسرارِ مکاشفہ ایک بصیرت افروز کتاب ہے جسے مصنف نے بڑی عرق ریزی سے تحریر کیا ہے۔اس تصنیف کا اسلوب دفاعی، حتمی، پراعتماد، ناصحانہ، دلیرانہ اور چیلنج سے لبریز ہے۔”اسرارِ مکاشفہ “میں مختلف الٰہیاتی موضوعات پر کی گئی مدلل، موئثر اور بصیرت افروز گفت گو دماغ کو روشن کرنے والی اور دل میں اتر جانے والی ہے۔“ (پروفیسر ڈاکٹر وکٹوریہ پیٹرک امرت)
تاہم، کتاب کے بعض پہلو ایسے بھی ہیں جہاں تنقیدی نظر کی گنجائش موجود ہے۔ مثال کے طور پر، بعض مقامات پر اعداد کی تشریح زیادہ قیاسی محسوس ہوتی ہے، جسے ہر قاری آسانی سے قبول نہیں کر سکتا۔ اسی طرح، اگرچہ مصنف نے بائبلی حوالوں کو بنیاد بنایا ہے،شاید اسی لئے دیگر مذاہب یا سائنسی نقطہءنظر اس تحقیقی کام میں تقابلی اضافہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
زبان و بیان کے اعتبار سے کتاب نہایت سادہ، رواں اور دلنشین ہے۔ مصنف نے مشکل اصطلاحات سے گریز کیا ہے اور مثالوں کے ذریعے اپنے خیالات کو واضح کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب نہ صرف علماءبلکہ عام تعلیم یافتہ قاری کے لیے بھی قابلِ فہم ہے۔
فہرستِ مضامین سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب کو باقاعدہ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں ہر باب ایک خاص عدد یا تصور کے گرد گھومتا ہے۔ اس ترتیب سے قاری کو کسی بھی موضوع کو مرحلہ وار سمجھنے میںمدد ملتی ہے۔ مزید یہ کہ کتاب میں عملی مثالیں اور سوالات بھی شامل ہیں، جو قاری کوگیان دھیان اور سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ کتاب ایک منفرد موضوع پر لکھی گئی ایک قابلِ قدر کاوش ہے۔ یہ قاری کو نہ صرف اعداد کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہے بلکہ اسے ایک نئے زاویے سے دُنیا کو دیکھنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔اگر مکاشفاتی موضوعات کو مد ِ نظر رکھ کر دیکھا جائے تو پادری عرفان نشاط چوہدری کی تصنیف، ”اسرارِ مکاشفہ“ بمطابق یوحنا عارف کا مکاشفہ کوئی حتمی یا آخری تصنیف نہیں ہے بلکہ ان الہٰیاتی موضوعات کے مزید تحقیقی پہلوﺅں پر قلم کشائی کی جاسکتی ہے۔ بائبل مقدس کے کئی ایک محققین اور مفسرین مکاشفاتی علامات و واقعات اور مخصوص اعداد میں پنہا پیغام اور اشارات کو بیان کرتے آئے ہیں۔ اگرچہ بعض نکات مزید تحقیق کے متقاضی ہیں، تاہم کتاب کا بنیادی مقصد،یعنی بائبل مقدس کی آخری کتاب مکاشفہ میں بیان کئے گئے اعداد، واقعات اور علامات کے ذریعے کائنات اور روحانیت کو سمجھنا قارئین کے کافی حد تک ممد ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ کتاب ان باذوق افراد کے لیے خاص طور پر ایک بیش قیمت تحفہ ہے جو روحانیت، مذہب، اور کائناتی اسرار میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ایک مختلف زاویہءفکر کے ساتھ اپنے فہم اور سمجھ کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔
*******


