لاہور (تادیب) آس ادبی فورم کے زیرِ اہتمام نامور افسانہ نگار آصف عمران کے افسانوں کے پانچویں مجموعے ’’مسافت ناتمام‘‘ کی تقریبِ رونمائی 12 جون 2026 کو شام چار بجے مولانا ظفر علی خاں فاؤنڈیشن کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت ممتاز ادیب، محقق اور نقاد ڈاکٹر غلام حسین ساجد نے کی جبکہ نظامت کے فرائض میجرشہزاد نیر نے انجام دیے۔مہمانِ اعزاز محترمہ سلمیٰ اعوان (ستارہِ امتیاز) اور مہمانان خصوصی ڈاکٹر نجیب جمال، ڈاکٹر ایوب ندیم، ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ اور فرحت پروین تھے۔
تقریب کا آغاز آصف عمران کی شخصیت، ادبی خدمات اور تخلیقی سفر پر مبنی ایک مختصر دستاویزی فلم دکھائی، جِسے حاضرین نے بے حد دلچسپی سے دیکھا اور سراہا۔
اس موقع پر معروف شاعر ساجد پال ساجد نے فادر الماس جون کا تنقیدی مقالہ پیش کیا، جس میں آصف عمران کی فضا آفرینی، علامتی اظہار اور منفرد اسلوبِ نگارش کو نمایاں قرار دیا گیا۔ مختلف مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آصف عمران کے افسانے انسانی نفسیات، سماجی شعور، وجودی سوالات اور روحانی و فکری جہات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر علی عمران، شاہد بخاری، آسناتھ کنول، آفتاب جاوید، پروین سجل، فرحت پروین، ممتاز راشد لاہوری، ڈاکٹر شاہدہ دلاور، سلمیٰ اعوان، ڈاکٹر ایوب ندیم اور ڈاکٹر نجیب جمال سمیت متعدد ادیبوں اور ناقدین نے آصف عمران کی ادبی خدمات اور ان کے نئے مجموعے پر اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے کہا کہ ’’مسافت ناتمام‘‘ نہ صرف ایک پختہ تخلیقی شعور کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ معاصر اردو افسانے میں ایک اہم اضافہ بھی ہے۔
صدارتی خطاب میں ڈاکٹر غلام حسین ساجد نے کہا کہ آصف عمران نے اپنی فکری اور علامتی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس مجموعے میں کہانی کے عنصر کو مزید مضبوط کیا ہے، جس سے ان کے قارئین کے لیے زیادہ مؤثر اور دل چسپ بن گئے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے آصف عمران کو ان کے پانچویں افسانوں کے مجموعے کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی اور اردو افسانے کے فروغ میں ان کی خدمات کو سراہا۔ آخر میں آس ادبی فورم کے جنرل سیکرٹری یونس کھوکھر نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور شرکائے تقریب کو پُرتکلف چائے کی دعوت دی۔
ادارہ تادیب پبلی کیشنز ، آصف عمران کے افسانوں کے پانچویں مجموعے “مَسافتِ ناتمام” کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہے، اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔


