بڑے دن پر جب ہم گھر جاتے ہیں تو ہمارے گھر میں سندھ کے ایک چھوٹے شہر سے مٹھائی کا ڈبہ آیا ہوتا ہے۔ سندھ کے کسی شہرہسپتال میں کام کرنے والی ولیم قصائی کی بیٹی مونا یہ مٹھائی کا ڈبہ بڑی عقیدت سے لے کر آتی ہے۔ وہ ابو اور امی کے پاس بیٹھ کر اُن کا احوال دریافت کرتی ہے۔ پھر اپنی کامیاب زندگی کے بارے بتاتی ہے ۔ یہ ہر سال کا معمول ہے۔
درحقیقت ولیم قصائی کی بیٹی مونا اَن پڑھ رہ گئی تھی۔ جب عمر زیادہ ہو گئی تو گھر والوں نے سکول بھیجا ہی نہیں۔ بہرحال وہ باقاعدگی سے چرچ جاتی تھی۔ اِس دوران اُس کے دِل میں بائبل پڑھنے کی خواہش نے جنم لے لیا ۔ ایک روز اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ بائبل پڑھنے کے لائق ہو جاؤں۔ ولیم قصائی کا گھر ہماری گلی کی نکڑ پر ہے۔ وہ بیٹی کو ابو کے پاس لے آئے اور درخواست کی ” بھاہ جی ایہہ چاہندی اے کہ اینوں بائبل پڑھنی آ جائے “ (بھاہ جی یہ چاہتی ہے کہ اِس کو اتنا پڑھا دیا جائے کہ یہ بائبل پڑھ سکے)۔ ابو نے لڑکی کا حوصلہ بڑھایا اور اُسے کہا ” بیٹا بائبل پڑھنے لائق تو تم ہو ہی جاؤ گی۔ مگر یہاں آئی ہو پہلے پانچویں ، پھر آٹھویں اور پھر میٹرک کرکے جاؤ گی“۔ لڑکی کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ اُسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ دیکھنا تمہارا شوق اب تمہارے لئے کامیابی کے کیسے کیسے دروازے کھولے گا۔ ابو کے اِس جملے نے مونا کو خوشی اور جوش سے بھر دیا ۔
اگلے روز سے مونا کو میری امی نے پڑھانا شروع کر دیا ۔ مہینوں میں اُس کو جماعت اول سے پانچویں کا کورس مکمل کروایا گیا۔ مونا بھی بہت دل جمعی سے کام کرتی تھی۔ پھر ابو نے اُس کو چھٹی سے آگے کے کورس پڑھائے۔ آٹھویں جماعت پاس کروا دی۔ اِس دوران معلوم ہوا کہ مونا کا یونین کونسل میں کوئی ریکارڈ درج نہیں تھا اور نہ ب فارم بن سکتا تھا۔ یہ سب مکمل کروا کر مونا کو باقاعدہ نویں جماعت میں داخل کروا دیا گیا۔ مونا کی بنیاد بن چکی تھی۔ اِس دوران وہ باقاعدگی سے آتی اور پڑھائی میں رہنمائی لیتی رہی۔ وہ اپنے شوق کی توانائی سے ہی میٹرک پاس کر گئی۔ بعدازاں اُسے سندھ میں کسی ہسپتال میں ٹریننگ میں داخلہ مل گیا ۔ ایسے ہوا کہ اُس نے اپنے ایک بھائی کو بھی وہیں ملازمت دلوا دی۔ اب ہر سال جب بڑے دن پر گھر آتی ہے تو عقیدت اور شکرگزاری کی مٹھائی کا ڈبہ لے کر آتی ہے اور دیر تلک بیٹھ کر اپنی باتیں سناتی ہے۔
ابوکوئی ڈھائی سال تک امریکہ میں رہے ۔ اِس دوران اُنہیں گرین کارڈ بھی مل گیا تھا ۔ ابو کا قیام سالٹ لیک سٹی میں ہماری سب سے بڑی پھپھو کے ہاں تھا۔ ڈھائی سال بعد جب وہ واپس آئے تو ہم نے اُنہیں واپس نہیں جانے دیا۔ اُن کے آنے کے دو سال بعد ڈاک کے ذریعے ایک خط آیا ۔ یہ خط سالٹ لیک میں ابو کی رہائش کی گلی میں رہنے والی ایک لڑکی کا تھا۔ خط میں لکھا تھا ” آپ کو یاد ہو گا کہ امریکہ میں بھی آپ کی ایک بیٹی ہے۔ آپ ہماری گلی میں رہتے تھے۔ گلی میں سیر کرتے ایک روز مجھے ملے تو پوچھا کہ کیا کرتی ہو۔ میں نے بتایا کہ میں نے پڑھائی چھوڑ دی ہے۔ یہاں سے ہماری دوستی ہو گئی۔ آپ نے ہر روز مجھے دوبارہ پڑھائی شروع کرنے کے لئے قائل کرنا شروع کیا ۔
آپ کے بار بار اصرار پر میں نے پڑھائی شروع کی تو آپ مجھے پڑھانے لگے۔ آپ بہت اچھا پڑھاتے تھے۔ میں کئی بار اکتا کر جھگڑا کر کے اُٹھ جاتی۔ لیکن آپ اگلے روز وہیں سے مجھے پڑھانا شروع کر دیتے۔مَیں بدتمیزی کرتی تو آپ اِس کو نظر انداز کر دیتے تھے۔ کیونکہ آپ کی نظر میری بحالی جیسے بڑے مقصد پر تھی۔ آج میں نے گریجویشن کر لی ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ میری رُکی ہوئی زندگی کو نئی سمت آپ نے ہی دی ہے۔ میری زندگی میں اِس بہت بڑی کامیابی میں صرف اور صرف آپ کی محبت اور محنت کا ہاتھ ہے۔ آپ سچ مچ میں ایک بے مثال اُستاد ہیں۔ آپ کو خدا نے میرے لئے بھیجا تھا“ خط میں ایک طرف اردو میں ” خدا بھلا کرے “لکھا ہوا تھا۔ یہ ابو کی لکھائی تھی۔ ہو سکتا ہے اُس لڑکی کو پڑھاتے ہوئے کسی کاغذ پر ابو نے مارکر سے یہ لکھا ہو ( مارکر یا قلم دیکھ کر کچھ خطاطی کرنا اُن کا معمول تھا) ۔ کیا معلوم اُس نے اِس کا مطلب بھی پوچھا ہو اور ابو نے بتایا ہو۔ لڑکی نے خط کو ابو کے لکھے ہوئے الفاظ پر رکھ کر ٹریس کیا تھا۔ اور خدا بھلا کرے کی دُعا دی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ ابو کی زندگی میں ایسے بچوں کی بے شمار کہانیاں ہیں جن کی بنجر زندگیاں نخلستان بن کر اپنے ارد گرد لوگوں کے لئے اگست کا مہینہ ہمارے خاندان کو اُداس کر دیتا ہے۔
دو سال قبل 10اگست کو ابو اپنی زمینی زندگی کا سفر مکمل کر کے ہمیں چھوڑ گئے۔ 1960ءکی دہائی میں لا سال ہائی سکول ملتان شہر کا سب سے بڑا سکول تھا۔ ابو یہاں ریاضی اور سائنس پڑھاتے تھے۔ ریاضی اور سائنس کے اساتذہ کی آمدن بہت زیادہ ہوا کرتی تھی اور میرے ابو کی آمدن بھی ایسی ہی تھی۔ بہرحال وہ یہ سب کچھ چھوڑ کر آدھی سے بھی کم تنخواہ پر سٹونزآباد آ گئے۔ اُس وقت سٹونزآباد میں ابھی بجلی بھی نہیں آئی تھی۔ ملتان خورشید کالونی میں سرونٹ کوارٹر والی کوٹھی میں رہائش چھوڑ کر کچے مکان میں بسنے کا فیصلہ کر لیا ۔ سٹونزآباد اور گرد ونواح کے مسیحی بچوں کے مستقبل کے لئے اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے امکانات کو قربان کر دینے کا حوصلہ غیر معمولی کمٹمنٹ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اِس کمٹمنٹ میں کبھی بال برابر بھی فرق نہیں آیا۔ اُن کے گھر کا درواز ہ اُن کے دل کی مانند ہمیشہ کشادہ رہا۔ہمیں وراثت میں کوئی زمین جائیداد نہیں ملی لیکن اپنے لوگوں کی خدمت، اُن کے حقوق کی آواز بننا، اُن کے لئے امکان پیدا کرنا ، چرچ کی بےلوث خدمت کرنا ہماری وراثت ہے۔ جو ہم نے دیانت داری سے اپنے بچوں تک پہنچائی ہے۔
آج دو برس ہو گئے ہیں ۔ اور اِسی طرح سال گزرتے جائیں گے۔ لوگوں کی خدمت کے لئے اُن کے جذبے اور بے لوث و بے ریا محبت کے لئے ہمارے دل خداوند کی شکرگزاری سے بھرے ہیں تاہم ہماری آنکھیں تازہ آنسوؤں سے لبریز ہیں۔ اُن کو نہ دیکھ پانے کا دُکھ کسی لمحے بھی محو نہیں ہو پایا۔ میرا بیٹا یوآس بن سمن جب چرچ میں ” تڑکے میں تینوں ڈھونڈاں “ گاتا ہے تو مجھے لگتا ہے میرے ابو یہیں ہیں۔ جب میری بیٹی ماہ رخ سٹونزآباد اور پورے پاکستان میں کالج اور بی ایس این کے لئے داخلہ ڈھونڈنے والے بچوں بچیوں کے لئے سکالرشپس کے لئے محنت کرتی ہے تو مجھے لگتا ہے میرے ابو یہیں ہیں۔ جب عینی اپنے لوگوں کے حقوق کے لئے اُن کی آواز بنتی ہے تو مجھے لگتا ہے میرے ابو یہیں ہیں۔ یہیں کہیں ہمارے اندر سانس لے رہے ہیں ۔ بہر حال یہ ؎ احساس ایک جانب خوش کن ہے مگر اُن کے پاس نہ ہونے کے دُکھ کو اور گہرا کر دیتا ہے جس کے باعث آنکھیں خشک نہیں ہو پاتیں۔بقول احمد فراز
؎
آج اِک اور برس بیت گیا اُس کے بغیر
جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
*******


