نامور شخصیات سے ملاقاتیں — ایک عہد کی دستاویز : جاوید ڈینی ایل

بعض کتابیں محض مطالعے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ اپنے عہد کی فکری، ادبی اور سماجی تاریخ کا معتبر حوالہ بن جاتی ہیں۔ وہ شخصیات جنہوں نے اپنے علم، فکر، کردار اور خدمات سے معاشرے پر گہرے نقوش چھوڑے، وقت گزرنے کے ساتھ یادوں کے دریچوں میں سمٹ جاتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی قلم کار اُن شخصیات سے وابستہ ملاقاتوں، مشاہدات اور یادوں کو تحریر کی صورت میں محفوظ کر دے تو وہ صرف ایک کتاب نہیں رہتی بلکہ ایک عہد کی دستاویز بن جاتی ہے۔

معروف ماہرِ تعلیم، ادیب اور دانشور پروفیسر جیکب پال کی تازہ تصنیف “نامور شخصیات سے ملاقاتیں” ایک قابلِ قدر اور اہم کاوش ہے، جو حال ہی میں معروف اشاعتی ادارے “مکتبۂ عناویم پاکستان” کے زیرِ اہتمام زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آئی ہے۔ پروفیسر جیکب پال نے اس کتاب کا انتساب تقریباً ستانوے برس سے مسلسل شائع ہونے والے جریدے “پندرہ روزہ کاتھولک نقیب، لاہور” کے نام کیا ہے۔ کتاب میں مصنف کا تعارف فادر ناصر گلفام نے قلم بند کیا ہے، جبکہ پیش لفظ ریورنڈ فادر عمانوئیل عاصی نے تحریر کیا ہے۔

بلاشبہ یہ کتاب محض ملاقاتوں کا احوال نہیں بلکہ ایک عہد، ایک تہذیب اور کئی نسلوں کی ادبی، سماجی اور فکری تاریخ کا آئینہ دار ہے۔

پروفیسر جیکب پال صاحب سے میری ملاقاتوں کی تعداد بھی کم و بیش ایک درجن کے قریب ہوگی۔ وہ ادب دوست، ادب شناس، نہایت ملنسار، محبت کرنے والے اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کرنے والی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی مجلس میں خلوص، اپنائیت اور علم و ادب سے محبت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ اُن سے ہونے والی ہر ملاقات میں کچھ نہ کچھ سیکھنے اور اپنے علمی و ادبی افق کو وسیع کرنے کا موقع ملا۔

تین سو پچاس سے زائد شخصیات کو یکجا کرنا، ان سے وابستہ یادوں کو محفوظ کرنا اور انہیں تحریری قالب میں قارئین تک پہنچانا یقیناً ایک دشوار اور محنت طلب کام تھا۔ اس کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں زندگی کے مختلف شعبوں اور متنوع مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات سے ہونے والی ملاقاتیں شامل ہیں۔ یوں یہ تصنیف ہمارے معاشرے کے فکری، ادبی، مذہبی، تعلیمی اور سماجی پہلوؤں کی ایک بھرپور جھلک پیش کرتی ہے۔ اسی سبب یہ کتاب محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اہم تاریخی اور دستاویزی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔

اس کتاب میں شامل بہت سی شخصیات آج ہم میں موجود نہیں رہیں، مگر اپنی علمی، ادبی، مذہبی اور سماجی خدمات کے باعث ان صفحات میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان شخصیات کے ساتھ وابستہ یادوں کو محفوظ کرکے مصنف نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ مہیا کیا ہے۔ یہ کتاب دراصل اُن چہروں، آوازوں اور کرداروں کی بازگشت ہے جنہوں نے اپنے اپنے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں اور معاشرے کی فکری تشکیل میں کردار ادا کیا۔

کتاب کا سرورق بھی اپنی جگہ ایک دل کش اور بامعنی تخلیقی کاوش ہے۔ سرورق پر اُن ایک سو اسی سے زائد نامور شخصیات کی تصاویر شامل ہیں جن سے پروفیسر جیکب پال صاحب کی ملاقاتیں اس کتاب کا حصہ ہیں۔ یوں یہ صرف تصاویر کا مجموعہ نہیں بلکہ ہمارے عہد کی ادبی، علمی، مذہبی اور سماجی تاریخ کا ایک خوب صورت بصری مرقع معلوم ہوتا ہے۔

کتاب کا عنوان “نامور شخصیات سے ملاقاتیں” نہایت موزوں، جامع اور بامعنی ہے۔ عنوان کی خوب صورت پیشکش، رنگوں کا متوازن انتخاب اور شخصیات کی تصاویر کا حسین امتزاج سرورق کو مزید پُرکشش بنا دیتا ہے۔ بلاشبہ یہ سرورق کتاب کے موضوع اور روح کا ایک جامع اور مؤثر تعارف پیش کرتا ہے۔

پروفیسر جیکب پال صاحب نے بکھری ہوئی یادوں کے موتیوں کو نہایت سلیقے اور محبت سے ایک خوب صورت مالا میں پرو دیا ہے۔ کاتھولک نقیب میں شائع ہونے والی ان ملاقاتوں کی تقریباً تمام اقساط میری نظروں سے گزری ہیں، اور ہر قسط اپنے اندر ایک عہد، ایک شخصیت اور ایک منفرد داستان سموئے ہوئے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان تحریروں کو کتابی صورت میں دیکھ کر دلی خوشی محسوس ہوتی ہے۔

اس کتاب کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ مصنف نے شخصیات کا تعارف محض معلوماتی انداز میں پیش نہیں کیا بلکہ اپنی مشاہداتی بصیرت اور ادبی اسلوب کے ذریعے اُن کے انسانی، فکری اور تخلیقی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ قاری جب اِن صفحات کا مطالعہ کرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود بھی اُن ملاقاتوں کا حصہ بن گیا ہو۔

“نامور شخصیات سے ملاقاتیں” صرف ایک کتاب نہیں بلکہ یادوں، مشاہدات اور تاریخ کے روشن اوراق کا ایسا مجموعہ ہے جو قاری کو اُن شخصیات سے روشناس کراتا ہے جنہوں نے اپنے علم، کردار اور خدمات سے معاشرے کو مالا مال کیا۔ یہ تصنیف آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستند حوالہ، ایک ادبی سرمایہ اور ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔

بلاشبہ پروفیسر جیکب پال صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے وقت کی گرد میں چھپتی یادوں کو محفوظ کرکے علم و ادب کے دامن میں ایک قیمتی اضافہ کیا ہے۔ دعا ہے کہ ان کا قلم اسی طرح علم، ادب اور تاریخ کے چراغ روشن کرتا رہے اور فکری و ادبی ورثے کے تحفظ کا یہ خوب صورت سفر جاری رہے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading