راولپنڈی (تادیب) پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ایک ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر 10 جون 2026 کو مظفرآباد کے قریب پرواز کے آغاز کے دوران پیش آنے والی مبینہ تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 22 فوجی اہلکار جان بحق ہو گئے۔ حادثے میں ایک کرنل، دو میجرز سمیت پاک فوج کے متعدد افسران اور جوان شامل تھے۔پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہیلی کاپٹر اڑان بھرنے کے مرحلے میں حادثے کا شکار ہوا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ تاہم حادثہ اس قدر شدید نوعیت کا تھا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار کوئی بھی فرد زندہ نہ بچ سکا۔آئی ایس پی آر نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا ہے جو تمام تکنیکی اور آپریشنل پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔ چیف آف آرمی اسٹاف، چیف آف
ڈیفنس فورس اور پاک فوج کے افسران و جوانوں نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
شہداء کی اجتماعی نمازِ جنازہ جمعرات کی صبح ادا کی گئی جس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ میں آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم چوہدری فیصل ممتاز راٹھور سمیت اعلیٰ فوجی حکام اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔حادثے میں جان بحق ہونے والے دو مسیحی فوجی اہلکار صوبیدار میجر منیر، ایوی ایشن ای ایم ای اور حوالدار ریگن مسیح کی آخری رسومات راولپنڈی کے کرائسٹ چرچ میں ادا کی گئیں۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سمیت تینوں افواج پاکستان کی ہائی کمانڈز اور نائب وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار ، وزیر دفاع خواجہ آصف صاحب اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ سمیت اعلیٰ عسکری و حکومتی اور سیاسی قیادت اور اعلی ترین افسران نے شرکت کی اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔عینی شاہدین کے مطابق ہیلی کاپٹر نے اڑان بھرتے ہی توازن کھو دیا اور زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں حادثے کے بعد آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل بھی دیکھے جا سکتے ہیں، تاہم حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک حادثے کی وجوہات کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات سے گریز کیا جائے۔
یہ المناک حادثہ پوری قوم کے لیے صدمے کا باعث بنا ہے۔ مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر و حوصلے کی دعا کی ہے۔
*******


