غزل — جس جس نے اپنی راہ میں کانٹے بچھائے ہیں— شاعر: روکس ریاضؔ

جس جس نے اپنی راہ میں کانٹے بچھائے ہیں
منزل نصیب ہیں تو وہ سب یاد آئے ہیں

کیا کچھ نہیں کیا ہے وفاؤں کے نام پر
دِل کیا ہے رُوح پر بھی بہت زخم کھائے ہیں

اس سمت سے گزر تو ہوا تھا بس ایک بار
لگتا ہے اپنا آپ وہیں بھول آئے ہیں

شہرِ طلب میں عمر گزاری کے واسطے
حربے جو لازمی تھے سبھی آزمائے ہیں

یوں طے کۓ ہیں ہم نے محبت کے مرحلے
دشمن کو بھی وفا کے قرینے سکھائے ہیں

پھر بھی کسی شمار میں آئے نہ ہم ریاضؔ
کہنے کو گیت کس کے نہیں ہم نے گائے ہیں

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading