پادری اعجاز کی فریاد، ہمارے اجتماعی ضمیر کا آئینہ: نوئیل جمشید

یہ تحریر محض ایک فرد کی مالی مشکل کا ذکر نہیں کرتی بلکہ ہمارے مسیحی معاشرے کے اجتماعی رویّے پر ایک سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔ البتہ تنقید کرتے ہوئے کسی پورے فرقے، چرچ، پادری یا ادارے کو اجتماعی طور پر بدعنوان یا بے حس قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ بہتر ہے کہ اصل سوال پر توجہ دی جائے: کیا ہم اپنے درمیان کسی سفید پوش، تعلیم یافتہ اور ضرورت مند خاندان کو اس مقام تک پہنچنے سے پہلے سہارا دے سکتے ہیں جہاں اسے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے؟

پادری اعجاز مسیح کی بیٹی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مدد کی اپیل کو صرف ایک شخص کی مجبوری سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ ہمارے مسیحی معاشرے کے سامنے ایک تلخ مگر ضروری سوال ہے۔اگر ایک تعلیم یافتہ پادری، جس کے پاس دو ایم اے اور پاسٹر کی ڈگریاں ہیں، اپنی بیٹی کی تعلیم کی فیس ادا کرنے سے عاجز ہو کر کسی صاحبِ درد انسان سے مدد مانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے، تو ہمیں صرف پادری اعجاز سے سوال نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیں اپنے اجتماعی نظامِ کفالت سے بھی سوال کرنا چاہیے۔البتہ کسی ایک واقعے کی بنیاد پر پورے مسیحی معاشرے، کو بے حس اور بدعنوان قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، مگر اصلاح کے لیے ، الزام نہیں بلکہ احتساب کے لیے۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمارے چرچز، مذہبی ادارے، منتخب نمائندے، سماجی تنظیمیں اور صاحبِ استطاعت مسیحی خاندان مل کر ایسا نظام کیوں نہیں بنا سکتے جہاں کسی مستحق طالب علم کی تعلیم صرف اس لیے نہ رک جائے کہ اس کے والد فیس ادا نہیں کر سکتے؟

پادری اعجاز کی اپیل کو تماشہ بنانے کے بجائے اسے ایک موقع سمجھیں اپنے سفید پوش لوگوں کا ہاتھ تھامنے کا، اپنے نوجوانوں کی تعلیم بچانے کا، اور اپنے معاشرے میں حقیقی مسیحی محبت کو عملی شکل دینے کا۔کیونکہ مسیحی ہونے کا ثبوت صرف تقریروں، نعروں اور سوشل میڈیا کی پوسٹوں میں نہیں، ضرورت مند کے وقت اس کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔
یہ واقعہ کسی کی تضحیک کا نہیں، ہم سب کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا موقع ہے۔

یہ صرف پادری اعجاز کا مسئلہ نہیں، یہ تحریر اگر صرف پادری اعجاز مسیح کی مدد کی اپیل تک محدود رہ جائے تو ہم اصل سوال سے نظریں چرا لیں گے۔ پھر وہی بات کہ ایک تعلیم یافتہ پادری، جس کے پاس دو ایم اے اور پاسٹر کی ڈگریاں ہیں، اپنی بیٹی کی اعلیٰ تعلیم کی فیس ادا نہ کر سکنے کے باعث ایک صاحبِ درد انسان سے مدد مانگنے پر مجبور ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اس نے مدد کیوں مانگی، سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے اس مقام تک پہنچنے سے پہلے سہارا کیوں نہیں دیا؟

ہم بڑے بڑے چرچز، اداروں، تنظیموں، این جی اوز اور مسیحی نمائندگی کے دعوے ضرور کرتے ہیں، مگر جب کوئی سفید پوش، تعلیم یافتہ اور ضرورت مند شخص مشکل میں آتا ہے تو ہماری اجتماعی قوت کہاں چلی جاتی ہے؟
یہاں ہمیں جذباتی نعروں کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

ہاں، کسی ایک واقعے کی بنیاد پر دوسروں کو مجرم قرار دینا بھی درست نہیں۔ مگر جہاں اجتماعی بے حسی نظر آئے، وہاں سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ خاموشی ہمیشہ شرافت نہیں ہوتی، بعض اوقات خاموشی ناانصافی کی شریک بن جاتی ہے۔

اور ایک بات بالکل واضح ہے؛ ضرورت مند کی مدد کرنا احسان نہیں، مسیحی ذمہ داری ہے۔اگر ہم واقعی اپنے نوجوانوں کے مستقبل، اپنے سفید پوش خاندانوں اور اپنی مسیحی برادری کے مسائل کے لیے فکرمند ہیں تو ہمیں ایک ایسا مضبوط نظام بنانا ہوگا جہاں کسی باعزت باپ کو اپنی اولاد کی تعلیم کے لیے سوشل میڈیا پر فریاد نہ کرنا پڑے۔

پادری اعجاز کی فریاد کو کسی کی تضحیک کا ذریعہ نہ بنائیں۔ اسے اپنے لیے ایک آئینہ بنائیں۔کیونکہ کلیسیا کی طاقت اس کے بلند و بالا دعووں میں نہیں، بلکہ اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنے کمزور رکن کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔آج ضرورت پادری اعجاز پر تنقید کرنے کی نہیں، بلکہ یہ ثابت کرنے کی ہے کہ ہم واقعی ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading