مری کے مال روڈ پر خوب گہما گہمی تھی۔ میدانی علاقوں میں گرمی کے باعث سیاحوں کی کثیر تعداد مری کے خوش گوار موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے وہاں پہنچی ہوئی تھی۔ مال روڈ کی مختلف سوغاتوں میں سے ایک وہاں کی بچہ گاڑیاں ہیں جو غالباً مقامی طور پر ہی تیار کی جاتی ہیں۔ ان میں نہ صرف بچے بلکہ وہ خواتین بھی سوار ہو جاتی ہیں جو چڑھائی چڑھ چڑھ کر ہلکان ہو چکی ہوتی ہیں۔ ایسی خواتین کی تھک جانے کی بنیادی اور مشترکہ وجہ اُن کا وزن ہوتا ہے۔ چنانچہ اُنہیں ان بچہ گاڑیوں پر اپنا تمام کا تمام وزن ڈالنا پڑتا ہے۔ بے چارے بچہ گاڑی چلانے والے چڑھائی چڑھ چڑھ کر ہلکان ہو جاتے ہیں۔
گزری گرمیوں میں، میں اپنے خاندان کے ہمراہ مال روڈ کی سیر ہی کر رہا تھا کہ ایک بچہ گاڑی والا میرے قریب آکر بولا، “بچہ گاڑی صاحب!۔”
میں نے اُس صاف رنگت اور گھنے بالوں والے خوش شکل نوجوان کی جانب دیکھا جو چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے تھا۔ بچہ گاڑی دیکھ کر میری بیٹی جوآنہ نے تھکن والا منھ بنا لیا تا کہ اسے بٹھا دیا جائے۔ مگر میں نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے گاڑی بان سے پوچھا،”کیا یہ آپ کی اپنی گاڑی ہے؟”
اُس نے مثبت میں سر ہلاتے ہوئے کہا،”جی جناب!”میں نے ازرائے مذاق اُس سے پوچھا،”یہ گاڑی پیٹرول سے چلتی ہے یا ڈیزل سے؟” اُس نے چہرے پر وہی مسکراہٹ سجائے ہوئے جواب دیا، “نہیں صاحب یہ خون سے چلتی ہے۔” اُس کے اس جواب نے مجھے چند ثانیوں کے لئے لاجواب کر دیا۔ میں نے ایک بار پھر کہا، “اوہو، پھر تو یہ بہت ہی مہنگی سواری ہو گی؟” وہ بولا، “نہیں صاحب، خون تو پیٹرول اور ڈیزل وغیرہ سے سستا ہے۔”
تب میں نے سوچا کہ واقعی اس کی بات سچ ہے کہ ہمارے ملک میں شاید سب سے سستا خون ہی ہے۔ تبھی تو بہتا ہی چلا جاتا ہے اور کوئی فکر مند بھی نہیں ہوتا۔ کتنے ہی افراد کا خون مذہبی جنونیت کے باعث بہا دیا گیا۔ فرقہ واریت، لسانی و نسلی تعصبات اور غیرت کے نام پر بھی تو کتنا خون بہا دیا جاتا ہے۔ کیا آپ نے پیٹرول یا ڈیزل کو یوں بہتے اور ضائع ہوتے دیکھا ہے؟۔۔۔ نہیں ناں! اُن کی قیمتوں میں بھی آئے دن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ہمارے ملک میں ہر شے مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ لگتا ہے کہ خون ہی سب سے سستا ہے۔
*******

