کیا صرف “روحانی جوش” کافی ہے؟
مسیحی تاریخ میں ہمیشہ دو حقیقتیں ساتھ ساتھ چلتی رہی ہیں؛
ایک طرف روحُ القدس کی رہنمائی، اور دوسری طرف باقاعدہ دینی تعلیم، مطالعہ، اور تربیت۔ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کچھ لوگ ان دونوں میں توازن قائم کرنے کے بجائے ایک کو مکمل طور پر ردّ کر دیتے ہیں۔ آج کل بہت سے ایسے مبلغین اور واعظین موجود ہیں جو رسمی مذہبی تعلیم یا سیمینری تربیت کے بغیر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کا تمام علم براہِ راست روحُ القدس کی طرف سے ہے، اس لیے اُنہیں کسی علمی یا الہٰیاتی تربیت کی ضرورت نہیں۔
یہ بات درست ہے کہ روحُ القدس ایماندار کی رہنمائی کرتا ہے۔ بائبل خود سکھاتی ہے کہ خدا اپنے بندوں کو حکمت، تسلی، بصیرت، اور روحانی فہم عطا کرتا ہے۔ مگر یہ کہنا کہ صرف اندرونی “الہام” ہی کافی ہے اور بائبلی، تاریخی، لسانی، اور الہٰیاتی مطالعہ کی کوئی ضرورت نہیں، ایک خطرناک انتہا پسندی بن سکتی ہے۔ خاص طور پر اُن پیچیدہ موضوعات میں جہاں صدیوں سے کلیسیائی مباحث موجود ہیں، جیسے؛
عورت کی کلیسیائی خدمت۔-
پادری ہونے کا مسئلہ۔-
پولوس رسول کی تعلیمات۔-
کلیسیائی نظم و ضبط۔-
تثلیث۔-
نجات۔-
بپتسمہ۔-
آخری زمانہ۔-
یا بائبلی متن کا تاریخی پس منظر۔-
ایسے موضوعات صرف جذباتی وعظ سے نہیں سمجھے جا سکتے بلکہ ان کے لیے؛
یونانی و عبرانی زبانوں کا علم۔-
تاریخی پس منظر۔-
یہودی روایت۔-
ابتدائی کلیسیا کی تاریخ۔-
اور صدیوں کی الہٰیاتی بحثوں کا مطالعہ ضروری ہوتا ہے۔-
بعض مبلغین جب اُن سے سیمینری یا دینی تربیت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو فوراً یہ جواب دیتے ہیں کہ “یسوع کے شاگرد بھی کسی سیمینری سے فارغ التحصیل نہیں تھے۔” بظاہر یہ بات بہت روحانی معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ دلیل مکمل نہیں۔
یسوع مسیح کے شاگرد عام لوگ ضرور تھے، مگر وہ غیر تعلیم یافتہ یا مذہبی طور پر جاہل نہیں تھے۔ وہ سب یہودی معاشرے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں بچپن سے توریت کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہودی ثقافت میں لڑکوں کو عبادت گاہوں اور تعلیمی مراکز میں بائبلی تعلیم دی جاتی تھی۔ توریت کو یاد کرنا، اُس کی تلاوت کرنا، اور مذہبی روایت کو جاننا اُن کی اجتماعی زندگی کا حصہ تھا۔ خاص طور پر سفر کے دوران مقدس نوشتوں کا ساتھ رکھنا ایک عام روایت تھی۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ شاگردوں نے تین سال سے زیادہ عرصہ براہِ راست یسوع مسیح کی تربیت میں گزارا۔ یہ کوئی مختصر روحانی اجتماع نہیں تھا بلکہ ایک مسلسل “زندہ سیمینری” تھی۔ وہ یسوع کے ساتھ چلتے، سوال کرتے، غلطیاں کرتے، بحث کرتے، تعلیم سنتے، مثالیں سمجھتے، اور بار بار اصلاح پاتے تھے۔ اناجیل کو غور سے پڑھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ شاگرد مسلسل سوال پوچھتے تھے۔ یہ ایک گہرا تعلیمی اور تربیتی عمل تھا۔
پھر پینتیکوست کے دن روحُ القدس نے اُنہیں مزید حکمت، جرات، اور روحانی بصیرت عطا کی۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ رسول بعد میں بھی ایک دوسرے سے مشورہ کرتے تھے، کلیسیائی کونسلیں منعقد ہوتی تھیں، اور عقائد پر بحث کی جاتی تھی۔ اعمال 15 کی یروشلم کونسل اس کی واضح مثال ہے۔ اگر صرف “روحانی احساس” کافی ہوتا تو کلیسیا کو اجتماعی مشورے، تعلیم، اور بحث کی ضرورت نہ پڑتی۔
آج مسئلہ یہ نہیں کہ کسی شخص کے پاس روحانی نعمت ہے یا نہیں۔ خدا واقعی عام لوگوں کو بھی استعمال کرتا ہے۔ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص محدود مطالعہ یا چند ماہ کی دینی تربیت کے بعد خود کو ہر پیچیدہ بائبلی مسئلے کا آخری ماہر سمجھنے لگتا ہے۔ ایسے ماحول میں اکثر “سنی سنائی الہٰیات” پیدا ہوتی ہے، جہاں ایک واعظ دوسرے واعظ کی بات دہراتا رہتا ہے، مگر اصل بائبلی تحقیق، تاریخی پس منظر، یا زبانوں کا مطالعہ موجود نہیں ہوتا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ؛
مقامی کلیسیائیں غلط تعلیمات کا شکار ہو جاتی ہیں۔-
خوف اور فتوے نما زبان عام ہو جاتی ہے۔-
ہر اختلاف کو بدعت قرار دیا جاتا ہے۔-
اور پیچیدہ بائبلی مسائل کو انتہائی سادہ نعروں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔-
بعض اوقات لوگ پولوس رسول کی مخصوص کلیسیائی ہدایات کو ہمیشہ کے لیے آسمانی قانون بنا دیتے ہیں، بغیر یہ سمجھے کہ اُس وقت کا معاشرتی، ثقافتی، اور عبادتی پس منظر کیا تھا۔ مثال کے طور پر عورتوں کی خاموشی یا پادری ہونے کے مسئلے پر آج بھی دنیا بھر میں علمی بحث جاری ہے، مگر بعض غیر تربیت یافتہ مبلغین ایسے پیچیدہ موضوعات پر آخری فتویٰ صادر کر دیتے ہیں۔
روحُ القدس کبھی علم کے خلاف کام نہیں کرتا۔ حقیقی روحانی رہنمائی انسان کو عاجزی، مطالعہ، سوال، اور سیکھنے کی طرف لے جاتی ہے، نہ کہ علمی غرور کی طرف۔ بائبل خود کہتی ہے:
“میری اُمّت علم نہ ہونے کے سبب ہلاک ہوئی۔”
ایمان اور علم ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ اگر ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، اور منصوبہ ساز برسوں تعلیم حاصل کرتے ہیں، تو پھر خدا کے کلام کی تعلیم دینے والا شخص کیوں یہ سمجھے کہ چند جذباتی تجربات ہی کافی ہیں؟
کلیسیا کو ایسے خادموں کی ضرورت ہے؛
جو روحانی بھی ہوں اور علمی بھی-
جو دعا بھی کرتے ہوں اور مطالعہ بھی-
جو روحُ القدس پر ایمان بھی رکھتے ہوں اور تاریخی و بائبلی تحقیق کی اہمیت بھی سمجھتے ہوں-
اور جو اپنی نعمت کی حدود کو بھی پہچانتے ہوں۔-
کیونکہ ہر نعمت عظیم ہو سکتی ہے، مگر ہر نعمت کی اپنی حدود بھی ہوتی ہیں۔
*******


