اپنے گھر سے وطن سے وفا کیجیے
اَمن ہو قریہ قریہ دُعا کیجیے (جاویدؔ ڈینی ایل )
وطن سے محبت صرف ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ کردار، ذمہ داری اور وفاداری کا نام ہے۔ قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب محبتِ وطن کا دعویٰ الفاظ سے نکل کر عمل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ معرکۂ “بنیان المرصوص” بھی پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا ہی روشن باب ہے، جس نے قومی عزم، اجتماعی شعور اور وطن سے وفا کے جذبے کو نئی معنویت عطا کی۔
اس عظیم معرکے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر اس کی گونج آج بھی قومی حافظے میں سنائی دیتی ہے۔ شہداء کی قربانیاں، غازیوں کی جرات اور پوری قوم کا اتحاد اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ جب وطن کو خطرہ درپیش ہو تو پاکستانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے۔ “بنیان المرصوص” کا مفہوم ہی ایسی مضبوط دیوار ہے جس کی اینٹیں باہم جڑی ہوں اور جو ہر طوفان کے سامنے ثابت قدم رہے۔ یہی کیفیت اُس وقت دیکھنے میں آئی جب پاکستان کو درپیش خطرات کے مقابلے میں افواجِ پاکستان اور عوام ایک ہی جذبے کے ساتھ میدان میں اُترے۔ یہ محض ایک عسکری معرکہ نہیں تھا بلکہ قومی خودمختاری، سلامتی اور وقار کے تحفظ کا استعارہ تھا۔
افواجِ پاکستان نے ہمیشہ اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ قوم کے اعتماد اور عزت کی محافظ ہیں۔ سرحدوں کی نگرانی ہو، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا قدرتی آفات کے دوران عوام کی خدمت، پاک افواج ہر آزمائش میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہیں۔ معرکۂ بنیان المرصوص بھی اسی روشن روایت کا تسلسل تھا، جہاں جوانوں نے اپنے خون سے وفاداری، جرات اور ایثار کی نئی داستان رقم کی۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ آزادی، امن اور خودمختاری کی قیمت ہمیشہ قربانی سے ادا کی جاتی ہے۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے لختِ جگر وطن پر نچھاور کیے، وہ بچے جنہوں نے اپنے باپوں کو قومی پرچم میں لپٹا ہوا دیکھا، اور وہ خاندان جنہوں نے اپنے پیاروں کی جدائی کا دکھ سہا، درحقیقت وہی اس قومی عظمت کے اصل امین ہیں۔ شہداء کا لہو قوموں کی تاریخ میں چراغ بن کر جلتا ہے اور آنے والی نسلوں کو وفاداری اور قربانی کا درس دیتا ہے۔
حب الوطنی کا تقاضا صرف سرحدوں پر نبھایا نہیں جاتا بلکہ معاشرے کے اندر بھی ادا کیا جاتا ہے۔ ایک سپاہی بندوق کے ساتھ وطن کا دفاع کرتا ہے تو ایک شہری اپنے کردار، دیانت اور قومی ذمہ داری کے ذریعے ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے۔ وطن صرف سرحدوں سے نہیں، اپنے لوگوں کی محبت، باہمی اعتماد اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس سے محفوظ رہتا ہے۔میں نے بھی اپنے اس شعر میں اِسی جذبے کی ترجمانی کرنے کی سعی کی ہے؛
پھول کلیاں سبھی مسکراتی رہیں
پیدا ایسی وطن میں فضا کیجیے
ہر محبِ وطن کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کی دھرتی اَمن، محبت اور خوش حالی کا گہوارہ بنے۔ ایسا معاشرہ جہاں اختلاف نفرت میں نہ بدلے، جہاں انصاف اور رواداری فروغ پائیں، اور جہاں آنے والی نسلیں خوف کے بجائے اُمید کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
معرکۂ بنیان المرصوص نے یہ بھی ثابت کیا کہ پاکستان کی نئی نسل اپنے وطن سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ سے لے کر عوامی اجتماعات تک، ہر جگہ قوم نے اپنی افواج کے ساتھ بھرپور یک جہتی کا اظہار کیا۔ یہ منظر اس حقیقت کا مظہر تھا کہ پاکستانی قوم اپنے محافظوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرتی۔
ادب اور حب الوطنی کا رشتہ بھی بہت گہرا ہے۔ شاعر جب وطن کے لیے قلم اُٹھاتا ہے تو اُس کے لفظوں میں مٹی کی خوشبو رچ بس جاتی ہے اور جب شہداء کا ذکر کرتا ہے تو اُس کے حروف عقیدت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وطن کے لیے دی جانے والی قربانیاں ہمیشہ تاریخ، ادب اور قومی شعور کا حصہ بن جاتی ہیں۔راقم الحروف نے بھی بلاامتیاز مذہب، رنگ و نسل ایک مشورہ دیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ہے جو بنی نو انسان کی بھلائی نہ چاہتاہو۔یہ شعر بھی قومی اور انسانی فکر کا عکاس ہے؛
درس دیتے ہیں اِنجیل و قرآں یہی
آدمی ہو تو سب کا بھلا کیجیے
یہی وہ پیغام ہے جو ایک مضبوط اور مہذب قوم کی بنیاد بنتا ہے۔ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے باوجود باہمی احترام، خیرخواہی اور اجتماعی بھلائی کا جذبہ ہی قومی وحدت کو استحکام بخشتا ہے۔ قومیں صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ اخلاقی قوت اور اجتماعی شعور سے بھی مضبوط ہوتی ہیں۔
ہم معرکۂ بنیان المرصوص کی پہلی سال گرہ منا رہے ہیں تو اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی، امن اور خودمختاری کے پسِ منظر میں بے شمار قربانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ یہ قربانیاں ہی کسی قوم کے وقار اور استحکام کی بنیاد بنتی ہیں۔ بنیان المرصوص محض ایک عسکری معرکہ نہیں بلکہ عزم و وفا کی علامت ہے۔یہ قومی اتحاد، قربانی اور حب الوطنی کی ایسی روشن مثال ہے جو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ یہ سبق دیتی رہے گی کہ وطن سے محبت محض دعویٰ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور امانت ہے۔پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہےاور سبز ہلالی پرچم ہمیشہ سربلند رہے۔آمین
*******


