سیاسی حلقے سے الیکشنز لڑوانے کا عندیہ : گمیلی ایل ڈوگرہ

دنیا کی کوئی بھی ریاست ہو عوام اور حکمران طبقہ لازم اور مظلوم ہیں دنیا کی تاریخ کے آغاز سے ہی یہ سلسلہ شروع ہو گیا تھا با اختیار اور بے اختیار طبقوں کی جنگ بھی اتنی ہی پرانی ہے کیونکہ غیور عوام کے مسائل کےحل کا اہتمام بھی حکمران طبقہ ہی کرتا آیا ہے وہ بادشاہی نطام ہو ڈکٹیٹر شپ ہو پارلیمانی و جمہوری نظام ہو یا دیگر کوئی بھی اس میں کسی بھی ریاست میں عوام کی مشترکہ آواز حکمرانوں تک پہنچتے پہنچتے تاخیر کے سبب عوام اکثر پس جاتے ہیں جس میں عوام کو ریاست میں اس کی طاقت کا سامنا ہوتا ہے لیکن عوام اصل اور حقیقی طاقت ان کی اصل یونٹی ہوتی ہے جس سے عام لوگ بے خبر رہتے ہیں عوام کی آواز کو حکمران طبقہ اپنے ذاتی مفادات کے تحت اکثر دبانے کی کوشش طاقت کے زور پر کرتا ہے حکمران اور محکوم و غیور عوام جس میں با اختیار اور بے اختیار طبقوں کے درمیاں محاذ آرائی کے تحت ریاست میں بلی چوہے کا کھیل کھیلا جاتا ہے اور ان حالات میں اکثر غیور عوام تو پس جاتے ہیں لیکن جب پسا ہوا طبقہ با اختیار طبقوں کے لوگوں کو کسی بھی ریاست میں اکٹھے ہو کر للکارتا ہے اور حکومتی ایوانوں تک کسی بھی ریاست میں ایسے جبر کے خلاف سر اٹھاتا ہے تو اس کا آخر انجام پھر انقلاب ہی ہوتا ہے یعنی وقت اور حالات نے یہ ثابت کیا ہے کہ جس ذمہ داری پر آپ ہوں اگر اس عہدے کے تحت آپ کام نہ کر سکیں اور اپنے عہدے کے فرائض کے تحت انصاف نہ کریں جس پر آپ با اختیار ہیں تو اپنی کوتاہیوں پر رسوائی کے انجام کے بھی آپ ہی ذمہ دار ہیں کچھ حکمران طبقات تو زیادہ ہی ڈھیٹھ ہوتے ہیں وہ رسوائی کے باوجود بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے اور سرنڈر نہیں کرتے لیکن ان کی غیرت اس حد تک مرچکی ہوتی ہے کہ انہیں کبھی محسوس ہی نہیں ہوتا کہ انہیں عوام کی طرف سے رسوائی مل رہی ہے۔

معزز قارئین ! ہمارے ہاں بے حسی کا یہ عالم ہے گزشتہ دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این اے قادر پٹیل نے قومی اسمبلی میں سینٹرز یعنی ایوان بالا کے ممبران کو حلقہ سے الیکشنز لڑ کر آنے کی ترغیب اس لیے دی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ دانشور نظر آنے والے سینٹرز عملی زندگی کے مسائل سے بالکل بیگانے ہیں اور قومی اسمبلی کے لوگوں پر غیر ضروری رعب اور دبدبہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے آپ کو زیادہ عقل کل سمجھتے ہیں وہ قومی اسمبلی سے گزشتہ دنوں خطاب کر رہے تھے اسی طرح پچھلے دنوں اقلیتی ایم پی ایز کے الیکشنز لڑ کر اسمبلیوں میں آنے والے ایم پی ایز کے نظام پر ان کی ناقص کارکردگی اور غیر جمہوری چناو کے تحت پنجاب اسمبلی میں بھی بحث رہی چوہدری امجد علی جاوید ایم پی اے اپنے ساتھی ایم پی ایز اور چوہدری راو کاشف رحیم ایم پی اے اور دیگران نے بھی مذہبی اقلیتوں کے نمائندوں کے لیے الیکشنز لڑ کر اسمبلی میں آنے پر زور دیا ہے اس سلسلے میں وہ قائد اعظم کی منشا کے مطابق ان کے جمہوری حقوق کے تحت انہیں ترجیح دینے کے لیے سیاسی پارٹیوں اور حکومت کو جمہوری اقدار کو اہمیت دینے کے لیے اپنی تقریر میں مائل کرتے رہے ایک قرارداد بھی ساتھیوں سمیت پنجاب اسمبلی میں وہ جمع کروا چکے ہیں اب قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے راہنما ایم این اے قادر در پٹیل بھی اسی بات کے بعد سینٹرز(ایوان بالا) پر تنقید کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں کہتے ہیں؛
“سینٹرز بنے بنائے دانشور ہوتے ہیں ان کو الیکشن لڑوائیں انہیں لگ پتہ جائے کہ عوام جوتے کیسے مارتی ہے؟ سر یہ جو ہمارے معافی کے ساتھ وزیر خزانہ بھی اور ہمارے وزیر قانون جو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں وہ جو ہیں یہ سارے سینٹرز ہیں اور سر میرا ایک اندازہ رہا ہے سر کہ ان سارے سینیٹرز کاٹون الگ ہوتا ہے کیوں کہ اُنہوں نے ووٹ کہیں سے لینے نہیں ہوتے حلقوں میں انہوں نے جانا نہیں ہوتا جواب اُنہوں نے دینا نہیں ہوتا تو یہ بنے بنائے دانشور ہوتے ہیں یہ بنے بنائے دانشور جو ہیں اپنی ہی بات کرتے ہیں یہ سمجھتے ہیں یہ عقلِ کل ہیں اِنہیں سب پتہ ہے(مداخلت میں سپیکر ایاز صادق صاحب رانا تنویر صاحب سے مخاطب رانا صاحب سنیے پلیزآپ کی بات ہو رہی ہے) سو مزید قادر پٹیل صاحب نے کہا کہ سینیٹرز بنے بنائے دانشور ہیں اور جب یہ اسمبلی میں آتے ہیں تو کہتے ہیں انگلینڈ میں یوں ہورہا ہے(قہقہ) امریکہ میں یوں ہوتا ہے میں اٹلی میں گیا تھا وہاں یہ ہو رہا ہے او بھائی یہ پاکستان ہے پھر سر پاکستان پیٹرول چوری کرنے کے چکر میں 150 لوگ جل کر مر جاتے ہیں تو تم امریکہ اٹلی کی بات کرتے ہو تو سینیٹرز کو چاہے وزیر خزانہ ہو ڈپٹی پرائم منسٹر میرا پسندیدہ لا منسٹر ہو ان کو ایک بار الیکشن ضرور لڑائیں ہر سینیٹرز کو ایک بار الیکشن ضرور لڑاوائیں انہیں لگ پتہ جائے گا کہ عوام جوتے سے کیسے مارتی ہے عوام حساب کیسے لیتی ہے عوَام ان کا احتساب کیسے کرتی ہے(سپیکر ایاز صادق کی مداخلت پٹیل صاحب ہمارے آنر ایبل سینٹرز سارے قابل احترام ہیں) پٹیل صاحب سر میرے لیے بھی میں سر میں نے کہا مجھے اچھے لگتے ہیں اور جس کے لیے کہا تھا مجھے اچھے کبھی برے لگتے ہیں میں دل میں تو بات رکھتا نہیں سر (سپیکر آپ کو ایم این اےاچھے لگتے ہیں جو کہ عوام سے الیکٹ ہو کر آتے ہیں اورعوام کو جواب دے بھی ہوتے ہیں سر یہ آتے یہاں پر وہی سوٹ کیس آپ گھر چلے جاتے ہیں نہ کسی سےملنا نہ کسی کو جواب دینا یہ پھر صبح سوٹ پہن کر ہمارے پاس آجاتے ہیں یہ کوئی بات ہی نہیں ہوئی ہم لوگ تو وہاں ہمارا احتساب تو قیامت تک کا ابھی تک ہو چکا ہے جب حلقے میں جاتے ہیں تو پوچھتے ہیں پیٹرول کا کیا ہوا؟ گیس کا کیا ہوا؟ تم بھئی گاڑی میں گھوم رہے ہوہمارا تو سائیکل خراب ہو گیا ہماری تو حالت خراب ہو گئی”

معزز قارئین! جہاں جمہوریت ہے وہاں اپوزیشن لازم ہے اگرجمہوریت ہے اور اس کے اندر اپوزیشن پارٹی کا وجود ہی نہیں تو وہاں کی جمہوریت کو بیمار سمجھیں سیاسی پارٹیوں کو تمام شہریوں کے لیے برابری کی سطح پر قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس پر وہ غور ہی نہیں کرتیں ہیں قادر پٹیل سیاسی حلقوں کے دکھوں سے بہت زیادہ واقفیت رکھنے کے بعد اپنی تقریر میں اپنے تجربات سے ہمیں آگاہ کرتےہیں جس سے ہمیں استفادہ کرنا چاہیے؛
ماوزے تنگ کے مطابق “اگر آپ لیڈر بننا چاہتے ہیں تو لوگوں کے درمیاں رہیں تب آپ لیڈر بن سکتے ہیں”
ہمیں عوام میں رہنا ہے، ان کے دکھ درد کو سمجھنا ہے، بند کمروں میں فیصلوں کا دور اب ختم ہونا چاہیے۔ میاں نواز شریف کا مینڈیٹ جنرل مشرف نے چھینا اور ان کی جمہوری حکومت کا تختہ طاقت کے زور پر الٹ دیا گیا ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں کا جمہوری طریقے سے اپنے نمائندے چننے کے اُن کے جمہوری حق کو بھی چھین لیا اور یہ فیصلہ بھی بند کمرے میں طاقت کے زور پر کیا گیا جسے آج تک اقلیتیں نہیں مانتی لیکن طاقت کے غیر ضروری استعمال کے تحت اس غیر جمہوری فیصلے کو بدلنے میں سیاسی جماعتیں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کھڑی نہیں ہو رہیں اور موقع پرستی سے کام لے رہی ہیں ان کے لیے یہ واجب نہ ہے پاکستان مسلم لیگ نون کی پنجاب اور وفاق میں حکومت ہے اور وہ قائد اعظم کی جان نشین جماعت ہونے کا ثبوت اقلیتوں کے بنیادی حقوق اُنہیں فراہم کرنے سے شروع کرے کیوں کہ اقلیتیں پچھلے 27 سال سے مخلوط طرز انتخاب سے پس رہی ہیں اُن کے ٹیکسوں پر غیر جمہوری قوتیں پل رہی ہیں اور اُن کے سماجی سیاسی مذہبی اقتصادی اور دیگر مسائل بہت زیادہ بڑھ رہے ہیں ان کے سیاسی حلقوں کی کوئی باقاعدہ نشان دہی ہی نہیں غیر منصفانہ فنڈز کی تقسیم ہو رہی ہے بندر کے ہاتھ ماچس دے دینے والی صورت حال ہے حلقوں کا وجود ہے نہ ان سے عوام کا برائے راست رابطہ انٹر نیٹ پر تصویروں اور بوگس رپوٹوں سے مس گائیڈنیس عام ہے پنجاب میں ہی جب اربوں کا بجٹ کوئی ترقیاتی کاموں پر استعمال ہونے کے بغیر واپس حکومت کے پاس چلا جائے اور عوام فنڈز کو ترس جائیں اور منسٹر صاحب اس پر لوگوں کو سکیموں پر کچھ دینے کے قابل نہ ہوں اس سے بڑھ کر ان کی نااہلی کیا ہوسکتی ہے؟ اس نااہلی کی تصدیق سپیکر پنجاب اسمبلی کر چکے ہیں اس لیے اقلیتی ارکانِ اسمبلی کا الیکشن لڑ کر آنا جمہوریت کی مضبوطی کی طرف پیش رفت ہوگی سیاسی پارٹیوں کو یہ بات ماننا پڑے گی کہ اقلیتی ارکانِ اسمبلی کو الیکشن لڑ نے کے بغیر کسی قوم کے سر پر بٹھانا ان کے ساٹھ جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے اور طاقتوروں کی بند کمروں کے فیصلے آمرانہ سوچ کا نتیجہ ہے قومی اور صوبائی اسمبلی میں اقلیتی ایم پی ایز کو الیکشنز لڑ کر آنا چاہیے تاکہ ان کو دال چاول کا بھاؤ بھی معلوم ہو صرف اقلیتوں کے ٹیکسوں پر نہ پلیں حکومت وقت اور سیاسی پارٹیوں کو مذہبی اقلیتوں کے جمہوری حق کے تحت ووٹ کے ذریعے اُن کے نمائندوں کو منتخب کرنے کا اُنہیں موقع دینا چاہیے اور ان کے جداگانہ الیکشنز کو کل آبادی کو تسلیم کرکے سیاسی حلقے بناکر انہیں الیکشنز لڑوائیں ہم قادر پٹیل کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں کہ وہ جمہوریت کی اصل روح کو سیاسی ایوانوں تک لانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ہمارا ایک سانحہ جڑانوالہ ہوا اور اس کی کسی اقلیتی ارکانِ اسمبلی میں سے کسی نے آج تک یہ ذمہ داری نہیں لی کہ انصاف کے حصول کے لیے جڑانوالہ کس اقلیتی سیاسی حلقے سے ہے پورے پاکستان کی تمام اسمبلیاں آج تک بے خبر ہیں اسی لیے تو قادر پٹیل صاحب کہتے ہیں کہ ان کو عوام کی جوتیاں پڑنے پر پتہ چلے گا کہ ہمارا المیہ کیا ہے باتیں کرنا اور عمل کرنے میں فرق ہے قربانیاں دینا اور عوام کے لیے پسنا ہی اصل جمہوریت ہے

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading