معاشروں کی حقیقی تعمیر بلند و بالا عمارتوں، شاہراہوں یا صنعتی ترقی سے نہیں بلکہ اُن انسانوں سے ہوتی ہے جو نسلِ نو کے ذہنوں کو علم، کردار اور شعور کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے عہد کے معمار کہلاتے ہیں، جو خاموشی سے مستقبل کی بنیادیں استوار کرتے رہتے ہیں۔ واہ کینٹ کی علمی اور تعلیمی فضا میں ڈاکٹر شفقت حیات کا نام اسی حوالے سے ایک روشن اور معتبر شناخت رکھتا ہے۔ڈاکٹر شفقت حیات اُن شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم، سماجی خدمت، کلیسیائی خدمت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ وہ سینٹ پال سکول سسٹم واہ کینٹ کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں اور گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے ہزاروں طلبہ و طالبات کی فکری، اخلاقی اور تعلیمی آبیاری میں مصروفِ عمل ہیں۔
مجھے بھی اُن سے ذاتی مراسم کا شرف حاصل ہے۔ اُنہیں قریب سے جاننے کا موقع ملا تو محسوس ہوا کہ وہ اپنے نام کی طرح واقعی شفقت، محبت، خلوص اور انسان دوستی کا پیکر ہیں۔ نہایت ملنسار، خوش اخلاق، وضع دار اور محبت کرنے والی شخصیت کے مالک ہیں۔ اُن کی گفتگو میں شائستگی اور مزاج میں انکساری نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن سے ملنے والا شخص محض ایک ملاقات ہی میں اُن کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر شفقت حیات 13 اگست 1951ء کو سیالکوٹ کینٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جناح ایفیشنسی ہائی سکول سیالکوٹ کینٹ سے حاصل کی جبکہ میٹرک سی ٹی آئی ہائی سکول بارہ پتھر، سیالکوٹ کینٹ سے کیا۔ بعد ازاں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایف اے اور بی اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم ایڈ اور ماسٹر آف بزنس ایجوکیشن مکمل کیا۔ دینی تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ورلڈ بائبل سکول امریکہ سے ڈپلومہ اِن تھیالوجی جبکہ لارڈز بائبل کالج اینڈ سیمینری اسلام آباد سے ماسٹر آف ڈیوینٹی اور بعد ازاں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم کے میدان میں اُن کا سفر پاکستان تک محدود نہیں رہا۔ 1977ء سے 1982ء تک انہوں نے لیبیا کی وزارتِ تعلیم میں خدمات انجام دیں، جہاں اُن کی تدریسی صلاحیتوں اور انتظامی قابلیت کو سراہا گیا۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے ایک ایسے تعلیمی خواب کو حقیقت کا روپ دیا جس کے ثمرات آج ہزاروں خاندان حاصل کر رہے ہیں۔4 فروری 1983ء کو انہوں نے سینٹ پال سکول سسٹم کی بنیاد رکھی۔ وقت کے ساتھ یہ ادارہ ایک تناور شجر کی صورت اختیار کر گیا۔ آج سینٹ پال گرلز کنول کیمپس، سینٹ پال بوائز شفقت کیمپس، سینٹ پال جونیئر برکت کیمپس، سینٹ پال بوائز حیات کیمپس اور مریم کالونی میں قائم سینٹ پال ویلفیئر سکول سمیت متعدد تعلیمی مراکز اُن کی محنت، بصیرت اور تعلیمی وژن کی گواہی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر شفقت حیات کی زندگی کے اس سفر میں اُن کی شریکِ حیات مسز کنول شفقت ہر قدم پر اُن کے شانہ بشانہ رہی ہیں۔ 4 جولائی 1984ء کو دونوں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے اور خدا نے انہیں دو قابل، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت بیٹیوں، کومل حیات اور کرن حیات سے نوازا۔مسز کنول شفقت نہ صرف سینٹ پال گرلز کیمپس کی کامیاب پرنسپل ہیں بلکہ ایک صاحبِ کتاب مصنفہ بھی ہیں۔ وہ شب و روز ڈاکٹر شفقت حیات کے ساتھ نسلِ نو کی تعلیم و تربیت کے مقدس مشن میں مصروفِ عمل ہیں۔ اُن کی محبت بھری شخصیت، انتظامی صلاحیتیں اور تعلیمی خدمات سینٹ پال سکول سسٹم کی کامیابیوں میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور محبت کرنے والی خاتون ہیں اور طلبہ، اساتذہ اور والدین میں یکساں مقبول ہیں۔
۔”سوآئیے! اس مجسم کلام کی اونچائی، لمبائی، گہرائی اور چوڑائی کو جانیں اور ان تمام برکات کا مزہ چکھیں تاکہ پاک روح کی معموری کی بارش میں نہا کر تازہ دم ہو جائیں، آبِ حیات کے چشموں سے پی کر راحت محسوس کریں، کتابِ حیات میں نام درج کروا سکیں، نبوت کی کتاب کے بھیدوں کو جان سکیں، قیمتی ایمان کے ساتھ حقیقی نور میں چلیں اور اس کی لازوال محبت کے سہارے اس دنیا میں اس کے سچے گواہ بن کر ابدی بادشاہت میں داخل ہو سکیں” ۔۔۔۔۔۔ درحقیقت یہی اقتباس اس کتاب کے مقصد، مصنفہ کے روحانی وژن اور اُن کے ایمانی سفر کی بہترین ترجمانی کرتا ہے۔
ڈاکٹر شفقت حیات کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ادب سے اُن کی گہری وابستگی ہے۔ وہ ادب دوست، ادب شناس اور ادب نواز شخصیت ہیں۔ اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اُن کے مزاج کا حصہ ہے۔ ماہنامہ “نیا تادیب” کے مستقل خیر خواہوں میں اُن کا شمار ہوتا ہے اور انہوں نے ہمیشہ ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی ہے۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ کلیسیائی خدمت میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ لیبیا میں پاکستانی مسیحی کلیسیا کے ساتھ انجیلی خدمت، سینٹ پال پریئر فیلوشپ کی قیادت، مختلف کلیسیاؤں میں بائبل کی تعلیم اور سماجی خدمت کے میدان میں اُن کی طویل جد و جہد ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے۔بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اُن کا کردار نہایت قابلِ قدر ہے۔ اُن کا یقین ہے کہ پاکستان کی مضبوطی باہمی احترام، رواداری اور مکالمے میں مضمر ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے مختلف طبقات کے درمیان بہتر تعلقات اور مثبت معاشرتی رویوں کے فروغ کے لیے ہمیشہ عملی کردار ادا کیا۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ڈاکٹر شفقت حیات کو تعلیم، سماجی خدمت اور کلیسیائی خدمات کے اعتراف میں متعدد ایوارڈز، تعریفی اسناد اور اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، کلیسیاؤں، واہ کینٹ بورڈ اور دیگر اداروں نے اُن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔آج جب ڈاکٹر شفقت حیات کی شخصیت اور خدمات پر نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اُنہوں نے اپنی زندگی کو واقعی دوسروں کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ اُن کی جد و جہد اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ ایک مخلص معلم صرف کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ نسلوں کی تقدیر سنوارتا ہے۔
بلاشبہ ڈاکٹر شفقت حیات محض ایک ماہرِ تعلیم نہیں بلکہ نسلِ نو کے معمار، انسان دوستی کے علمبردار، بین المذہب ہم آہنگی کے سفیر اور سماجی خدمت کے روشن استعارے ہیں۔دعا ہے کہ خداوند انہیں صحت، توانائی اور برکت عطا فرمائے تاکہ وہ آنے والے برسوں میں بھی علم، محبت اور خدمت کے چراغ روشن کرتے رہیں اور نسلِ نو کی رہنمائی کا یہ مبارک سفر اسی طرح جاری رہے۔
*******


