لاہور (تادیب) اردو غزل کے عظیم، مقبول اور عہد ساز شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال کی خبر نے ادبی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔ اُن کے انتقال سے اردو ادب، بالخصوص غزل کی دنیا میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے مدتوں پُر نہیں کیا جا سکے گا۔ڈاکٹر بشیر بدر نے اپنی منفرد طرزِ اظہار، سادہ مگر دل نشین اسلوب اور انسانی جذبات کی عکاسی کے ذریعے اردو شاعری میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ اُن کی غزلیں محبت، ہجرت، تنہائی، وقت اور انسانی رشتوں کی نزاکتوں کی خوبصورت ترجمانی کرتی ہیں۔ اُن کے بے شمار اشعار زبان زدِ عام ہوئے اور ادبی محفلوں، مشاعروں اور علمی نشستوں کی جان بنے رہے۔قلم و قرطاس سے وابستہ افراد، شعر و سخن کے تخلیق کاروں، اساتذہ، طلبہ اور محققین کے لیے ڈاکٹر بشیر بدر کا انتقال ایک بڑا اور ذاتی نوعیت کا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ادبی حلقوں نے اُن کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردو غزل کا تذکرہ ڈاکٹر بشیر بدر کے بغیر ہمیشہ ادھورا محسوس ہوگا۔
ادارہ تادیب پبلی کیشنز مرحوم کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور مداحوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ خدا تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔


