حافظ آباد (نیا تادیب) — فن اگر مقصدیت اور اخلاص کے ساتھ تخلیق کیا جائے تو وہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ انسانی رویّوں میں تبدیلی، رشتوں کی بحالی اور بکھرتے خاندانوں کو جوڑنے کا وسیلہ بھی بن سکتا ہے۔ مسیحی خاندانی اقدار پر مبنی فلم ’’مسکن‘‘ کی نمائش کے بعد حافظ آباد میں ایک نوجوان خاتون صنم کی جانب سے اپنے سسرال واپس جانے اور ازدواجی زندگی دوبارہ بسانے کا فیصلہ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
نو ،اکتوبر دوہزار چھبیس کو حافظ آباد میں منعقدہ فلم شو کے اختتام پر صنم نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے سسرال واپس جا رہی ہیں تاکہ اپنے خاندان کی بہتر نگہداشت کر سکیں اور اپنی کلیسیا سے وفادار رہتے ہوئے گھریلو زندگی کو خوش گوار بنانے کی کوشش کریں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق سسرال، میکے، کلیسیا اور دوستوں کی جانب سے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے فیصلے پر قائم تھیں، تاہم فلم ’’مسکن‘‘ دیکھنے کے بعد ان کے رویّے میں تبدیلی آئی اور انہوں نے گھر دوبارہ بسانے کا فیصلہ کیا۔
فلم ’’مسکن‘‘ کے نمائشی شوز مختلف مقامات پر منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں اسے عوامی اور کلیسیائی حلقوں میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔ فلم میں ازدواجی زندگی، خاندانی ذمہ داریوں اور رشتوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس کی کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ محبت، برداشت، باہمی احترام اور سنجیدہ مکالمے کے ذریعے گھریلو اختلافات کے حل کی راہیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔
صنم کا فیصلہ اس امر کی جانب توجہ دلاتا ہے کہ بامقصد فن اور مؤثر پیغام انسانی سوچ پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم خاندان کی حقیقی بحالی کے لیے محض جذباتی وابستگی کافی نہیں؛ باہمی احترام، ذمہ داری، تحفظ اور دونوں فریقوں کی سنجیدہ کوشش بھی ناگزیر ہے۔
فلم ’’مسکن‘‘ کی یہ پیش رفت اس امید کو تقویت دیتی ہے کہ بامقصد سینما خاندانی رشتوں کی اہمیت اجاگر کرنے اور معاشرے میں محبت، مفاہمت اور ذمہ داری کے شعور کو فروغ دینے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
*******

