لاہور (نیا تادیب) — لفظ جب احساس کی انگلی تھام کر تخیل کی شاخ پر بیٹھتے ہیں تو شاعری جنم لیتی ہے، اور جب یہی شاعری کتابی صورت اختیار کرتی ہے تو شاعر کے باطن میں آباد خیالوں کی دنیا قارئین کے لیے وا ہو جاتی ہے۔ معروف شاعر، گلوکار، سیاسی و سماجی شخصیت اور ایڈووکیٹ ڈاکٹر طارق جاوید طارق کا دوسرا اردو شعری مجموعہ ’’شاخِ تخیل‘‘ اسی تخلیقی سفر کی ایک نئی کڑی کے طور پر زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آچکا ہے۔
معروف اشاعتی ادارے ’’نرالی کتابیں‘‘ کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے اس مجموعے کا سرِورق ڈاکٹر عادل امین نے ڈیزائن کیا ہے۔ کتاب کا عنوان اپنے اندر خیال کی تازگی، احساس کی لطافت اور تخیل کی وسعت کا ایک دل نشیں استعارہ سموئے ہوئے ہے، جو قاری کو شاعری کی اس دنیا میں قدم رکھنے کی دعوت دیتا ہے جہاں لفظ محض اظہار نہیں رہتے بلکہ جذبات، تجربات اور انسانی احساسات کے ترجمان بن جاتے ہیں۔
ڈاکٹر طارق جاوید طارق کا ادبی سفر ان کے پہلے شعری مجموعے ’’ہَوکے ہاڑے‘‘ (پنجابی غزلاں) سے بھی عبارت ہے، جو مارچ 2013ء میں شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ پنجابی شاعری سے اردو شاعری تک کا یہ سفر ان کی تخلیقی وابستگی کے تسلسل کی نشان دہی کرتا ہے۔
ڈاکٹر طارق جاوید طارق کی شخصیت ادب، موسیقی، قانون اور سماجی و سیاسی سرگرمیوں کے متنوع حوالوں سے پہچانی جاتی ہے۔ ان کا تازہ شعری مجموعہ ’’شاخِ تخیل‘‘ ان کی ادبی کاوشوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ کتاب کی اشاعت اس امید کو بھی تازہ کرتی ہے کہ شاعر کے احساس و فکر سے پھوٹنے والے یہ شعری پھول اہلِ ذوق کے دلوں میں اپنی جگہ بنائیں گے اور اردو ادب کے قارئین کو تخیل کے نئے رنگوں سے
روشناس کرائیں گے۔
*******

