اسلام آباد (تادیب) 18 ستمبر 2026ء: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی اسٹاف نرس رضیہ نورین کو تمغۂ شجاعت دینے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعزاز پمز میں 26 اگست کو پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکالنے پر ان کی غیر معمولی بہادری کے اعتراف میں دیا جائے گا۔
ایوانِ صدر کے مطابق رضیہ نورین نے آگ کے شعلوں اور شدید خطرے کے باوجود نرسری میں داخل ہو کر نومولود کو اپنی تحویل میں لیا اور اسے بحفاظت باہر نکالنے میں کامیاب رہیں۔ پمز کی نرسری میں پیش آنے والے اس سانحے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ رضیہ نورین کی کوشش سے ایک بچہ زندہ بچ سکا۔
رضیہ نورین کی بہادری کو اس سے قبل بھی قومی سطح پر سراہا جا چکا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 3 ستمبر کو ان سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، ان کی فرض شناسی اور جرأت کو سراہتے ہوئے انہیں ایک کروڑ روپے کا چیک دیا اور اعلان کیا کہ ان کی خدمات کے اعتراف میں آئندہ 23 مارچ کو تمغۂ خدمت سے بھی نوازا جائے گا۔
وزیراعظم سے ملاقات کے دوران رضیہ نورین نے بتایا تھا کہ آگ دیکھتے ہی انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر نرسری میں جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک انتہائی کم وزن نومولود کو اٹھا کر باہر پہنچایا اور اسے ڈاکٹر کے حوالے کیا۔ ان کے مطابق وہ دوسرے بچوں کو بچانے کے لیے دوبارہ اندر گئیں تو ایک دھماکا ہوا اور نرسری دھوئیں اور تاریکی سے بھر گئی۔
رضیہ نورین کی خدمات کو حکومت کے علاوہ نجی اور بین الاقوامی کاروباری حلقوں کی جانب سے بھی سراہا گیا۔ 10 ستمبر کو شنگھائی سے تعلق رکھنے والی چینی ہیلتھ کیئر کمپنی JFH (Jiangchuan Fuhai) کی چیئرپرسن یان جن نے انہیں بہادری کے اعتراف میں 10 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ کمپنی کے بزنس مینیجر بلیئر ہی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یان جن نے رضیہ نورین کی جرأت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔
پمز آتشزدگی کے بعد رضیہ نورین کا کردار اس واقعے کے ان پہلوؤں میں نمایاں طور پر سامنے آیا ہے جن میں انسانی جان بچانے کے لیے فوری فیصلہ، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور ذاتی خطرے کو نظرانداز کرنا شامل تھا۔ ان کی بہادری نے نرسنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کی خدمات کو بھی اجاگر کیا ہے، جو ہنگامی حالات میں مریضوں اور خصوصاً انتہائی نگہداشت کے محتاج بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔
صدرِ مملکت کی جانب سے اب تمغۂ شجاعت کی منظوری رضیہ نورین کی اس غیر معمولی جرأت کے لیے ایک اور قومی اعتراف ہے۔ یوں پمز کے المناک سانحے میں جہاں 14 نومولود بچوں کا جاں بحق ہونا ایک گہرا قومی صدمہ بن گیا، وہیں ایک نومولود کی زندگی بچانے کے لیے نرس رضیہ نورین کی کوشش انسانی خدمت اور فرض شناسی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔
*******

