کراچی پریس کلب کے سامنے شیما نہیں بے نظیر تھی : عطا الرحمٰن سمن

موجودہ بُرے بھلے حکومتی انتظام میں بھی پیپلز پارٹی کو نسبتاً روشن خیال، قوت برداشت رکھنے والی، مختلف خیال کے حامل دیگر گروہوں کے نقطہ نظر کا احترام کرنے والی جماعت کے طور پر جانا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے چلن کے اندر اِس خوبصورتی کو وادی سندھ کی تہذیب کی وسعت اور گنجائش کے ساتھ بھی جوڑا جاتا تھا۔ اِس جماعت کی لیڈر شپ میں بہت بڑی قامت کے کارکن ہیں جو اظہار رائے کے حق کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر گزشتہ دہائیوں میں پاکستان کے معاشرے کے سماجی تار پود میں انتہا پسندی اور نفرت کی دراندازی کے اثرات سندھ پر بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ چنانچہ پیپلز پارٹی اور اُس کی حکومت اِس ارتقا سے کسے مبرا رہ سکتی تھی۔

۔5 مئی 2026 ء کی شام کو کراچی پریس کلب کے باہر پاکستان میں انسانی آزادیوں اور خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی اور اِس گھٹن زدہ ماحول میں تازہ ہوا کے جھونکے کی علامت شیما کرمانی اور اُن کی ساتھیوں کو پولیس نے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے جا رہی تھیں۔ پریس کلب میں جا کر اظہار خیال کرنا کوئی پُر تشدد سرگرمی نہیں ہوتی۔ یہاں آنے والے بندوق کی نوک پر اپنا نقطہ نظر تھوپنے کی بجائے دلیل سے بات کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ شیما کرمانی کو پریس کلب نہیں پہنچنے دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں پولیس کی جانب سے بزرگ شیما کرمانی کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی دیکھنے والے کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ نہایت بد تہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیما کرمانی اور اُن کی ساتھی کارکنوں کو حراست میں رکھا گیا۔ بعد ازاں سندھ کے ہوم منسٹر ضیا الحسن لانجر کے حکم پر پولیس نے حراست میں لئے گئی کارکن خواتین کو رہا کر دیا تھا۔ احباب سوچتے ہیں کہ جس نے گرفتار کرنے کا کہا اُسی نے رہائی کے لئے کہہ دیا۔

سچ تو یہ ہے کہ پچھتر سالہ شیما کرمانی کے ساتھ کیے جانے والے سلوک نے دنیا بھر میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے منہ پر جو کالک تھوپی ہے وہ شیری رحمان کے کھسیانے بیان سے کبھی دھُل نہیں پائے گی۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے تابع حکم پولیس کی جانب سے جگ ہنسائی کے اِس واقع کے بعد کچھ رٹے رٹائے جملے سیاسی قیادت کی جانب سے ادا کر کے پولیس کو بھی اشک شوئی کرنے کا کہہ دیا ہو گا جس کے بعد کراچی پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد نے صدر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ناصر آفریدی، خاتون ایس ایچ او ، حنا مغل، اور آرٹلری میڈن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او ، ندیم کو معطل کر دیا ہے۔ ایسے مواقعوں پر چند افسران کو قربانی کا بکرا بنا کر معطل کر دیا جاتا ہے۔ گویا انہیں کچھ دِن کی رخصت مل جاتی ہے۔ انہیں بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعد ازاں فائل کا پیٹ کیسے بھرنا ہے۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔

کراچی پریس کلب اظہار خیال کے حوالے سے ایک پہچان رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مارشل لا کے دور میں اِس عمارت سے سچ بولنے اور لکھنے وا لوں نے کوڑے کھا کر بھی اپنی آواز کا سودا نہیں کیا تھا۔ اس عمارت کو مظلوموں کے لئے لندن کے ہائیڈ پارک کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ اِس وقوعہ پر اِس عمارت سے پراسرار خامشی بھی معنی خیز بے حسی اور تبدیلی کا اشارہ ہے۔

یاد آ رہا ہے 20 جنوری 2017 ء بروز جمعہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ایک صوبائی وزیر جناب امداد پتافی نے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سے تعلق رکھنے والی خاتون نصرت سحر عباسی سے ایک جملہ بول دیا جس کو قابل اعتراض کہا گیا۔ بلاول بھٹو کی بہنوں اور جماعت کی خواتین نے اِس پر شدید احتجاج کیا تھا۔ دو روز بعد 23 جنوری 2017 ء کو جب اجلاس شروع ہوا تو وزیر موصوف نے رُکن خاتون سے معذرت کی اور خیر سگالی کے طور پر انہیں چادر پیش کی۔ جب فاروق بندیال پیپلز پارٹی میں شامل ہونے لگے تھے تو بلاول کی بہنوں نے احتجاج کر کے اُس کا راستہ روک دیا تھا جس پر ملک بھر میں اُن کا اور پیپلز پارٹی کا قد اونچا ہوا تھا۔ تعجب نہیں ہے کہ آج وہ آوازیں خاموش ہیں۔ شاید اب پیپلز پارٹی میں فاروق بندیال غالب ہیں۔ قامت میں شیما کرمانی کے پاؤں کی دھول جیسے لوگ بھی اُن کے خلاف عورت مارچ کے حوالے سے ہذیان بک رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کسی چوک سے توپ کا ماڈل ہٹا کر شیما کرمانی ایسی مہان شخصیت کا مجسمہ نصب کیا جاتا مگر ہم جس سبک رفتاری سے پستی کی جانب پھسلتے چلے جا رہے ہیں اب کئی دہائیوں تک ایسی جرات ہمارے بس کا کام نہیں ہو گا۔ سچ تو یہ ہے کہ 5 مئی 2026ء کو کراچی پریس کلب کے سامنے پیپلز پارٹی نے جس خاتون کے ساتھ بد تہذیبی کی ہے وہ شیما کرمانی نہیں ”بے نظیر“ تھی۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading