آج بیٹے کی کالج فیس مبلغ ستائیس ہزار دو سو بیس روپے جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی اور ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل ان آخری تاریخوں نے ہم متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو کس قدر پریشان کر رکھا ہے۔ بجلی کا بل جمع کروائیں تو گیس کا بل آجاتا ہے۔ اس کا بوجھ سرسے اتارا ہی ہوتا ہے کہ ٹیلی فون و انٹر نیٹ کا بل دروازے پر پڑا ہوتا ہے اور ہر بل کی آخری تاریخ ہوتی ہے جس کے بعد جرمانے کی رقم بھی بھرنا پڑ جاتی ہے۔ پھر گیس بھی ہر وقت نہیں آتی تو ایمرجنسی کے لیے سلنڈر کا انتظام بھی کرنا پڑتا ہے۔ پینے کے لیے صاف پانی اور اگر سرکاری پانی میسر نہیں تو اس کا بندوبست بھی کرنا پڑتا ہے اور ان سب لوازمات کے لیے جیب میں پیسے ہونا ضروری ہیں جو مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تنخواہ کی صورت میں ملتے اور مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں یا تو وہ طبقہ قدرے پرسکون ہے جس کے پاس بے انتہا دولت ہے اور اس دولت کو بچانے اور کالے دھن کو سفید بنانے کے لیے انھیں کتنی ہی اور دولت کیوں نہ خرچ کرنی پڑ جائے، ان کے خزانوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی کیوں کہ پیسہ مزید پیسے کو جنم دیتا چلا جاتا ہے۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو بالکل ہی پست حال ہے۔ ان کا سماجی دائرہ کاربھی اتنا وسیع نہیں ہوتا اور بیاہ شادیوں و دیگر معاشرتی تقریبات و رسم و رواج میں ان سے زیادہ توقعات بھی وابستہ نہیں کی جاتیں۔ چنانچہ انھیں پیٹ بھر کر روٹی مل جائے تو اسی میں ہی سکھی رہتے ہیں۔ یہ طبقہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے یا ادھار مانگ لے تو کسی کو کوئی قباحت بھی معلوم نہیں ہوتی۔ پھر ان سے کبھی کوئی عزیز و اقارب قرضہ وغیرہ بھی یہ سوچ کر مانگنے نہیں آتے کہ ان کی تو اپنی حالت ہی اتنی مخدوش ہے، ان بے چاروں نے کسی کی کیا مدد کرنی؟
مسئلہ تو ہم جیسے طبقے والوں کو ہوتا ہے کہ ظاہری رکھ رکھاؤ اور اپنی ساکھ کا بھرم بھی قائم رکھنا ہوتا ہے۔ جیب میں ٹکا نہ ہو مگر ہم چہرے پر اطمینان کو سجائے رکھنے کی کمال اداکاری کرتے ہیں ۔ نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی جرات ہوتی ہے اور نہ کسی ادھار مانگنے والے کو یہ سوچ کر انکار کیا جاتا ہے کہ اگر ہم موجودہ حالات میں اتنی مشکل سے دوچار ہیں تو اس بے چارے کا تو ہم سے بھی بُرا حال ہو گا لہذا دو چار روپے دے دینے سے کیا فرق پڑ جائے گا۔
بس یہیں سے تو فرق پڑنا شروع ہوتا ہے اور اِس فرق کا اُس وقت احساس ہوتا ہے جب آخری تاریخیں سر پر آپہنچتی ہیں۔ گزرے اور بھلے وقتوں میں انسان آخری تاریخوں میں جا کر پریشان ہوا کرتا تھا، اب یہ آخری تاریخ والے جھٹکے تو مہینے کے شروع میں ہی دل کو لگنا شروع ہو جاتے ہیں جب یکے بعد دیگرے بل پر بل آنا شروع ہوتے ہیں اور ہم انھیں فریج پر مقناطیسوں کے ذریعے چپکاتے جاتے ہیں کہ آخری تاریخ ابھی دُور ہے، پہلے وہ اخراجات نمٹا لیے جائیں جو زیادہ ارجنٹ اور بالکل سر پر آئے کھڑے ہیں۔
پہلی چڑھی نہیں اور کوڑا اٹھانے والا آموجود ہوا، “صاحب جی مہینہ چڑھ گیا ہے، تھوڑا سا خرچہ بھی بڑھائیں مہنگائی بہت ہوگئی ہے۔” پھر کیبل والے آدھمکتے ہیں۔ شکر ہے کہ ان دنوں واٹر سپلائی والے نہیں آرہے، وہ بھی بس پہلی کا انتظار کررہے ہوتے ہیں۔ سنا ہے کہ پچھلے دنوں ہمارے علاقے میں اپنی مدد آپ کے تحت واٹر سپلائی کا نظام چلانے والوں پر بھی بجلی کا بل، آسمانی بجلی بن کرگرا اور یہ نظام ایسا درہم برہم ہوا کہ عملہ جانبر نہ ہوسکا۔ چنانچہ اب نہ ان کی جانب سے منہ دکھلائی ہوتی ہے، نہ واٹر سپلائی اور نہ ہی کمائی ہوتی ہے۔ مگر ہم کیا کریں؟ پانی تو بنیادی ضرورت ہے ناں، کسی نہ کسی طرح سے مہیا کرنا ہی پڑتا ہے۔ زمین دوز واٹر ٹینک میں ہفتے میں ایک دو بار جھانکنا پڑتا ہے۔ پانی آخری سیڑھی تک پہنچ جائے تو سمجھیں پانی کی بھی آخری تاریخ آپہنچی اور اب ٹینکر والے کو فون کرکے مطلع کرنا پڑے گا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ٹینکر والا بھی اسی پیارے ملک کا باسی ہے اور اُسے بھی آخری تاریخیں پریشان کر رہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ اکثر وہ “ترلا منت” کرکے ہم سے ایک ٹینک کے ایڈوانس پیسے لے جاتا ہے۔ کیا کریں ہم مجبور ہوتے ہیں کہ اگر ہم نے تنگ کیا تو اگلی بار وہ بھی تنگ کرے گا۔ گرمیوں کے موسم میں تو ٹینکر والوں کی آنکھیں سر پر اور قیمتیں آسمان پر پہنچی ہوتی ہیں۔ لیکن ہمارے اس رکھ رکھاؤ اور مہربانیوں کے باعث وہ ہم سے کبھی زیادتی نہیں کرتا۔ اس کی بھی مجبوریاں ہوتی ہیں، کبھی بچی بیمار تو کبھی ٹریکٹر کا کوئی پرزہ خراب!
یہی بات تو میں سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ایک وہ طبقہ ہے جسے دیکھ کر ترس آجاتا ہے اور بندہ چارو ناچار دو چار سو دان کر ہی دیتا ہے اور ایک وہ طبقہ ہے جس پر رشک آتا ہے اور ان کی دولت سونے کے انڈے دینے والی مرغی کی طرح پڑے پڑے بھی انڈے دیتی ہی چلی جاتی ہے۔ ان کا تو گویا سونے کے انڈے دینے والی مرغیوں کا پولٹری فارم ہوتا ہے۔ چنانچہ حالات کا اتار چڑھاؤ، گیس پٹرول بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ، سردیوں میں انڈوں کا مہنگا ہوجانا، آٹے دال کا بھاؤ بڑھ جانا۔۔۔ ان معاملات سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
سو ایک طبقہ قابل ِ ترس اور ایک طبقہ قابل ِ رشک ۔۔۔ ہم درمیانی لوگ، نہ ادھر کے نہ اُدھر کے!
آج بیٹے کی کالج فیس جمع کروانے کی آخری تاریخ اور بنک بند ہونے کے آخری لمحات تھے۔ مجھے اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے تھے۔ ماضی میں بیٹی کی سکول فیس آن لائن جمع کروائی تھی، دوبارہ لگ کر آگئی چنانچہ تب سے ہم بڑے رقم والے بل اور بچوں کی فیسیں بنک میں جمع کروا کر مہر شدہ رسید ضرور سنبھالتے ہیں۔
میں نے بیٹے کو اپنے سے پیشتر بنک میں بھیج دیا کیوں کہ پانچ بجنے میں بیس پچیس منٹ باقی تھے۔ میں خود اے ٹی ایم کی قطار میں کھڑا ہوگیا۔ مجھے اپنے بنک سے ہی پیسے نکلوانے تھے کیوں کہ کسی دوسرے بنک سے نکلوانے کی صورت میں بیس ہزار ہی نکلتے ہیں۔ جب کہ بیٹے کی فیس کالج کی جانب سے کسی اور مقررہ بنک میں جمع ہونی تھی جو کچھ فاصلے پر تھا۔ میں عجیب کشمکش سے دوچار تھا۔ اے ٹی ایم بہت سست روی سے چل رہی تھی جو بھی جاتا اندر کا ہی ہو کر رہ جاتا گویا مشین ہر ایک کو مطالبے پر کرنسی نوٹ چھاپ کر دے رہی تھی۔ واقعی بعض مشینیں تو اتنی سست ہوتی ہیں کہ نوٹ چھپنے میں اتنی دیر نہیں لگتی ہوگی جتنی ان مشینوں سے نوٹ نکلنے میں دیر ہوجاتی ہے۔
میری بے چینی میں اضافہ میرے بیٹے کی وجہ سے بھی ہوتا چلا جارہا تھا کہ نہ جانے بنک والے اس کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہوں گے۔وہ بنا پیسے فیس بل پکڑے ہوئے ہی بنک میں کھڑا ہوگا اور اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے فکر مندی سے میرا انتظار بھی کر رہا ہوگا۔وقت اوپر ہوگیا تو اُسے بھی وہ بنک سے نکال دیں گے اور مجھے تو ویسے ہی اندر داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اے ٹی ایم کو ایک شخص استعمال کررہا تھا جب کہ ہم چار لوگ باہر کھڑے انتظارکر رہے تھے۔دوسرے نمبر پر کھڑے بابا جی مسکراتے ہوئے بولے،”لگتا ہے اندر ویڈیو گیم کھیل رہا ہے۔”
میں بالکل بھی مذاق کے موڈ میں نہیں تھا۔کیوں کہ مجھے میرے بیٹے اور فیس کی آخری تاریخ کی فکر کھائے جارہی تھی۔ گھر سے نکلتے ہی فریج پر آویزاں فون و انٹرنیٹ کا بل مبلغ چار ہزار دوسو روپے بھی دیکھا تھا جس کی آخری تاریخ اٹھارہ دسمبر تھی۔ پھر بیگم نے دودھ کا کارٹن اور چند دیگر اشیاء بھی خریدنے کا کہا تھا۔یقین کیجئے کہ یہ تمام اخراجات عیاشی والی زندگی نہیں بلکہ ایک متوسط گھرانے کی روز مرہ ضروریات سے تعلق رکھتے ہیں۔ پڑھنا ہے تو بجلی چاہیے، آن لائن پڑھنا ہے تو موبائل یا لیپ ٹاپ چاہیے، آن لائن رہنے کے لیے انٹرنیٹ چاہیے۔ کھانے کے لیے سودا سلف چاہیے مگر اسے پکانے کے لیے آگ چاہیے، گلی محلوں میں بسنے والے سفید پوش لوگ بند گھروں میں لکڑیاں جلانے سے رہے۔ چنانچہ گیس اور اگر وہ نہیں آرہی تو سلنڈر بنیادی ضرورت بن جاتا ہے۔
پہلے کھلا دودھ خریدتے تھے کہ وہ قدرے سستا پڑ جاتا تھا مگر پھر میڈیا والوں نے اتنا ڈرایا کہ گھر والوں نے پیکٹ والا دودھ خریدنے میں ہی عافیت جانی۔ چنانچہ مجھے دودھ کا کارٹن بھی آج خریدنا تھا۔سیو مارٹ پر اشیائے خورونوش سستی ہوتی ہیں بلکہ ان کا نعرہ ہی یہ ہے، “سچ میں سستا” اور بلاشبہ ایسا ہے بھی، مگرچند روز پہلے نجی کمپنی کا دودھ کا کارٹن خریدا کہ انٹرنیشنل برانڈز مہنگے ہوتے تو پتا چلا کہ اُس کی قیمت میں ڈیڑھ سو روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ یہ سن کر میں تو تلملا اٹھا اور بولا، “بھئی اس بار تو حکومت بدلی،نہ پیٹرول مہنگا ہوا، ڈالر بھی نیچے آرہا ہے۔پھر قیمتیں بڑھانے کی کیا وجہ ہے؟ حالاں کہ یہ برانڈ ہمارا ملکی ہے؟”
کیشئیر مسکراتے ہوئے بولا، “سر کیا کہہ سکتے ہیں؟ ہمیں اب نئی قیمت پر ہی ملا ہے۔”
خیر یہ تو گزرے ہفتے کی بات ہے کہ ہر سات آٹھ روز کے بعد بارہ لیٹر دودھ کا کارٹن خریدنا ہی پڑتا ہے۔
خدا خدا کرکے میری باری آئی اور شکر ہے کہ اے ٹی ایم سست ہونے کے باوجود مجھے پچیس ہزار روپے دینے میں کامیاب ہوگئی۔ میں نے گاڑی موڑی اور پھر تیز رفتاری کے ساتھ دوسرے بنک کی جانب بڑھنے لگا۔ افسوس کہ پانچ بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔ اس دوران میں مجھے میرے بیٹے کی کالز آنا شروع ہوگئیں۔ میں نے سڑک کے دوسری جانب بنک کے سامنے کار پارک کی اور پھر مقامی بازار کی یہ سڑک عبور کرکے بنک کے آہنی دروازے پر پہنچا جو اب بند ہوچکا تھا۔ میں جانتا تھا کہ میری گھڑی کے مطابق ابھی پانچ بجنے میں ایک دو منٹ باقی ہیں مگر گارڈ نے یہ کہتے ہوئے گیٹ کھولنے سے انکار کردیا کہ بنک بند ہوگیا ہے۔ میری پریشانی عروج پر تھی۔ آج فیس جمع نہ ہونے کی صورت میں جرمانہ ادا کرنا ہوگا یا پھر صبح بیٹے کے ہمراہ کالج کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں حاضری دینا ہوگی کہ اُس کا صبح پہلا پرچہ تھا جس میں بنا فیس کی رسید دکھائے اُسے بیٹھنے کی اجازت نہیں مل سکتی تھی۔
میں نے گارڈ سے منت سماجت کی کہ میرا بیٹا اندر فیس جمع کروا رہا ہے مگر اُس کے پاس پیسے نہیں ہیں، میں اے ٹی ایم سے لینے گیا تھا۔ مگر وہ پھر بولا، “بنک کا ٹائم ختم ہوگیا ہے جی۔” میں اُس سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا کہ ابھی پورے پانچ نہیں ہوئے کیوں کہ اسی بحث میں پانچ بج جانے تھے۔ میں ایک بار پھر بولا، “سر آج فیس کی آخری تاریخ ہے، بیٹے کو اس لیے پہلے بھیجا تھا کہ بنک بند نہ ہوجائے۔ مہربانی ہوگی۔”
اسے مجھ پر رحم آہی گیا اور بولا، ” بیٹے کا نام کیا ہے؟” میں نے فورا” جواب دیا، “ابیشے۔۔۔” حالاں کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گارڈز کسٹمرزکا نام نوٹ کرکے انھیں اندر نہیں بھیجتے۔ شکر ہے کہ بنک والوں نے میرے بیٹے کو بنک سے باہر نہیں کھڑا کر دیا تھا کہ پھر تو واقعی داخلہ مشکل ہوتا اور آخری تاریخ بھی گزر جاتی۔
خیرمیں نے اطمینان کا سانس لیا اور آہنی دروازہ کھلتے ہی بنک میں داخل ہوگیا۔ بنک کے اندر وال کلاک کو دیکھا تو پانچ بجنے میں اب بھی ڈیڑھ دو منٹ باقی تھے سو مجھے تسلی ہوئی۔ میرے بیٹے ابیشے نے مجھے دیکھ کر سکھ کا سانس لیا اور فی بل اور میرے آئی ڈی کارڈ کی کاپی مجھے تھما دی۔
گزشتہ بار اُسے فیس جمع کروانے میں دشواری پیش آئی تھی کہ جب قطار میں لگے ہوئے اُس کا ٹوکن نمبر بولا گیا تو فیس کی رقم و بل کے ساتھ اُس سے شناختی کارڈ کا مطالبہ بھی کردیا گیا۔ حالاں کہ نظر آرہا ہے کہ ایک خوش لباس طالب علم کالج کے اکاؤنٹ میں اپنی فیس جمع کروانے آیا ہے یا تو وہ ستائیس ہزار کی رقم اپنے کسی اکاؤنٹ میں جمع کروا رہا ہو تو تفتیش کی جا سکتی ہے کہ یہ رقم کہیں ڈکیتی کی تو نہیں لیکن یہاں تو سب کچھ واضح ہوتا ہے۔ بنک والے پوچھیں، “بیٹا آپ کا نام کیا ہے؟” وہ اپنا پورا نام بتائے اور وہی نام فیس بل پر موجود ہو تو یہ پہچان کے لیے کافی ہے۔مگر ہمارے ملک کے قوانین عموما” نرالے ہوتے ہیں۔ دہشت گردی بڑھی تو ڈبل سواری پر پابندی لگا دی۔ مجبور لوگ جو ایک موٹر سائیکل پر مل کر سفر کرلیتے تھے اُن کے لیے بھی مشکل بن گئی۔اگر لوگوں کو ہیلمٹ پہنانا اتنا ہی لازمی ہے تو ہیلمٹ کے بغیر پیٹرول ڈلوانے پر پابندی کی بجائے ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پمپوں پر ادھار ہیلمٹ مانگنے والوں کا بھی ایک الگ ہی لیول ہوتا ہے، “بھائی جان ذرا ہیلمٹ دینا، پیٹرول ڈلوانا ہے۔”
گویا حادثہ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے سڑک پر نہیں بلکہ پیٹرول ڈلواتے ہوئے پمپ پر رونما ہو سکتا ہے۔
گزرے دنوں پنجاب میں ہیلمٹ کی سخت پابندی کروائی گئی، خلاف ورزی کی صورت میں دوہزار روپے جرمانہ تھا۔ دھڑا دھڑ چالان کئے گئے اور لوگوں نے ہیلمٹ پہننا شروع کردیے مگر ایسا لگتا ہے کہ ان شعبے والوں کو بھی اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹارگٹ دیے جاتے ہیں کہ بھئی ادارہ خسارے میں جارہا ہے چلو جا کر عوام کی کھال اتارو اور پھر لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے کہ کیسے اور کس حصے کی کھال اتارنی ہے۔ جب ٹارگٹ پورا ہوجاتا ہے تو قانون میں بھی پھر سے لچک آجاتی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ ہمارے عوام اتنے ڈِیٹھ ہیں کہ آخر کار ہمیں قانون میں لچک پیدا کرنا پڑی۔ حالاں کہ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ کسی قانون کو کمپین کی طرح نہیں بلکہ سخت قانون کی طرح نافذ کرنا چاہیے جس کا اطلاق چوبیس گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن اور بارہ مہینے رہنا چاہیے۔ پھر عوام کی تربیت ہوگی اور ان کا طرزِ زندگی ویسا ہی بن جائے گا جیسا قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
ہاں البتہ جہاں پابندی ہونی چاہیے وہاں نہیں ہوتی اور جہاں عوام کو تھوڑی سہولت مل جانی چاہیے، وہاں قانون بڑے سخت کردیے جاتے ہیں جیسا کہ بنک کے اُس سینئیر کیشئر نے میرے ساتھ کیا۔ بنک میں صرف دو کسٹمرز باقی رہ گئے تھے، ایک نوجوان جو اسی کاؤنٹر پر پہلے سے کھڑا تھا اور کیشئر بار بار اُسے ڈیپازٹ سلپ میں کسی نہ کسی غلطی کی نشان دہی کروا کر اصلاح کرنے کو کہہ رہ تھا۔دوسرا کاؤنٹر خالی تھا اور قدرے جوان کیشئر سرجھکائے اپنے کام میں مصروف تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ اب پانچ بجنے میں تیس سیکنڈ ہی باقی رہ گئے تھے۔ میرے بیٹے کے ہاتھ میں ٹوکن نمبر 97 بھی موجود تھا۔ سینئرکیشئر نے بڑی بے اعتنائی سے مجھ سے پوچھا، “کیا کام ہے؟” میں نے مسکراتے ہوئے فیس بل آگے بڑھایا اور بولا، “سر آخری تاریخ ہے، بچے کی کالج فیس جمع کروانی ہے۔” وہ وال کلاک کی جانب دیکھتے ہوئے قدرے کرخت لہجے میں بولا، “ٹائم ختم ہوگیا ہے، پہلے آتے!” میں جو صبح سے مختلف حالات، تجربات، احساسات، خدشات اور کیفیات میں سے گزر رہا تھا، اب مجھ سے برداشت نہ ہوسکا تو بھی میں نے ضبط کرتے اور بناوٹی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا، “سر، تیس سیکنڈ تو ابھی بھی باقی ہیں۔” وہ بولا، “ان کاموں کا ٹائم تین سوا تین بجے تک ہوتا ہے۔” اب میں خود پر قابو نہ رکھ سکا اور تلخ آمیز لہجے میں آواز بلند سے بولا، “تو پھر آپ نے بنک کے اوقات پانچ بجے تک کیوں لکھ رکھے ہیں۔ ہم پانچ بجے سے پہلے بنک میں داخل ہوگئے ہیں تو اب آپ کو ہمارا کام کرنا چاہیے۔” “اب سسٹم بند ہوگیا ہے، جائیں میں نہیں کرسکتا۔وقت پر آیا کریں۔”
میرے لہجے نے اسے بھی مزید غصہ چڑھا دیا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں سبھی اپنا اپنا درد لیے بیٹھے ہوتے ہیں بس کسی کو تھوڑی سی ٹھوکر مارنے کی دیر ہوتی ہے کہ وہ کراہ اٹھتا ہے۔میں ایک دفعہ پھر چلایا، “آپ کیا وقت کی بات کرتے ہیں؟ پہلے سارا سسٹم درست کریں پھر وقت کی پابندی کروائیں۔ اگر اس طرح سیکنڈز کے حساب سے وقت کی پابندی ہونے لگ جائے تو اور کیا چاہیے، ہمارا ملک ترقی نہ کرجائے۔ میں اپنی مجبوری بتا رہا ہوں اور اصول کے مطابق آپ کو یہ فیس جمع کرنی چاہیے کیوں کہ میں وقت سے پہلے بنک میں موجود تھا اور آج آخری تاریخ ہے۔ آپ کو عوام کے لیے سہولت پیدا کرنی چاہیے، آپ الٹا مشکل میں اضافہ کررہے ہیں۔”
میرا مدعا ساتھ والے کیشئر کی سمجھ میں آگیا۔ وہ بھلا شخص تھا، بولا: “لائیں مجھے دیں، میں جمع کرلیتا ہوں۔”
اس کیشئر نے فیس بل اور رقم لی، بنک کی مہر لگا کر مجھے تھما دی اور بقایا دو سو اسی روپے بھی دے دیے۔میں نے اس کا بار بار شکریہ ادا کیا۔
سچ پوچھیں تو اسی توازن کے باعث ہمارا ملک اب تک چل رہا ہے۔ یہ کیشئر ایک لحاظ سے مسئلے کا حل کرنے والا ثابت ہوا اور ایسوں کی وجہ سے ہی معاشرہ اب تک برقرار ہے۔ میں نے بھی سیکھا کہ آخری تاریخ کا انتظار کئے بغیر تمام بل جمع کروا دینے چاہیئں۔ مگر کیا کریں، ہمارے لیے تو ہر روز ہی کسی نہ کسی بل کی آخری تاریخ ہوتی ہے۔ اچھا تو یہی ہے کہ ہم آخری تاریخ سے پہلے کام نمٹا لیا کریں۔ بل کی آخری تاریخ کی طرح دل کی آخری تاریخ بھی تو کسی دن آہی جانی ہے۔حضرت موسی فرماتے ہیں، “ہم کو اپنے دن گننا سکھا ایسا کہ ہم دانا دل حاصل کریں۔” شکر ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے دل کی آخری تاریخ سے ہمیں آگاہ نہیں کرتا کہ کس روز یہ دھڑکنا بند کردے گا ورنہ وقت سے پہلے ہی ہمارا دل بند ہوجائے۔ ویسے موجودہ دور میں بل کی آخری تاریخیں دل بند کرنے کے لیے بھی کافی ہوتی ہیں۔
*******


