فیصل آباد میں سینٹ میری بی ایس نرسنگ کالج کا آغاز ایک تاریخی اقدام

لاہور (اے ڈی ساحل منیر) پاکستان میں مسیحی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد آج بھی معاشی پسماندگی، بے روزگاری اور تعلیمی محرومی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ خصوصاً غریب مسیحی خاندانوں کے لیے اپنے بچوں کو اعلیٰ، ٹیکنیکل اور پروفیشنل تعلیم دلانا ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار باصلاحیت مسیحی نوجوان صرف وسائل کی کمی کے باعث اپنے مستقبل کو سنوارنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے غریب مسیحیوں کے نام پر بیرونِ ملک سے فنڈز اور امداد حاصل کرنے والی بہت سی منسٹریز اور این جی اوز نے اگرچہ اپنی تنظیمی ترقی اور مالی آسودگی کو تو یقینی بنا لیا ہے لیکن عام مسیحی خاندانوں کی حالتِ زار میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آسکی۔ بڑے بڑے نمائشی پروگرام، کانفرنسیں اور کروسیڈز وقتی شور تو پیدا کرتے ہیں مگر قوم کی اصل ضرورت یعنی تعلیم، ہنر اور معاشی خودمختاری کے میدان میں عملی اقدامات کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ایسے مایوس کن ماحول میں ڈائیوسیس آف فیصل آباد میں سینٹ میری بی ایس نرسنگ کالج کا قیام اور اس کا سنگِ بنیاد رکھنا تقدس مآب بشپ اندریاس رحمت کا ایک ایسا تاریخی، جرات مندانہ اور قابلِ فخر اقدام ہے جو محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ پوری مسیحی قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ بشپ اندریاس رحمت نے یہ ثابت کیا ہے کہ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو قوم کو نعروں سے نہیں بلکہ تعلیم، شعور اور عملی خدمت کے ذریعے مضبوط بنائے۔

یہ اقدام اس بات کا واضح پیغام ہے کہ اگر چرچ لیڈرشپ اور مذہبی ادارے چاہیں تو وہ صرف عبادت گاہیں ہی نہیں بلکہ امید، ترقی اور خودمختاری کے مراکز بھی قائم کر سکتے ہیں۔ بشپ اندریاس رحمت کا یہ وژن دیگر بشپ صاحبان، چرچ لیڈرز، منسٹریز اور این جی اوز کے لیے ایک مثبت مثال اور دعوتِ فکر ہے کہ وہ بھی اپنی توانائیاں نمائشی سرگرمیوں کے بجائے تعلیمی اداروں، ٹیکنیکل اداروں، اسکالرشپس اور فلاحی منصوبوں پر صرف کریں تاکہ آنے والی نسلیں احساسِ محرومی کے بجائے وقار، ہنر اور اعتماد کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یاد رکھیں کہ قومیں نمائشی جلسے جلسوں،مذہبی اجتماعات اور نعروں سے نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، کردار ساز قیادت اور عملی خدمت سے ترقی کرتی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسیحی قیادت ذاتی تشہیر سے بالاتر ہو کر قوم کے بچوں کے مستقبل کو اپنی ترجیح بنائے۔ بشپ اندریاس رحمت کا یہ اقدام یقیناً ایک روشن چراغ ہےاور امید کی جا سکتی ہے کہ اس چراغ کی روشنی دیگر اداروں اور قائدین کو بھی عملی خدمت کے راستے پر گامزن کرے گی۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading