شاعری محض لفظوں کی ترتیب یا جذبات کی ترجمانی کا نام نہیں، یہ انسانی باطن میں اترنے، زندگی کے پوشیدہ گوشوں کو دریافت کرنے اور اپنے عہد کے چہرے پر ثبت ان نشانات کو پڑھنے کا عمل بھی ہے جنہیں عام نگاہ اکثر نظرانداز کر دیتی ہے۔ ایک حقیقی شاعر اپنے گردوپیش سے الگ ہو کر تخلیق نہیں کرتا؛ وہ زندگی کے ہنگاموں میں رہتے ہوئے اپنے اندر ایک ایسی خاموش دنیا آباد کرتا ہے جہاں خارجی مناظر داخلی کیفیات میں ڈھل کر شعر کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تجربہ احساس بنتا ہے، احساس خیال میں تبدیل ہوتا ہے اور خیال اپنی جمالیاتی تکمیل کے بعد شاعری کہلاتا ہے۔
عصرِ حاضر کی اردو شاعری میں ایسے کئی نام موجود ہیں جو اپنے تخلیقی وفور اور احساس کی تازگی سے شعر و ادب کے منظرنامے کو ثروت مند بنا رہے ہیں۔ معروف شاعر جاوید ڈینی ایل بھی اسی تخلیقی سلسلے کی ایک قابلِ ذکر کڑی ہیں۔ وہ ایک طرف شعر کی نزاکتوں سے آشنا ہیں تو دوسری طرف ” نیا تادیب” جیسے معیاری رسالے کی اشاعت کے ذریعے ادبی روایت کی آبیاری میں بھی مصروف ہیں۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ وہ شاعری کو محض ذاتی واردات تک محدود نہیں رکھتے بلکہ ادب کے اجتماعی ماحول کو زندہ رکھنے میں بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ جاوید ڈینی ایل کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ہاں زندگی کو دیکھنے کی دو متوازی سطحیں موجود ہیں۔ ایک سطح پر محبت، حسن، دل کی دھڑکن اور احساس کی لطافت ہے، جب کہ دوسری سطح پر معاشرتی ناہمواری، انسانی بے بسی، منافقت اور ظلم کے بدلتے ہوئے چہرے ہیں۔ ان دونوں سطحوں کے درمیان ان کی شاعری کا تخلیقی وجود تشکیل پاتا ہے۔ وہ نہ تو حسن سے بے نیاز ہو سکتے ہیں اور نہ زندگی کے ان تلخ حقائق سے آنکھ چرا سکتے ہیں جو انسان کے وجود کو اندر سے مجروح کرتے ہیں شاید اسی لیے ان کا شعری رویہ محض رومانوی نہیں رہتا، بلکہ اس میں اپنے عہد کو سمجھنے اور اس کے تضادات کو نمایاں کرنے کی خواہش بھی شامل ہو جاتی ہے۔
ایک حساس شاعر کی پہچان یہ نہیں کہ وہ زندگی کے بارے میں کتنی خوب صورت باتیں کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ زندگی کے ان گوشوں کو کس طرح محسوس کرتا ہے جن تک عام آدمی کی نگاہ نہیں پہنچ پاتی۔ جاوید ڈینی ایل کی حساسیت کا ایک نمایاں حوالہ ان کا یہ شعر ہے؛
کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے
کہ وہ دِل گیر ہوتی جا رہی ہے
میں حرفوں کو سمیٹے جا رہا ہوں
تری تصویر ہوتی جا رہی ہے
یہاں احساس کی ایک دھیمی سی لہر بتدریج ایک تخلیقی صورت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ کسی نامعلوم تقصیر کا احساس، دل گرفتگی کی کیفیت اور پھر حروف کا ایک تصویر میں ڈھلتے چلے جانا، یہ سب مل کر ایک ایسی داخلی فضا تخلیق کرتے ہیں جس میں محبت محض جذبہ نہیں رہتی بلکہ اظہار کا مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ شاعر کے لیے لفظوں کو سمیٹنا گویا بکھرے ہوئے احساسات کو ایک مرکز پر جمع کرنا ہے۔ اس عمل میں محبوب کی تصویر بھی بنتی ہے اور شاعر کا اپنا باطن بھی اپنی شناخت پاتا ہے۔
یہاں شعر کی خوبی اس کے کسی پیچیدہ فلسفیانہ دعوے میں نہیں، بلکہ اس سادگی میں ہے جو قاری کو اپنے تجربے کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتی ہے۔ بعض اوقات شعر اپنی معنویت کا اعلان نہیں کرتا، صرف ایک دروازہ کھول دیتا ہے؛ آگے قاری اپنے احساس کی روشنی میں سفر کرتا ہے۔ جاوید ڈینی ایل کی شاعری کا ایک اہم وصف ان کی مختصر بحروں سے مناسبت اور کم لفظوں میں بات کہنے کی صلاحیت ہے۔ چھوٹی بحر شاعر کے لیے ایک طرح کی تخلیقی آزمائش ہوتی ہے۔ یہاں لفظوں کی کثرت کا سہارا میسر نہیں ہوتا؛ خیال کو محدود جگہ میں اپنی پوری تاثیر کے ساتھ جلوہ گر ہونا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر شعر میں معنوی وسعت اور صوتی روانی پیدا ہو جائے تو یہ شاعر کے فنی شعور کی علامت بن جاتی ہے۔
ان کے یہ اشعار دیکھیے؛
عجب تماشا سا چل رہا ہے
غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے
پنپ رہی ہے منافقت بھی
عروج پستی میں ڈھل رہا ہے
یہاں شاعر اپنے عہد کے معاشرتی منظرنامے کو ایک تماشے سے تعبیر کرتا ہے۔ مگر اس تماشے کا اصل المیہ یہ ہے کہ اس کے کرداروں کی حیثیت یکساں نہیں۔ کوئی اپنی کامیابیوں کے جشن میں مصروف ہے اور کوئی اپنی محرومیوں کا حساب لیے بیٹھا ہے۔ غربت، بے بسی اور منافقت ایک دوسرے سے الگ مظاہر نہیں رہتے بلکہ ایک ایسے اجتماعی نظام کی علامت بن جاتے ہیں جس میں اقدار کی ترتیب بدل چکی ہے۔
شاعر کی نظر اس الٹ پھیر پر ہے جہاں بلندی اور پستی کے روایتی مفاہیم مشکوک ہونے لگتے ہیں۔ جسے معاشرہ عروج سمجھتا ہے، ممکن ہے وہ اخلاقی زوال کا دوسرا نام ہو؛ اور جسے ناکامی قرار دیا جاتا ہے، اس میں انسانی شرافت کی کوئی ایسی رمق موجود ہو جو ظاہری کامیابیوں سے زیادہ قیمتی ہے۔
مرزا غالب نے دنیا کو ’’بازیچۂ اطفال‘‘ کہا تھا۔ اس تصور میں زندگی کے ہنگاموں اور انسانی آرزوؤں کی ناپائیداری کا احساس موجود ہے۔ جاوید ڈینی ایل بھی اپنے گردوپیش کے تماشے کو دیکھتے ہیں، تاہم ان کی توجہ محض زندگی کی بے ثباتی پر نہیں ٹھہرتی؛ وہ اس تماشے کے اندر چھپی معاشرتی ناہمواریوں کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ یوں ان کا مشاہدہ ایک اخلاقی جہت اختیار کر لیتا ہے۔
ان کے یہاں سماج کی تصویرکشی محض شکایت نہیں بنتی، بلکہ ایک سوال کی صورت اختیار کرتی ہے۔ اور سوال، جب تخلیقی سطح پر اٹھایا جائے، تو وہ قاری کے شعور میں دیر تک زندہ رہتا ہے۔
اسی سلسلے میں ان کے یہ اشعار توجہ طلب ہیں؛
یہ کون تاریخ کو بدل کے
ہمارا چہرہ مسل رہا ہے
کسی کو بے جا صلیب دینا
یہ کام صدیوں سے چل رہا ہے
تاریخ محض گزرے ہوئے زمانوں کا ریکارڈ نہیں ہوتی؛ یہ اجتماعی یادداشت بھی ہے، جس میں قومیں اپنے تجربات، شکستوں، کامیابیوں اور شناختوں کو محفوظ کرتی ہیں۔ جب تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دراصل ماضی کے ساتھ ساتھ حال اور مستقبل کی معنویت بھی متاثر ہوتی ہے۔ شاعر کا ’’چہرہ مسلنے‘‘ کا استعارہ اسی شناختی بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
چہرہ کسی فرد کی شناخت بھی ہے اور کسی معاشرے کی اجتماعی پہچان بھی۔ اسے مسلنے کا مطلب محض ظاہری صورت بگاڑنا نہیں، بلکہ اس کی انفرادیت اور خود آگاہی کو مجروح کرنا بھی ہے۔ اسی طرح صلیب کا استعارہ بے جا سزا، جبر اور انسانی قربانی کی اس روایت کو سامنے لاتا ہے جو مختلف صورتوں میں صدیوں سے جاری ہے۔یہاں شاعر کا لہجہ احتجاجی ہے، مگر اس احتجاج کی بنیاد محض وقتی ردعمل نہیں؛ اس کے پیچھے انسانی تاریخ کے تسلسل کا احساس موجود ہے۔ ظلم کے طریقے بدل سکتے ہیں، اس کے جواز بدل سکتے ہیں، مگر جب طاقت انصاف سے بے نیاز ہو جائے تو انسانی المیہ نئے ناموں کے ساتھ دوبارہ جنم لینے لگتا ہے۔
جاوید ڈینی ایل کا پہلا شعری مجموعہ ” پانیوں پر پرواز ” شائع ہوا تھا جس نے شعری ادب کے سنجیدہ قارئین کو بہت متاثر کیا تھا جاوید ڈینی ایل کے شعری مجموعے،”پانیوں پر پرواز” کا عنوان بھی اپنی جگہ ایک تخلیقی امکان رکھتا ہے۔ پانی اور پرواز بظاہر دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پانی اپنی روانی، گہرائی اور انعکاس کا استعارہ ہے، جب کہ پرواز بلندی، آزادی اور ناممکن کو ممکن بنانے کی آرزو سے وابستہ ہے۔ ان دونوں لفظوں کو یکجا کیا جائے تو ایک ایسی تصویری فضا پیدا ہوتی ہے جس میں تخیل اپنے لیے معمول کی حدود سے باہر کوئی راستہ تلاش کرتا ہے۔
“پانیوں پر پرواز” کرنا گویا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شاعری ہمیشہ زمین پر موجود راستوں ہی کی پابند نہیں ہوتی۔ وہ ان امکانات کو بھی دریافت کرتی ہے جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتے ہیں۔ اِس عنوان میں ایک لطیف سی کشش ہے؛ یہ قاری کو پہلے ہی مرحلے پر اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ شعر کا سفر صرف خارجی دنیا کا سفر نہیں، بلکہ داخلی اور تخیلاتی وسعتوں کی طرف پیش قدمی بھی ہے۔ جاوید ڈینی ایل کا تازہ شعری مجموعہ “شگفتہ گفتگو تیری” ایک نہایت خوبصورت اور بھرپور شعری اشاریہ ہے، اس مجموعہ کلام میں انہوں نے اپنی جو غزلیں شامل کی ہیں وہ فکری اور معنوی اعتبار سے بہت انفرادیت رکھتی ہیں ۔
جاوید ڈینی ایل کے ہاں یقین اور گمان کی کیفیات بھی ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں۔ انسانی زندگی میں بعض احساسات ایسے ہوتے ہیں جنہیں عقل پوری طرح ثابت نہیں کر سکتی، مگر دل انہیں رد کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہوتا۔ محبت، حسن اور تخلیقی وابستگی اسی درمیانی فضا میں اپنی معنویت حاصل کرتے ہیں۔ شاعر کا یہ شعر دیکھیے؛
یقیں میں یا گماں میں ہے
مگر تو اس جہاں میں ہے
قصیدہ یا غزل میری
تو ہی حرف و بیاں میں ہے
اِن اشعار میں یقین اور گمان کے درمیان موجود فاصلہ محبت کے تجربے سے پُر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ محبوب کی موجودگی کسی قطعی دلیل کی محتاج نہیں؛ اس کا احساس شاعر کے پورے تخلیقی وجود میں پھیل چکا ہے۔ قصیدہ ہو یا غزل، حرف ہو یا بیان، ہر صورت میں محبوب کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔یہاں محبت ایک شخصی تجربے سے آگے بڑھ کر تخلیق کی محرک قوت بن جاتی ہے۔ شاعر کے لیے محبوب محض موضوع نہیں، بلکہ وہ مرکز ہے جس کے گرد اظہار کی مختلف صورتیں گردش کرتی ہیں۔ یہ کیفیت غزل کی اسی روایت سے وابستہ ہے جس میں محبوب کی موجودگی کبھی براہِ راست اور کبھی کسی غیر مرئی احساس کی صورت میں شعر کے اندر اپنا مقام بناتی ہے۔
جاوید ڈینی ایل کی شاعری میں روایت اور جدت کا امتزاج بھی قابلِ توجہ ہے۔ روایت شاعر کو زبان، اسلوب اور تہذیبی حافظے سے رشتہ عطا کرتی ہے، جب کہ جدت اسے اپنے عہد کے نئے تجربات اور بدلتے ہوئے احساسات کے اظہار کا حوصلہ دیتی ہے۔ ان دونوں میں توازن قائم کرنا آسان نہیں۔ محض روایت سے وابستگی شعر کو تقلید کی طرف لے جا سکتی ہے اور جدت کی بے محابا خواہش اظہار کو اپنی تہذیبی جڑوں سے دُور کر سکتی ہے۔
ان کے یہ اشعار اسی شعری فضا کی نمائندگی کرتے ہیں؛
دھڑکتا ہے یہاں لیکن
یہ دل کوئے بتاں میں ہے
ترا حسن تغزل بھی
بیاں اہل زباں میں ہے
اِن اشعار میں کلاسیکی غزل کی مانوس فضا بھی موجود ہے اور اظہار کی ایک سادہ، رواں صورت بھی۔ ’’کوئے بتاں‘‘ کا تصور اردو غزل کی تہذیبی روایت سے جڑا ہوا ہے، جب کہ تغزل کا حوالہ شعر کی اس لطافت کو سامنے لاتا ہے جس میں جذبہ براہِ راست بیان ہونے کے بجائے زبان کے آہنگ اور لفظوں کی نشست سے اپنی تاثیر حاصل کرتا ہے۔
شاعری میں زبان و بیان سے واقفیت صرف الفاظ کے درست استعمال کا نام نہیں۔ اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ شاعر اپنے احساس کے لیے موزوں ترین لفظ، مناسب ترین آہنگ اور مؤثر ترین شعری صورت کا انتخاب کس طرح کرتا ہے۔ جاوید ڈینی ایل کی شاعری میں اس شعور کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان کے ہاں اظہار کی سادگی ایک اہم وسیلہ ہے، جس کے ذریعے وہ خیال کو غیر ضروری لفظی آرائش سے بچاتے ہوئے قاری تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
محبوب کے حسن اور اس سے وابستہ داخلی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے ان کے یہ اشعار دیکھیے؛
مرے دل میں جو ایک زہرہ جبیں ہے
کہیں اس کے جیسی نہ کوئی حسیں ہے
وہ چہرہ کہ جیسے دعاؤں کا ہالہ
وہ آنکھیں کہ جن پر مجھے خود یقیں ہے
یہاں محبوب کا حسن صرف ظاہری خد و خال تک محدود نہیں رہتا۔ ’’دعاؤں کا ہالہ‘‘ چہرے کے گرد ایک روحانی اور لطیف فضا پیدا کرتا ہے۔ حسن کی یہ تصویر محبوب کو ایک مانوس انسانی وجود سے بلند کرکے احساس کی ایسی سطح پر لے جاتی ہے جہاں محبت میں عقیدت کی آمیزش ہونے لگتی ہے۔
دوسرے مصرعے میں آنکھوں پر یقین کا اظہار بھی معنی خیز ہے۔ آنکھیں انسانی چہرے کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ داخلی سچائی، اعتماد اور تعلق کی علامت بھی ہیں۔ شاعر کا یقین دراصل اس رشتے کی داخلی صداقت کا یقین ہے، جسے وہ اپنے احساس کی روشنی میں دیکھتا ہے۔
تاہم کسی بھی شاعر کی تخلیقی قدر کا تعین صرف اس کے رومانوی اشعار سے نہیں کیا جا سکتا۔ شاعر کی اصل وسعت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ محبت کے ساتھ زندگی کی تلخیوں، انسانی محرومیوں اور وقت کے بدلتے ہوئے رویوں کو بھی اپنے شعری تجربے کا حصہ بناتا ہے۔ جاوید ڈینی ایل کی شاعری میں یہ وسعت ان اشعار میں نمایاں ہوتی ہے؛
چھوڑ جاؤں گا تمہارے درمیاں
تلخ و شیریں زندگی کی داستاں
مجھ کو قسمت کا ستارہ نہ ملا
کیسے لا دیتا میں تجھ کو کہکشاں
زندگی تلخی اور شیرینی کا مجموعہ ہے۔ اس میں خوشی کے لمحے بھی ہیں اور محرومی کے موسم بھی، کچھ آرزوئیں پوری ہوتی ہیں اور کچھ اپنے نامکمل ہونے ہی میں انسان کی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ شاعر جب تلخ و شیریں زندگی کی داستان چھوڑ جانے کی بات کرتا ہے تو اس میں تجربے کو محفوظ کرنے اور اسے دوسروں تک منتقل کرنے کی خواہش شامل ہو جاتی ہے۔
یہ خواہش ادب کی بنیادی روح سے مناسبت رکھتی ہے۔ انسان اپنے تجربات سے فنا کے خلاف ایک علامتی مزاحمت کرتا ہے؛ وہ چاہتا ہے کہ اس کے گزرے ہوئے لمحے، اس کی خوشیاں، اس کی محرومیاں اور اس کے احساسات کسی دوسرے کے شعور میں جگہ پائیں۔ تخلیق اسی خواہش کو زبان عطا کرتی ہے۔
’’قسمت کا ستارہ‘‘ اور ’’کہکشاں‘‘ کے استعاروں میں بھی ایک خوب صورت معنوی رشتہ موجود ہے۔ کہکشاں وسعت اور بے پناہ امکانات کی علامت ہے، جب کہ ستارہ اس وسعت میں اپنی ایک محدود مگر روشن شناخت رکھتا ہے۔ شاعر اپنی محرومی کا ذکر کرتے ہوئے اس فاصلے کو محسوس کرتا ہے جو خواہش اور استطاعت، آرزو اور حقیقت کے درمیان قائم رہتا ہے۔
اس شعر میں ایک ایسے انسان کی کیفیت بھی محسوس کی جا سکتی ہے جو اپنے چاہنے والوں کو بہت کچھ دینا چاہتا ہے، مگر زندگی کی محدودات اس کے راستے میں حائل ہو جاتی ہیں۔ یوں ذاتی محرومی ایک وسیع تر انسانی تجربے سے جڑ جاتی ہے۔
جاوید ڈینی ایل کی شاعری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کو دیکھتے ہوئے محض تماشائی بن کر نہیں رہتے۔ ان کے ہاں مشاہدہ ایک احساس میں اور احساس ایک تخلیقی ردعمل میں تبدیل ہوتا ہے۔ یہی تبدیلی شاعر کو عام ناظر سے ممتاز کرتی ہے۔ عام آدمی کسی واقعے کو دیکھ کر آگے بڑھ جاتا ہے، مگر شاعر اس واقعے کے اندر چھپے ہوئے سوال کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ وہ اسے اپنے باطن میں جگہ دیتا ہے، اس کی مختلف پرتوں کو محسوس کرتا ہے اور پھر کسی مناسب لمحے میں اسے شعر کی صورت عطا کرتا ہے۔
یہ عمل بظاہر خاموش ہے، مگر اس کے نتائج اجتماعی شعور پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ شاعری نہ ہر مسئلے کا حل پیش کرتی ہے اور نہ اسے کسی نظریے کی تشہیر تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ اس کا بنیادی کام انسانی احساس کو بیدار کرنا، تجربے کی پیچیدگی کو محسوس کرانا اور قاری کو اپنے طے شدہ تصورات پر نظرِ ثانی کی دعوت دینا ہے۔ جاوید ڈینی ایل کی شاعری کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
ان کے شعری مزاج میں ایک طرف غزل کی روایتی لطافت ہے تو دوسری طرف اپنے زمانے کے بارے میں سوال اٹھانے کی خواہش۔ کہیں محبوب کی آنکھوں میں یقین کی روشنی ہے، کہیں معاشرتی منظرنامے میں منافقت کی تاریکی ، کہیں حروف سے تصویر بن رہی ہے اور کہیں تاریخ کے چہرے پر گرد جمنے کا اندیشہ ہے۔ ان مختلف کیفیات کو یکجا دیکھا جائے تو ان کی شاعری کا ایک ایسا نقش ابھرتا ہے جس میں زندگی اپنی تمام تر رنگا رنگی اور تضادات کے ساتھ موجود ہے۔
البتہ ہر تخلیقی سفر کی طرح اس سفر میں بھی امکانات کی ایک وسیع دنیا موجود ہے۔ جاوید ڈینی ایل کے لیے اپنی مشاہداتی قوت کو مزید گہرا کرنا، استعاروں کی معنوی تہہ داری بڑھانا اور سماجی تجربے کو انفرادی واردات کے ساتھ زیادہ عضوی انداز میں مربوط کرنا ان کی شاعری کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔ ان کے ہاں موجود سادگی اور اختصار اس اعتبار سے ایک اہم سرمایہ ہیں کہ یہی عناصر زیادہ پختہ تخلیقی ریاضت کے ساتھ غیر معمولی معنوی گہرائی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
ادب میں کسی شاعر کی اہمیت کا تعین محض اس کے اشعار کی مقبولیت یا اس کے موضوعات کی تعداد سے نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کے احساسات کو کس طرح زبان دیتا ہے، اپنی روایت سے کس نوعیت کا رشتہ قائم کرتا ہے اور قاری کے اندر کتنی دیر تک ایک سوال، ایک کیفیت یا ایک تصویر کو زندہ رکھ پاتا ہے۔
جاوید ڈینی ایل کی شاعری میں یہ سوال اپنی مختلف صورتوں میں موجود ہے۔
جاوید ڈینی ایل کا تازہ شعری مجموعہ ’’شگفتہ گفتگو تیری‘‘ ان کے تخلیقی سفر کی ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس مجموعے میں شاعر نے شعری جمالیات، رومانوی احساسات اور لطیف جذبوں کو جس فنی سلیقے، شائستگی اور دل نشیں اسلوب کے ساتھ شعری پیکر عطا کیے ہیں، وہ ان کی تخلیقی انفرادیت کا آئینہ دار ہے۔ ان کی شاعری محض جذبات کے اظہار تک محدود نہیں رہتی بلکہ احساس کی نزاکت، لفظ کی لطافت اور خیال کی دل آویزی سے ایک ایسی فضا تشکیل دیتی ہے جو قاری کے ذوقِ جمال کو بھی آسودگی بخشتی ہے اور اس کے باطن میں احساس کی نئی کھڑکیاں بھی وا کرتی ہے۔
جاوید ڈینی ایل کی شاعری کا امتیاز ان کا وہ شگفتہ اور دل نشیں اسلوب ہے جس میں رومان کی لطافت، جذبوں کی پاکیزگی اور اظہار کی دل کشی باہم ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں۔ یہی اسلوب انہیں معاصر شعری منظرنامے میں ایک الگ شناخت عطا کرتا ہے۔ ان کی تخلیقی شخصیت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ وہ شاعری کے ساتھ ساتھ معیاری ادبی رسالے ’’نیا تادیب‘‘ کی اشاعت کے ذریعے ادبی روایت کے فروغ اور تخلیقی ذوق کی آبیاری میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
مجھے کامل اُمید ہے کہ ’’شگفتہ گفتگو تیری‘‘ بھی قارئینِ ادب اور اہلِ ذوق سے بھرپور پذیرائی حاصل کرے گا اور جاوید ڈینی ایل کے شعری سفر میں ایک خوش گوار اور قابلِ ذکر اضافہ ثابت ہوگا۔ یہ مجموعہ ان کے تخلیقی اعتماد، شعری ریاضت اور جمالیاتی شعور کی ایک خوب صورت دستاویز ہے۔ جاوید ڈینی ایل کو اس نئی تخلیقی کاوش پر دلی مبارک باد اور نیک تمنائیں۔
ڈاکٹر شفیق آصف—پروفیسر شعبہ اردو زبان و ادب؛ یونیورسٹی آف سرگودھا
*******


