ہر بیج اُگنے کی آرزو رکھتا ہے : پاسٹر شہزاد منیر

(خدا کے کلام کا بیج اور روحانی پھل کی زندگی)
قدرت کا ایک حسین اور اٹل اصول ہے کہ ہر بیج اپنے اندر ایک مکمل زندگی کا امکان لیے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ مٹی کی تاریکی میں دفن ہو کر بھی روشنی کی سمت بڑھنے کی آرزو رکھتا ہے۔ اس کی خاموشی دراصل زندگی کی تیاری ہوتی ہے اور اس کی پوشیدگی ایک نئے سفر کا آغاز۔ اگر اسے زرخیز زمین، مناسب نمی، روشنی اور سازگار ماحول میسر آ جائے تو وہ ایک ننھے سے بیج سے تناور درخت بن جاتا ہے اور اپنے وجود کو پھل کی صورت دوسروں کے لیے باعثِ برکت بنا دیتا ہے۔

خداوند یسوع مسیح نے اسی فطری حقیقت کو ایک گہری روحانی تعلیم میں تبدیل کرتے ہوئے فرمایا؛ َ “بیج خدا کا کلام ہے۔” (لوقا 8:11)

یہ مختصر جملہ مسیحی زندگی کا ایک بنیادی اصول اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ خدا کا کلام محض الفاظ کا مجموعہ یا مذہبی معلومات کا خزانہ نہیں، بلکہ ایک زندہ بیج ہے۔ اس میں انسان کی زندگی کو اندر سے بدل دینے کی قدرت موجود ہے۔ جب یہ بیج دل کی زمین میں جگہ پاتا ہے تو سوچ، کردار، ترجیحات اور تعلقات تک سب کچھ نئے انداز سے سنورنے لگتا ہے۔لیکن ہر بیج کی طرح خدا کے کلام کے بیج کے لیے بھی صرف بویا جانا کافی نہیں۔ اس کی نشوونما کا انحصار اس زمین پر ہوتا ہے جہاں اسے جگہ ملتی ہے۔ اسی لیے خداوند یسوع نے بیج بونے والے کی تمثیل میں واضح فرمایا کہ بیج تو ایک ہی ہوتا ہے، فرق صرف زمین کا ہوتا ہے۔ کہیں دل سخت ہوتے ہیں، کہیں دنیا کی فکریں کلام کو دبا دیتی ہیں، کہیں وقتی جوش جلد ختم ہو جاتا ہے، اور کہیں ایسا نرم اور زرخیز دل بھی ہوتا ہے جو خدا کے کلام کو قبول کر کے بھرپور ثمر لاتا ہے۔ (متی 13:18-23)

یہ تمثیل ہر ایماندار کو اپنے دل کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم نے خدا کا کلام کتنی مرتبہ سنا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے دل نے اس کلام کو اپنی گہرائیوں میں جگہ دی ہے؟ کیا ہم نے اسے اپنی زندگی میں جڑ پکڑنے کا موقع دیا ہے؟ روحانی زندگی کی خوب صورتی صرف کلام سننے میں نہیں بلکہ اسے قبول کرنے، اس پر غور کرنے اور عملی زندگی میں جگہ دینے میں ہے۔ جس دل میں خدا کا کلام جڑ پکڑ لیتا ہے، وہاں تبدیلی خاموشی سے جنم لیتی ہے۔ انسان کی سوچ بدلتی ہے، رویّے بدلتے ہیں، ترجیحات بدلتی ہیں اور آہستہ آہستہ اس کی پوری زندگی خدا کی مرضی کے مطابق ڈھلنے لگتی ہے۔

رُوحُ القدس کی سیرابی؛
جس طرح کوئی بیج پانی کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا، اسی طرح خدا کے کلام کا بیج بھی روح القدس کی سیرابی کے بغیر اپنی مکمل نشوونما حاصل نہیں کر سکتا۔ خداوند نے انسان کو صرف اپنا کلام ہی نہیں دیا بلکہ اپنی پاک روح بھی عطا کی تاکہ وہ اس کلام کو زندہ حقیقت بنا دے۔ خداوند یسوع نے فرمایا کہ جو شخص اس روحانی پانی سے سیراب ہوگا، اس کے اندر ہمیشہ کی زندگی کا چشمہ جاری ہو جائے گا۔ (یوحنا 7:38-39)

روح القدس ایک ایماندار کے دل کو نرم کرتا، خدا کے کلام کو سمجھنے کی بصیرت عطا کرتا اور اس پر عمل کرنے کی قوت بخشتا ہے۔ وہ خاموشی سے انسان کی اندرونی دنیا میں کام کرتا ہے، کمزوری کو طاقت، خوف کو اعتماد اور بے ثمری کو ثمر آوری میں بدل دیتا ہے۔ اسی لیے ایک صحت مند روحانی زندگی صرف بائبل پڑھنے سے نہیں بلکہ دعا، خدا کے حضور وقت گزارنے اور روح القدس کی رہنمائی میں چلنے سے پروان چڑھتی ہے۔ جب خدا کا کلام اور روح القدس ایک ساتھ انسان کی زندگی میں کام کرتے ہیں تو دل کی زمین زرخیز ہوتی جاتی ہے، ایمان مضبوط ہوتا ہے اور ایک نئی روحانی زندگی جنم لیتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بیج صرف محفوظ نہیں رہتا بلکہ اُگنا شروع کرتا ہے، اور اس کی یہ خاموش نشوونما آنے والے خوب صورت پھل کی نوید بن جاتی ہے۔

ثمر آور زندگی؛
جب ایک بیج مناسب ماحول میں پروان چڑھتا ہے تو اس کی شناخت صرف اس کے سبز پتوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے پھل سے ہوتی ہے۔ یہی اصول روحانی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ خدا کا کلام جب دل کی گہرائیوں میں جڑ پکڑ لیتا ہے تو اس کا اثر محض خیالات تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسان کے کردار میں نمایاں ہونے لگتا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک رونما نہیں ہوتی بلکہ ایک مسلسل روحانی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جس طرح درخت برسوں کی آبیاری کے بعد سایہ دار اور ثمر آور بنتا ہے، اسی طرح ایک ایماندار بھی خدا کے کلام اور روح القدس کی رہنمائی میں بتدریج پختگی حاصل کرتا ہے۔ اس کی گفتگو میں نرمی، رویّے میں انکساری، تعلقات میں محبت اور فیصلوں میں خدا کی مرضی نمایاں ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ ثمر ہے جسے خدا اپنی اولاد کی زندگی میں دیکھنا چاہتا ہے۔

پولس رسول روح القدس کے پھل کا ذکر کرتے ہوئے محبت، خوشی، اطمینان، صبر، مہربانی، نیکی، وفاداری، حلم اور پرہیزگاری کا تذکرہ کرتے ہیں۔ (گلتیوں 5:22-23) یہ خوبیاں انسانی کوشش کا محض نتیجہ نہیں بلکہ خدا کے کلام اور روح القدس کے مشترکہ عمل کا ثمر ہیں۔ یہی حقیقی روحانی پختگی ہے کہ انسان صرف ایمان کا دعویٰ نہ کرے بلکہ اس کی زندگی دوسروں کے لیے بھی برکت کا وسیلہ بن جائے۔ محبت زخمی دلوں کو سہارا دیتی ہے، صبر تعلقات کو مضبوط کرتا ہے، مہربانی انسانوں کو خدا کی شفقت کا احساس دلاتی ہے، اور وفاداری خدا کے حضور ثابت قدم رہنے کی گواہی بنتی ہے۔ جب یہ اوصاف کسی ایماندار کی زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں تو لوگ اس کے الفاظ سے زیادہ اس کے کردار میں مسیح کو دیکھتے ہیں۔

خداوند یسوع نے فرمایا کہ باپ اس وقت جلال پاتا ہے جب اُس کے شاگرد بہت سا پھل لاتے ہیں۔ اس لیے مسیحی زندگی کا مقصد صرف روحانی معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسی زندگی گزارنا ہے جس کے ذریعے دوسروں کو بھی خدا کی محبت، رحم اور نجات کا تجربہ ہو۔

حاصلِ کلام؛
ہر بیج اُگنے کی آرزو رکھتا ہے۔ اگر ایک معمولی سا بیج مناسب ماحول پا کر ایک تناور درخت بن سکتا ہے تو خدا کا زندہ اور مؤثر کلام کیوں نہ ایک انسان کی زندگی کو نئی تخلیق میں بدل دے؟

اصل سوال یہ نہیں کہ خدا نے ہمیں اپنا کلام دیا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے دل کو اس کلام کے لیے کس حد تک کھولا ہے۔ اگر ہمارا دل زرخیز زمین بن جائے، ہم خدا کے کلام کو ایمان سے قبول کریں اور روح القدس کی رہنمائی میں زندگی بسر کریں تو یہی بیج ہمارے اندر ایمان، امید، محبت اور پاکیزہ کردار کا ایسا درخت اُگا دے گا جس کا پھل نہ صرف ہماری اپنی زندگی بلکہ دوسروں کے لیے بھی برکت کا باعث بنے گا۔ زبور نویس ایسے شخص کو اُس درخت سے تشبیہ دیتا ہے جو پانی کی ندیوں کے کنارے لگا ہو، اپنے وقت پر پھل لاتا ہو اور جس کے پتے کبھی مرجھاتے نہ ہوں۔ (زبور 1:1-3)

یہی خدا کی خواہش ہے کہ اس کا ہر فرزند اسی طرح ثمر آور زندگی گزارے، تاکہ اس کے کردار میں خداوند یسوع مسیح کی محبت اور جلال نمایاں ہو۔
دعا
  اے آسمانی باپ ۔۔!۔
تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں اپنا زندہ اور مؤثر کلام عطا فرمایا۔ ہمارے دلوں کو ایسی زرخیز زمین بنا کہ تیرا کلام ان میں گہری جڑ پکڑے اور ہماری زندگیوں میں ایمان، محبت اور راستبازی کا بھرپور پھل پیدا کرے۔ہمیں اپنی پاک روح سے معمور رکھ تاکہ ہم صرف تیرے کلام کے سننے والے ہی نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے والے بھی بنیں۔ ہماری زندگی دوسروں کے لیے برکت، امید اور حوصلے کا سبب ہو، تاکہ ہر کام میں تیرے پاک نام کو جلال ملے۔ہم یہ دُعا اپنے نجات دہندہ خداوند یسوع مسیح کے بابرکت نام میں مانگتے ہیں۔آمین۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading