ہم اپنے بیٹوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ : وسیم جبران

ہم واقعی ایک عظیم قوم ہیں۔ ہماری عظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جب بھی کسی لڑکی کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو ہم بجلی کی رفتار سے تحقیقات شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تحقیقات ملزم کے بارے میں نہیں ہوتیں، لڑکی کے بارے میں ہوتی ہیں۔وہ کہاں جا رہی تھی؟ کیوں جا رہی تھی؟ کس کے ساتھ جا رہی تھی؟ اتنی دیر باہر کیوں تھی؟ اس نے کیا پہن رکھا تھا؟

گویا جرم اگر ہوا ہے تو سب سے پہلے متاثرہ شخص کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ضروری ہے۔ ملزم تو بیچارہ بعد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم بیٹیوں کی تربیت پر سینکڑوں کتابیں لکھ سکتے ہیں، مگر بیٹوں کی تربیت پر گفتگو شروع ہو تو فوراً موضوع بدل دیتے ہیں۔ بیٹی کو بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ کیسے بیٹھنا ہے، کیسے چلنا ہے، کیسے بولنا ہے، کیسے ہنسنا ہے اور کیسے خاموش رہنا ہے۔ لیکن بیٹے کو صرف ایک بات سکھائی جاتی ہے : ”بیٹا، تم شہزادے ہو۔“ اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ کچھ شہزادے بڑے ہو کر خود کو سلطنت کا مالک کیوں سمجھنے لگتے ہیں۔

ہمارے گھروں میں عجیب منظر ہوتے ہیں۔ پانچ سال کا بچہ پانی کا گلاس خود اٹھا لے تو مائیں فخر سے کہتی ہیں : ”ہائے میرا بچہ کتنا سمجھدار ہو گیا ہے!“ یعنی اصل توقع یہ تھی کہ اٹھائے گا نہیں۔ دس سال کا لڑکا اپنی پلیٹ خود کچن میں رکھ آئے تو گھر میں گویا اصلاحِ معاشرہ کا کوئی عظیم منصوبہ کامیاب ہو گیا ہو۔

لیکن اگر کوئی بیٹی ذرا سی ذمہ داری سے غفلت برت لے تو اسے فوراً زندگی کے تمام آداب یاد دلائے جاتے ہیں۔ یوں ہم ایک کو ذمہ داری سکھاتے ہیں اور دوسرے کو استحقاق۔ پھر ایک دن یہی استحقاق انا میں بدل جاتا ہے۔ پھر یہی انا یہ ماننے سے انکار کر دیتی ہے کہ دنیا میں دوسروں کی مرضی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ پھر یہی انا ”نہیں“ سننے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ اور جس انسان کو ”نہیں“ سننے کی عادت نہ ہو، وہ دوسروں کی زندگی کے لیے ایک خطرہ بن جاتا ہے۔

ہم نے اپنے بیٹوں کو کامیابی کا سبق تو بہت دیا ہے، شکست کا نہیں۔ ہم نے انہیں جیتنا سکھایا ہے، ہارنا نہیں۔ ہم نے انہیں خواہش کرنا سکھایا ہے، خواہش پر قابو پانا نہیں۔ ہم نے انہیں محبت کے گیت سنائے ہیں، محبت کا احترام نہیں سکھایا۔ نتیجہ یہ ہے کہ بعض نوجوانوں کے نزدیک محبت کا مطلب دوسرے انسان کا احترام نہیں بلکہ اس پر حق جتانا بن گیا ہے۔

اگر وہ شخص ان کی مرضی کے مطابق چلتا رہے تو محبت۔ اگر انکار کر دے تو دشمنی۔ اگر مخالفت کرے تو توہین۔ اور اگر راستے میں آ جائے تو مسئلہ۔ اس کے بعد ہم ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بحث کرتے ہیں کہ آخر نوجوانوں میں برداشت کیوں ختم ہو رہی ہے۔

ہم نے اپنے بچوں کو ہر قیمت پر خوش رکھنے کی کوشش میں انہیں ہر بات پر ناراض ہونے والا بنا دیا ہے۔ پہلے بچوں کو سکھایا جاتا تھا کہ زندگی تمہاری مرضی کے مطابق نہیں چلے گی، اس لیے خود کو مضبوط بناؤ۔ اب بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ زندگی تمہاری مرضی کے مطابق چلنی چاہیے، اور اگر نہ چلے تو یقیناً کسی اور کی غلطی ہے۔

پھر ہم سوشل میڈیا کو گالیاں دیتے ہیں۔ حالانکہ موبائل فون نے کسی بچے کو بدتمیز نہیں بنایا۔ فون نے صرف وہ چیزیں نمایاں کر دی ہیں جو پہلے سے موجود تھیں۔ اگر تربیت موجود ہو تو انٹرنیٹ علم کا خزانہ بن جاتا ہے۔ اصل سوال موبائل کا نہیں، ذہن کا ہے۔ اصل مسئلہ ٹک ٹاک نہیں، تربیت ہے۔ اصل بحران انٹرنیٹ نہیں، کردار ہے۔ اور پھر ہم مردانگی کی بات کرتے ہیں۔

خدا جانے یہ مردانگی کہاں سے درآمد کی گئی ہے جس میں عورت کو ڈرانا طاقت ہے، آواز بلند کرنا اعتماد ہے اور غصہ کرنا بہادری ہے۔

ہم نے نوجوانوں کو بتایا ہی نہیں کہ اصل مردانگی اپنے نفس پر قابو پانے کا نام ہے۔ اصل طاقت مشتعل ہونے میں نہیں، مشتعل ہو کر بھی خود کو روک لینے میں ہے۔ اصل بہادری کمزور کو خوفزدہ کرنے میں نہیں، اس کی حفاظت کرنے میں ہے۔ لیکن یہ اسباق اب نصاب میں شامل نہیں رہے۔ اب نصاب میں کامیابی ہے، دولت ہے، شہرت ہے، مقابلہ ہے، برتری ہے۔ صرف انسانیت کہیں فٹ نہیں بیٹھتی۔

ہم ہر سانحے کے بعد قاتل کو تلاش کرتے ہیں۔ پولیس قاتل تلاش کرتی ہے۔ عدالت قاتل تلاش کرتی ہے۔ میڈیا قاتل تلاش کرتا ہے۔ لیکن شاید ہمیں آئینے بھی تلاش کرنے چاہئیں۔ کیونکہ بعض اوقات قاتل ایک شخص نہیں ہوتا۔ اس میں کئی ہاتھ شامل ہوتے ہیں۔ ایک گھر کا لاڈ پیار، ایک باپ کی اندھی حمایت، ایک ماں کی غیر ضروری رعایت، ایک استاد کی خاموشی، ایک معاشرے کی بے حسی اور ایک ایسی ثقافت جو حقوق تو سکھاتی ہے مگر ذمہ داریاں نہیں۔ پھر ایک دن ہم حیرت سے پوچھتے ہیں یہ لڑکے ایسے کیوں ہو گئے ہیں؟
حالانکہ سوال یہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے انہیں ایسا بننے سے روکا کب تھا؟

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بیٹیوں کے گرد مزید دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے بیٹوں کے اندر کچھ دیواریں تعمیر کریں ؛ قانون کی، اخلاق کی، احترام کی، برداشت کی اور خود احتسابی کی۔ کیونکہ ایک محفوظ معاشرہ اس دن پیدا نہیں ہوتا جب آخری لڑکی گھر کے اندر بند ہو جائے۔ ایک محفوظ معاشرہ اس دن پیدا ہوتا ہے جب آخری لڑکا یہ سیکھ لے کہ ہر عورت اس کی ملکیت نہیں، ہر انکار اس کی توہین نہیں اور ہر خواہش اس کا حق نہیں۔ اور جب تک ہم اپنے بیٹوں کو یہ نہیں سکھاتے، تب تک ہر سانحے کے بعد صرف قاتل بدلتے رہیں گے، کہانی نہیں۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading