وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ادبی، ثقافتی اور فکری فضا میں آج ایک ایسا نام پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے، جو نہ صرف مسیحی برادری بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ افتخار بن چکا ہے۔ یہ نام معروف شاعر، باوقار میزبان، نغمہ نگار اور سماجی شخصیت شہباز چوہان کا ہے، جنہوں نے اپنی
محنت، تخلیقی صلاحیت، شائستگی اور ادب سے محبت کے ذریعے قومی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کیا۔

مجھے آج بھی شہباز چوہان صاحب سے اپنی پہلی ملاقات بخوبی یاد ہے۔ یہ سال 2014ء کی بات ہے، جب میری ادارت میں شائع ہونے والے جریدے ماہنامہ “نیا تادیب” لاہور/ملتان کی تیرہویں سال گرہ کی تقریب منعقد ہوئی۔ اُس یادگار ادبی محفل میں معروف شاعر، گیت نگار ، دانشور اور ہمارے دوست خالد عمانوایل کی وساطت سے شہباز چوہان بطورِ مہمانِ اعزاز شریک ہوئے۔
پہلی ملاقات ہی میں اُن کی شخصیت نے دل موہ لیا۔ بے حد محبت کرنے والے، مہمان نواز، ملنسار اور شائستہ انسان… ایسے لوگ جو چند لمحوں میں ہی اپنے خلوص اور اخلاق سے سامنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ اُن کے لہجے میں اپنائیت اور گفتگو میں ایسی مٹھاس ہے جو دیر تک دل میں بسی رہتی ہے۔
اُنہی کے لیے اپنا ایک قطعہ نذر کرتا ہوں؛
کسی کو گفتگو کرنے سے پہلے رام کر لینا
ہنر اُس کو ہی آتا ہے، یہ مشکل کام کرلینا
کسی بے کیف لمحے میں تھکا ہارا بدن تھامے
کبھی جاویدؔ ! مل جائے تو لطفِ جام کر لینا
بعد ازاں 2018ء میں “اشارہ انٹرنیشنل” کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ایک عظیم الشان مشاعرے میں شہباز چوہان نے، اشارہ ادبی تنظیم کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے، ڈاکٹر عادل امین، پروفیسر فخر ولیم لالہ اور ڈاکٹر کنول فیروز کے ہمراہ مجھے بھی مدعو کیا۔ وہ ادبی محفل آج بھی یادوں کے دریچوں میں روشن ہے۔ مشاعرے کے اختتام پر مجھے “اشارہ انٹرنیشنل ایوارڈ-2018ء”سے نوازا گیا، جو یقیناً میرے ادبی سفر کا ایک خوشگوار اور یادگار لمحہ تھا۔ چونکہ ہم شہباز چوہان کے مہمان تھے، اس لیے اُن کی محبت بھری میزبانی اور خلوص نے اس تقریب کی خوشی کو مزید دوبالا کر دیا۔ اُن کی مہمان نوازی میں ایک ایسی اپنائیت تھی جو آج بھی دل میں محفوظ ہے۔
شہباز چوہان کا تعلق پنجاب کے تاریخی شہر سانگلہ ہل کے نواحی گاؤں چھٹہ چک سے ہے۔ ایک سادہ مگر باوقار مسیحی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے اس نوجوان نے خواب ضرور بڑے دیکھے، مگر اُن خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت، صبر اور کردار کی روشنی کو اپنا سرمایہ بنایا۔ بہتر مستقبل اور ادبی شناخت کی تلاش اُنہیں اسلام آباد لے آئی، جہاں ہر شخص اپنی پہچان بنانے کی جدوجہد میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی نوجوان کا محض اپنی صلاحیت اور اخلاق کے بل بوتے پر نمایاں ہو جانا یقیناً ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
مختصر تعارف کے طور پر اگر شہباز چوہان کی شخصیت کو دیکھا جائے تو وہ بیک وقت شاعر، کمپیئر، ادبی منتظم، نغمہ نگار اور سماجی ہم آہنگی کے داعی ہیں۔ اُن کی شاعری میں محبت، قومی یک جہتی، انسان دوستی اور معاشرتی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ اُن کا اندازِ گفتگو شائستگی اور وقار کا آئینہ دار ہے، جبکہ مشاعروں کی میزبانی میں اُن کی برجستگی، لہجے کی دلکشی اور ادبی سلیقہ سامعین کو اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔
طنز و مزاح کے میدان میں بھی شہباز چوہان کا جواب نہیں۔ اُن کی برجستہ گفتگو اور شگفتہ اندازِ بیاں محفل کو زندہ اور پُرکیف بنا دیتا ہے، مگر اِسی شخصیت کے اندر ایک سنجیدہ اور فکری شاعر بھی موجود ہے، جو معاشرتی مسائل، انسانی احساسات اور قومی شعور کو بڑے نپے تُلے انداز میں لفظ عطا کرتا ہے۔ اُن کے ہاں مزاح محض ہنسانے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی رویّوں پر ایک شائستہ تبصرہ بھی ہے۔
وہ نہ صرف ایک شاعر ہیں بلکہ ایک کامیاب نغمہ نگار بھی ہیں۔ اُن کے تحریر کردہ بے شمار گیت یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مقبول ہو چکے ہیں۔ اُن کے لفظوں میں محبت، وطن سے وابستگی اور انسانی رشتوں کی سچائی جھلکتی ہے۔
اُن کے منتخب اشعار اُن کے فکری رنگ کو مزید نمایاں کرتے ہیں؛
خالی کھیسہ بھر دے مولا
مینوں لیڈر کر دے مولا
وہ اگر چمچہ گیر پکا ہے
تو سمجھ لیں وزیر پکا ہے
بازار میں مت آئیں، آرام سے گھر بیٹھیں
تمہیں چاند سمجھتے ہیں کہیں عید نہ کر بیٹھیں
ہم مڈل کوٹ کے وارث ہیں، اور سچا بھید ہیں پرچم کا
ہم سر مس روف کی نسل میاں، ہم رنگ سفید ہیں پرچم کا
یہ پرچم تھام کے رکھیں گے، ہمیں فکر نہیں ہے جانوں کی
یوں تو شہباز چوہان کی کئی نظمیں، قطعات اور گیت زبان زدِ عام ہیں، مگر اُن کی شہرۂ آفاق نظم “کالو” کا ذکر نہ کیا جائے تو بات ادھوری محسوس ہوتی ہے؛
جے کوئی انہونی ہو جائے
میری کالو سوہنی ہو جائے
یہ نظم عوامی سطح پر جس محبت اور پذیرائی سے سنی گئی، وہ شہباز چوہان کی عوامی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ نظم اُن کی شناخت کا مستقل حوالہ بن چکی ہو۔ بالکل اُسی طرح جیسے پروفیسر انور مسعود صاحب کے ذکر کے ساتھ اُن کی شہرۂ آفاق نظم “بنیان” کا حوالہ خود بخود ذہن میں اُبھر آتا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے نجی ٹی وی چینلز کے خصوصی مشاعروں اور ادبی پروگراموں میں اُن کی شرکت ایک مستقل روایت بن چکی ہے۔ بالخصوص عیدین کے مواقع پر پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) اُن کی موجودگی ناظرین کے لیے ایک دلکش تجربہ ثابت ہوتی ہے۔ اُن کے اندازِ گفتگو میں ایک ایسی روانی، شائستگی اور برجستگی پائی جاتی ہے جو سامعین کو ابتدا سے اختتام تک اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔
حال ہی میں شہباز چوہان نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر عیدالاضحیٰ کے موقع پر نشر ہونے والے خصوصی کل پاکستان مشاعرے کی میزبانی کے فرائض انجام دیے۔ اُن کے اندازِ گفتگو میں ایک ایسی روانی، شائستگی اور برجستگی پائی جاتی ہے جو سامعین کو ابتدا سے اختتام تک اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔یہ لمحہ نہ صرف اُن کی ذاتی کامیابی تھا بلکہ پوری مسیحی برادری کے لیے ایک تاریخی اور باعثِ فخر موقع بھی ثابت ہوا۔
گزشتہ برس افواجِ پاکستان کی خدمات کے اعتراف میں منعقدہ خصوصی “بنیان المرصوص” مشاعرے میں بھی شہباز چوہان نے خصوصی طور پر اپنا کلام پیش کیا، جسے سامعین نے بے حد سراہا۔ اُن کے اشعار میں وطن سے محبت، قومی وقار اور افواجِ پاکستان کے لیے عقیدت نمایاں تھی۔
بلاشبہ شہباز چوہان نہ صرف مسیحی کمیونٹی کا فخر ہیں بلکہ ادب، ثقافت اور قومی ہم آہنگی کا ایک روشن استعارہ بھی ہیں۔ اُن کی شخصیت اس پاکستان کی نمائندہ ہے جہاں صلاحیت، محنت اور کردار کو مذہب اور طبقے سے بالاتر ہو کر سراہا جاتا ہے۔
ہم دُعاگو ہیں کہ شہباز چوہان ادب و ثقافت کے اُفق پر اسی طرح روشن ستارے کی مانند چمکتے رہیں، کامیابیاں اُن کا مقدر بنتی رہیں، اور وہ اپنی شاعری، میزبانی اور شائستہ شخصیت کے ذریعے ملک و قوم کا نام مزید روشن کرتے رہیں۔
******


