ملک ،معاشرہ اور اپنا مسکن: ڈاکٹر اختر انجیلی

پریشان کن خبریں بن بلائے،بلکہ دھکے سے ذہن میں داخل ہوکر عجیب و غریب تاثرات اور ہیجانات پیدا کرتی رہتی ہیں۔ یہ سوشل میڈیا اور ساتھ ساتھ بری اور جھوٹی خبروں کا دور بھی ہے ۔ خیر بہت سی سچی خبریں بھی بری اور ناقابل یقین لگتی ہیں۔چند دن پہلے کی خبر تھی کہ اسلام آباد سے بہت سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والے اشخاص کسی ہوٹل یا مختلف ہوٹلوں میں موجود تھے،یہاں برطانیہ میں بھی ہرروز نہیں تو ہر ہفتے سینکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی بدیشی فرانس سے ہوتے ہوئے، انگلش چینل کو ربڑ کی کشتیوں پر سوار ہوکر انگلینڈ کے ساحلوں پر آٹپکتے ہیں ۔موقف یہ ہوتا ہے کہ ہم سیاسی یا مذہبی بنیادوں پر ستائے ہوئے لوگ ہیں ،ہم جہاں سے آئے ہیں وہاں ہماری جانوں کو خطرہ ہے اس لئے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے تحت ہمیں برطانیہ میں پناہ دی جائے۔

آخر کیوں فرانس میں یا یونان میں یا اٹلی میں کیوں نہیں ؟ بات سادہ سی ہے مگر بات بہت گہری ہے۔ کسی کے گھر میں بھی غیر قانونی طور پر گھسنا اور پھر وہاں پر ان کے قوانین اور تہذیبی اقدار کو چیلنج کرنا،ان لوگوں کو زچ کرنا اور اگر وہاں کے مقامی لوگ ان غیر اخلاقی حرکتوں کو روکنے کےلئے اقدامات کریں تو اُلٹا اُنہیں پر تعصب اور اسلام و فوبیا کے الزمات لگانا کہاں کی منطق ہے۔ جو معاملات انگلینڈ کے ہیں وہ تو اپنی جگہ ،جولائی کے آخری ہفتے میں مراکش سے کوئی ساٹھ ستر ہزار لوگ سپین میں غیر قانونی طور پر گھس آئے۔ مراکش اور سپین کے ساحلوں میں کوئی آٹھ دس میل کا فاصلہ ہے جب کہ فرانس کے ساحل کے لیے اور انگلستان کے آبنائے ڈوور میں بیس اکیس میل کا فاصلہ ہے۔ خیر سپین نے تو اپنی پولیس اور افواج کا استعمال کرکے ان اوٹ پٹانگ ” حملہ آواروں “ کو واپس مراکش پہنچا کر دم لیا۔ مگر حیرت اس بات کی ہے کہ آج کی دنیا میں بھی لوگوں کے ذہنوں میں یہ خبط کیوں سمایا ہوا ہے کہ ہم جب چاہیں، جس ملک میں جا کر گھس سکتے ہیں ،اور ان میں سے ننانوے فیصد ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نہ کوئی ہنر جانتے ہیں اور نہ کوئی کام کرنا چاہتے،اکثر جرائم پیشہ ،اور جنسی لحاظ سے ذہنی بیمار یہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں یورپ کے مہذب ملکوں کو تو لوٹ کھسوٹ کرکے تباہ کر رہے ہیں ۔ مگر بعض ملکوں کو تو تقریباً تباہ کرچکے ہیں۔

ملک گھروں کی طرح ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں غیر قانونی غیر ملکی پاکستان کےلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ اور سپین کےلئے بھی غیر قانونی طور پر آنے والے غیر ملکی مسائل پیداکر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ملکوں کی حدود کا احترام مہذب دنیا کے لئے بہت ضروری ہے بالکل اسی طرح جیسے مہذب معاشروں کےلئے گھروں کی چادر اور چاردیواری کا احترام ہوتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر گھروں کے اندر گھر کے مکینوں کا احترام ضروری ہے۔

یہ فلسفہ کے ہم جب چاہیں کسی بھی ملک میں گھس سکتے ہیں،جب چاہیں کسی کی کی بہو بیٹی کے ساتھ زیادتی کر سکتے ہیں یا انہیں اغوا کرکے انہیں اسلام قبول کروا کے ان سے نکاح کرسکتے ہیں ۔یہ سوچ ہوسکتا ہے کہ کوئی دس پندرہ سو سال پہلے قابل برداشت تھی مگر اب نہیں ۔اس سوچ کے پیچھے جو بھی نظریاتی ڈھانچہ ہے وہ نہ تو کسی اخلاقی پیمانہ پر پورا اترتا ہے اور نہ ہی اسے کسی قانونی کسوٹی پر پرکھ کر کھرا ثابت کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں یہ سوچ اکثریت میں بہت گہرے طور پر سرائیت کرچکی ہے۔ مسیحی ہندو اور دیگر اقلیتی مذاہب کی بچیوں کا اغوا، جبری تبدیلی مذہب اور پھر فوراً نکاح کی خبریں آتی ہی رہتی ہیں۔

اس بدحالی میں کچھ حصہ ہمارا اپنا بھی ہے۔ ہم نے یعنی ہم مسیحیوں نے اپنے گھروں کو وہ محفوظ مسکن نہیں بنایا جہاں پر ہماری بچیاں اور بہو بیٹیاں اپنے ایمان اور اپنی روحانی اقدار میں پختگی محسوس کرسکیں۔ ہمارے گرجا گھروں نے بھی چندہ تو ہر اتوار اکھٹا کیا ہے مگر ہمارے بچوں اور بچیوں کو خاندانی تعلیمات کے زبور سے آراستہ نہیں کیا۔ یہ ایک ایسا دکھ ہے جس کا ذکر تو بہت کرتے ہیں مگر عملی طور پر اس مصیبت سے نمٹنے کا سامان کوئی نہیں کرتا تھا۔

اب ایک نہایت ہی اچھی اور جانفزا خبر آئی ہے کہ ڈھائی سال کی مسلسل محننت کے بعد نعیم سلیم صاحب اور ان کی ٹیم کی بنائی ہوئی فلم ” مسکن“ نمائش کےلئے ریلیز ہوچکی ہے۔” مسکن“ ایک گھنٹے اور چونتیس منٹ لمبی ہے۔ مگر انہوں نے اس میں مسیحی خاندانی اور ازدواجی زندگی کے ان اصولوں کو اجاگر کیا ہیں جو یقیناً کام تو ہمارے مذہبی رہنماؤں کا تھا مگر جسے کرنے میں وہ سالوں سے ناکام رہے۔میں نے شروع میں لکھا تھا کہ پریشان کن خبریں بن بلائے بلکہ دھکے سے ذہن میں داخل ہوکر عجیب و غریب تاثرات اور ہیجانات پیدا کرتی رہی ہیں،مگر فلم ” مسکن “ کی تکمیل اور نمائش نے دل میں ایک عجیب طرح فرحت اور روح پرور جذبات کا طلاطم پیدا کردیا ہے۔محترم نعیم سلیم اور ” مسکن“ کی ساری ٹیم اور کاسٹ کا بہت بہت شکریہ

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading